تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

راہوں

کیا کچھ انس ہمیں تھا گاؤں کی راہوں سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 119
پگڈنڈی پگڈنڈی پھر تے تھے شاہوں سے
کیا کچھ انس ہمیں تھا گاؤں کی راہوں سے
یاد ہے جیب میں دال کی تازہ پھلیاں بھر کے
شام کو بکریاں جا کے وصولنا چرواہوں سے
یاد ہے عید کو پیڑ پیڑ پر پینگ جھلانا
اور نظر کا ٹکراؤبے پرواہوں سے
یاد ہیں قدغن و بندش کے وہ سلسلے سارے
چُوڑیاں لپٹی دوشیزاؤں کی بانہوں سے
یاد ہیں چوپالوں پر کبھی کبھی کے بھنگڑے
جن کے درودیوار تھے سب جلوہ گاہوں سے
یاد ہیں اک جانب ہونٹوں پہ ہنسی کی پھوہاریں
دوسری جانب شعلے سے اٹھتے آہوں سے
یاد ہیں اک جانب وہ نچھاور ہوتے رشتے
دوسری جانب واسطے اپنے بدخواہوں سے
یاد ہیں ماجد اک جانب وہ ٹوٹکے ٹونے
دوسری جانب فیض کے حیلے درگاہوں سے
ماجد صدیقی

خوف دراڑیں ہوں کیوں شہرپناہوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 63
بَیر نہ ہوں باہم گر اپنے شاہوں میں
خوف دراڑیں ہوں کیوں شہرپناہوں میں
جانے کب آئے وہ راج بہاروں کا
چہرہ چہرہ پھول کھلے ہوں راہوں میں
غاصبوں جابروں کے جتنے فرزند ملے
ہاں اُن ہی کا شمارہے اب ذی جاہوں میں
پھول جو توڑنا چاہے لے گئے اور اُنہیں
خالی خُولی ٹہنیاں رہ گئیں بانہوں میں
اِس دنیا میں جانے ہمِیں کیوں، ایسے ہیں
گِنے گئے جو بے راہوں، گُمراہوں میں
مُلکوں مُلکوں اپنا تأثر بِگڑا ہے
خلقِ خدا ٹھہری، اپنے بدخواہوں میں
اپنے پاس ہے ماجِد! مایہ، بس اتنی
یہ جو گُہراشکوں کے ہیں آنکھوں، آہوں میں
ماجد صدیقی

اُبھر رہے ہیں شرارے سے کیوں نگاہوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 106
کوئی تو آگ ہے اُتری جواب کے آہوں میں
اُبھر رہے ہیں شرارے سے کیوں نگاہوں میں
پہنچ گئے ہیں یہ کس مہرباں کی سازش سے
سکوں کی آس لیے، جبر کی پناہوں میں
اُفق سے دل کی تمناؤں کے جو اُبھرا تھا
پلٹ کے چاند وہ آیا نہ اپنی باہوں میں
بچے گا دام سے کیا اُس کے کوئی زندانی
ستم نے کانچ بچھائے ہوئے راہوں میں
ہمارا جرم ہوئی موسموں سے نم طلبی
شمار بات نہ کیا کیا ہوئی گناہوں میں
وہ مرغ باز ہُوا نام پر قفس جن کے
ہمیں بھی جانیے اُنہی کے خیر خواہوں میں
ہے جب سے جبر کا پہرہ سروں پہ اے ماجدؔ
نہ نفرتوں میں مزہ ہے نہ لطف چاہوں میں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑