تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

رسوائیاں

ایہہ ہمّت ہُن میری، پاواں عزتاں یا رسوائیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 5
اڈن کھٹولیاں وانگر رُتاں، ہتھ میرے وچ آئیاں
ایہہ ہمّت ہُن میری، پاواں عزتاں یا رسوائیاں
جیُّون دی ایس جاگیر دا سودا ہُن تے کرنا ائی پَینا
نِکیاں نِکیاں دُکھاں کولوں، لّیاں سن کیوں سائیاں
تج کے سانوں اوہدا جیئون وی، بنیا اے پچتاوا
پہنچ دیاں نیں ساڈے تیک وی، اوہدیاں اُڈدیاں وائیاں
یا تے منظرائی من بھاؤندے، جگ وچوں اُٹھ گئے نیں
یا فر ساڈیاں اکھیاں ائی، رہ گئیاں نیں پتھرائیاں
میں اپنے مُنہ متّھے اُتے، سوچ دی کالک تھپی
اکھیاں گِردے ٹوئے پوا لئے‘ منُہ تے پے گئیاں چھائیاں
اپنیاں رُکدیاں قدماں اُتیّ ہُن کاہدا پچھتاؤنا
مَیں جد اپنی راہ وِچ ماجدُ، آپ کَڑُکیاں لائیاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)
Advertisements

جینا ابھی دے گا مجھے رسوائیاں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا
جینا ابھی دے گا مجھے رسوائیاں کیا کیا
کچھ قطعِ رگِ جان سے، کچھ قُلقُلِ خوں سے
بجتی ہیں محلّات میں شہنائیاں کیا کیا
خود نام پہ دھبے ہیں جو، ہاں نام پہ اُن کے
ہوتی ہیں یہاں انجمن آرائیاں کیا کیا
قوسوں میں فلک کی، خمِ ابرو میں ہَوا کے
دیکھی ہیں یہاں خلق نے دارائیاں کیا کیا
جو چھید ہوئے تھے کبھی دامانِ طلب میں
دیں دستِ غضب نے اُنہیں، پہنائیاں کیا کیا
ہٹ کر بھی ہمیں پرورشِ جان سے ماجد
کرنی ہیں بہم اور توانائیاں کیا کیا
ماجد صدیقی

تتلیوں پھولوں کی بزم آرائیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
پت جھڑوں میں کیا سے کیا یاد آئیاں
تتلیوں پھولوں کی بزم آرائیاں
آئنے چہروں کے گرد آلود ہیں
پانیوں پر جم چلی ہیں کائیاں
مفلسی ٹھہرے جہاں پا زیبِ پا
ان گھروں میں کیا بجیں شہنائیاں
مکر سے عاری ہیں جو اپنے یہاں
عیب بن جاتی ہیں وہ دانائیاں
جو نہ جانیں بے دھڑک منہ کھولنا
ہیں اُنہی کے نام سب رسوائیاں
خلق میں ماجدؔ ہو نا مقبول اور
اور لا شعروں میں تُو پہنائیاں
ماجد صدیقی

لب بہ لب اطراف میں، خاموشیاں اُگنے لگیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
ہم بھی کہتے ہیں یہی، ہاں کھیتیاں اُگنے لگیں
لب بہ لب اطراف میں، خاموشیاں اُگنے لگیں
ناخلف لوگوں پہ جب سے، پھول برسائے گئے
شاخچوں پر انتقاماً تتلیاں اُگنے لگیں
ان گنت خدشوں میں کیا کیا کچھ، منافق بولیاں
دیکھا دیکھی ہی، سرِ نوکِ زباں اُگنے لگیں
آنکھ تو تر تھی مگرمچھ کی، مگر کیا جانیئے
درمیاں ہونٹوں کے تھیں، کیوں پپڑیاں اُگنے لگیں
یُوں ہُوا، پہلے جبنیوں سے پسینہ تھا رواں
فرطِ آبِ شور سے، پھر کائیاں اگنے لگیں
اک ذرا سا ہم سے ماجدؔ، بدگماں ٹھہرا وُہ اور
بستیوں میں جا بہ جا، رُسوائیاں اُگنے لگیں
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑