تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دیکھتا

بتا جاناں! تُو اِن میں ہے بسا کیا؟

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 180
شگفتِ گُل ہے کیا؟ رقص صبا کیا؟
بتا جاناں! تُو اِن میں ہے بسا کیا؟
چڑھا کر ناک چھوتا ہے جو ہر شے
لکھے گا امتحاں میں لاڈلا کیا؟
پسِ ابروہوا جھانکے ہے چندا
حیاداری میں وہ ہم پر کُھلا کیا؟
تڑپتے بوٹ جیسے گھونسلوں میں
سسکنے لگ پڑی خلقِ خُدا کیا؟
نگاہِ شاہ طُرّوں پر لگی تھی
بہ سوئے کمتراں وہ دیکھتا کیا؟
نہیں جب سامنے، جس نے بنائے
نصیبوں کا کریں اُس سے گِلا کیا؟
لبوں کو ہے جو لپکا چُومنے کا
ہماری اِس میں ہے ماجد خطا کیا؟
ماجد صدیقی

خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے
خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے
انگوٹھہ منہ سے نکلا ہے تو بچّہ
نجانے چیخنے کیوں لگ پڑا ہے
کسی کو پھر نگل بیٹھا ہے شاید
سمندر جھاگ سی دینے لگا ہے
گماں یہ ہے کہ بسمل کے بدن میں
کسی گھاؤ کا مُنہ پھر کُھل گیا ہے
ہوئی ہر فاختہ ہم سے گریزاں
نشاں جب سے عقاب اپنا ہوا ہے
وُہ دیکھو جبر کی شدّت جتانے
کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے
بڑی مُدّت میں آ کر محتسب بھی
فقیہہِ شہر کے ہتّھے چڑھا ہے
لگے جیسے خطا ہر شخص اپنی
مِرے ہی نام لکھتا جا رہا ہے
بھُلا کر دشت کی غُّراہٹیں سب
ہرن پھر گھاٹ کی جانب چلا ہے
چلیں تو سیدھ میں بس ناک کی ہم
اِسی میں آپ کا، میرا بھلا ہے
دیانت کی ہمیں بھی تاب دے وُہ
شجر جس تاب سے پھُولا پھَلا ہے
بہلنے کو، یہ وُہ بستی ہے جس میں
بڑوں کے ہاتھ میں بھی جھنجھنا ہے
ملانے خاک میں، میری توقّع
کسی نے ہاتھ ٹھوڑی پر دھرا ہے
نہیں ہے سیج، دن بھی اُس کی خاطر
جو پہرہ دار شب بھر جاگتا ہے
کھِلے تو شاذ ہی مانندِ نرگس
لبوں پر جو بھی حرفِ مُدعّا ہے
نجانے ذکر چل نکلا ہے کس کا
قلم کاغذ تلک کو چُومتا ہے
اَب اُس سے قرب ہے اپنا کُچھ ایسا
بتاشا جیسے پانی میں گھُلا ہے
ہوئی ہے اُس سے وُہ لمس آشنائی
اُسے میں اور مجھے وُہ دیکھتا ہے
وُہ چاند اُترا ہوا ہے پانیوں میں
تعلّق اُس سے اپنا برملا ہے
نِکھر جاتی ہے جس سے رُوح تک بھی
تبسّم میں اُسی کے وُہ جِلا ہے
مَیں اُس سے لُطف کی حد پوچھتا ہوں
یہی کچُھ مجُھ سے وُہ بھی پُوچتھا ہے
بندھے ہوں پھُول رومالوں میں جیسے
مری ہر سانس میں وُہ یُوں رچا ہے
لگے ہے بدگماں مجھ سے خُدا بھی
وُہ بُت جس روز سے مجھ سے خفا ہے
جُدا ہو کر بھی ہوں اُس کے اثر میں
یہی تو قُرب کا اُس کے نشہ ہے
کہیں تارا بھی ٹوٹے تو نجانے
ہمارا خُون ہی کیوں کھولتا ہے
ہمارے رزق کا اِک ایک دانہ
تہِ سنگِ گراں جیسے دبا ہے
مِری چاروں طرف فریاد کرتی
مِری دھرتی کی بے دم مامتا ہے
رذالت بھی وراثت ہے اُسی کی
ہر اِک بچّہ کہاں یہ جانتا ہے
چھپا جو زہر تھا ذہنوں میں، اَب وُہ
جہاں دیکھو فضاؤں میں گھُلا ہے
اجارہ دار ہے ہر مرتبت کا
وُہی جو صاحبِ مکر و رِیا ہے
سِدھانے ہی سے پہنچا ہے یہاں تک
جو بندر ڈگڈگی پر ناچتا ہے
سحر ہونے کو شب جس کی، نہ آئے
اُفق سے تا اُفق وُہ جھٹپٹا ہے
نظر والوں پہ کیا کیا بھید کھولے
وُہ پتّا جو شجر پر ڈولتا ہے
وہاں کیا درسِ بیداری کوئی دے
جہاں ہر ذہن ہی میں بھُس بھرا ہے
ہوئی ہے دم بخود یُوں خلق جیسے
کوئی لاٹو زمیں پر سو گیا ہے
جہاں جانیں ہیں کچھ اِک گھونسلے میں
وہیں اِک ناگ بھی پھُنکارتا ہے
شجر پر شام کے، چڑیوں کا میلہ
صدا کی مشعلیں سُلگا رہا ہے
کوئی پہنچا نہ اَب تک پاٹنے کو
دلوں کے درمیاں جو فاصلہ ہے
نجانے رشک میں کس گلبدن کے
چمن سر تا بہ سر دہکا ہوا ہے
بہ نوکِ خار تُلتا ہے جو ہر دم
ہمارا فن وُہ قطرہ اوس کا ہے
یہی عنواں، یہی متنِ سفر ہے
بدن جو سنگِ خارا سے چِھلا ہے
نہیں پنیچوں کو جو راس آسکا وُہ
بُرا ہے، شہر بھر میں وُہ بُرا ہے
پنہ سُورج کی حّدت سے دلانے
دہانہ غار کا ہر دَم کھُلا ہے
جو زور آور ہے جنگل بھی اُسی کی
صدا سے گونجتا چنگھاڑتا ہے
نجانے ضَو زمیں کو بخش دے کیا
ستارہ سا جو پلکوں سے ڈھلا ہے
نہیں ہے کچھ نہاں تجھ سے خدایا!
سلوک ہم سے جو دُنیا نے کیا ہے
نجانے یہ ہُنر کیا ہے کہ مکڑا
جنم لیتے ہی دھاگے تانتا ہے
نہیں ہے شرطِ قحطِ آب ہی کچھ
بھنور خود عرصۂ کرب و بلا ہے
عدالت کو وُہی دامانِ قاتل
نہ دکھلاؤ کہ جو تازہ دُھلا ہے
گرانی درد کی سہنے کا حامل
وُہی اَب رہ گیا جو منچلا ہے
بہ عہدِ نو ہُوا سارا ہی کاذب
بزرگوں نے ہمیں جو کچھ کہا ہے
سُنو اُس کی سرِ دربار ہے جو
اُسی کا جو بھی فرماں ہے، بجا ہے
ہُوا ہے خودغرض یُوں جیسے انساں
ابھی اِس خاک پر آ کر بسا ہے
بتاؤ خلق کو ہر عیب اُس کا
یہی مقتول کا اَب خُوں بہا ہے
ہُوا ہے جو، ہُوا کیوں صید اُس کا
گرسنہ شیر کب یہ سوچتا ہے
بہم جذبات سوتیلے ہوں جس کو
کہے کس مُنہ سے وُہ کیسے پلا ہے
ملیں اجداد سے رسمیں ہی ایسی
شکنجہ ہر طرف جیسے کَسا ہے
جو خود کج رَو ہے کب یہ فرق رکھّے
روا کیا کچھ ہے اور کیا ناروا ہے
ذرا سی ضو میں جانے کون نکلے
اندھیرے میں جو خنجر گھونپتا ہے
سحر ہو، دوپہر ہو، شام ہو وُہ
کوئی بھی وقت ہو ہم پر کڑا ہے
جِسے کہتے ہیں ماجدؔ زندگانی
نجانے کس جنم کی یہ سزا ہے
کسی کا ہاتھ خنجر ہے تو کیا ہے
مرے بس میں تو بس دستِ دُعا ہے
جھڑا ہے شاخ سے پتّا ابھی جو
یہی کیا پیڑ کا دستِ دُعا ہے
اَب اُس چھت میں بھی، ہے جائے اماں جو
بہ ہر جا بال سا اک آ چلا ہے
وُہ خود ہر آن ہے نالوں کی زد میں
شجر کو جس زمیں کا آسرا ہے
نظر کیا ہم پہ کی تُو نے کرم کی
جِسے دیکھا وُہی ہم سے خفا ہے
بڑوں تک کو بنا دیتی ہے بونا
دلوں میں جو حسد جیسی وبا ہے
جو موزوں ہے شکاری کی طلب کو
اُسی جانب ہرن بھی دوڑتا ہے
گھِرے گا جور میں جب بھی تو ملزم
کہے گا جو، وُہی اُس کی رضا ہے
تلاشِ رزق میں نِکلا پرندہ
بہ نوکِ تیر دیکھو جا سجا ہے
کہے کیا حال کوئی اُس نگر کا
جہاں کُتّا ہی پابندِ وفا ہے
وُہ پھل کیا ہے بہ وصفِ سیر طبعی
جِسے دیکھے سے جی للچا رہا ہے
بظاہر بند ہیں سب در لبوں کے
دلوں میں حشر سا لیکن بپا ہے
جہاں رہتا ہے جلوہ عام اُس کا
بہ دشتِ دل بھی وُہ غارِ حرا ہے
نمائش کی جراحت سے نہ جائے
موادِ بد جو نس نس میں بھرا ہے
نہ پُوچھے گا، بکاؤ مغویہ سا
ہمیں کس کس ریا کا سامنا ہے
نجانے نیم شب کیا لینے، دینے
درِ ہمسایہ پیہم باجتا ہے
مہِ نو سا کنارِ بام رُک کر
وُہ رُخ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے
کرا کے ماں کو حج دُولہا عرب سے
ویزا کیوں ساس ہی کا بھیجتا ہے
لگے تازہ ہر اک ناظر کو کیا کیا
یہ چہرہ آنسوؤں سے جو دھُلا ہے
ہُوا جو حق سرا، اہلِ حشم نے
اُسی کا مُنہ جواہر سے بھرا ہے
بہن اَب بھی اُسے پہلا سا جانے
وُہ بھائی جو بیاہا جا چکا ہے
مسیحاؤں سے بھی شاید ہی جائے
چمن کو روگ اَب کے جو لگا ہے
ہمیں لگتا ہے کیوں نجمِ سحر سا
وُہ آنسو جو بہ چشمِ شب رُکا ہے
پھلوں نے پیڑ پر کرنا ہے سایہ
نجانے کس نے یہ قصّہ گھڑا ہے
اُترتے دیکھتا ہوں گُل بہ گُل وُہ
سخن جس میں خُدا خود بولتا ہے
بشارت ہے یہ فرعونوں تلک کو
درِ توبہ ہر اک لحظہ کھُلا ہے
نہیں مسجد میں کوئی اور ایسا
سرِ منبر ہے جو، اِک باصفا ہے
خُدا انسان کو بھی مان لوں مَیں
یہی شاید تقاضا وقت کا ہے
دیانت سے تقاضے وقت کے جو
نبھالے، وُہ یقینا دیوتا ہے
مداوا کیا ہمارے پیش و پس کا
جہاں ہر شخص دلدل میں پھنسا ہے
لگا وُہ گھُن یہاں بدنیّتی کا
جِسے اندر سے دیکھو کھوکھلا ہے
عناں مرکب کی جس کے ہاتھ میں ہے
وُہ جو کچھ بھی اُسے کہہ دے روا ہے
کشائش کو تو گرہیں اور بھی ہیں
نظر میں کیوں وُہی بندِ قبا ہے
بغیر دوستاں، سچ پُوچھئے تو
مزہ ہر بات ہی کا کرکرا ہے
بنا کر سیڑھیاں ہم جنس خُوں کی
وُہ دیکھو چاند پر انساں چلا ہے
پڑے چودہ طبق اُس کو اُٹھانے
قدم جس کا ذرا پیچھے پڑا ہے
مری کوتاہ دستی دیکھ کر وُہ
سمجھتا ہے وُہی جیسے خُدا ہے
تلاشِ رزق ہی میں چیونٹیوں سا
جِسے بھی دیکھئے ہر دم جُتا ہے
وُہی جانے کہ ہے حفظِ خودی کیا
علاقے میں جو دشمن کے گھِرا ہے
صبا منت کشِ تغئیرِ موسم
کلی کھِلنے کو مرہونِ صبا ہے
بصارت بھی نہ دی جس کو خُدا نے
اُسے روشن بدن کیوں دے دیا ہے
فنا کے بعد اور پہلے جنم سے
جدھر دیکھو بس اِک جیسی خلا ہے
ثمر شاخوں سے نُچ کر بے بسی میں
کن انگاروں پہ دیکھو جا پڑا ہے
یہاں جس کا بھی پس منظر نہیں کچھ
اُسے جینے کا حق کس نے دیا ہے
کوئی محتاج ہے اپنی نمو کا
کوئی تشنہ اُسی کے خُون کا ہے
وطن سے دُور ہیں گو مرد گھر کے
بحمداﷲ گھر تو بن گیا ہے
ٹلے خوں تک نہ اپنا بیچنے سے
کہو ماجدؔ یہ انساں کیا بلا ہے
ماجد صدیقی

درِ زنداں ہمیں پر ہی کھُلا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 133
نجانے کس جنم کی یہ سزا ہے
درِ زنداں ہمیں پر ہی کھُلا ہے
شکستِ آرزو کا رنج دل میں
زباں پر منجمد حرفِ دُعا ہے
وہی ہونا ہے، ہیں آثار جس کے
یہ دل کن وسوسوں میں مبتلا ہے
کسی پیاسے کو جیسے موج دیکھے
کُچھ ایسے ہی ہمیں وُہ دیکھتا ہے
ترستا ہے کسی دستِ طلب کو
گلاب اِک باڑھ سے نت جھانکتا ہے
اُسے چھیڑیں نہ ہم اُکتا کے اُس سے
یہی اُس شوخ کا بھی مُدّعا ہے
عِناں جب ہاتھ میں دل کی ہے اُس کے
وُہ جو کچھ بھی کرے ماجدؔ! روا ہے
ماجد صدیقی

بدن ، پیہم اُدھڑتا جا رہا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
گھُٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے
بدن ، پیہم اُدھڑتا جا رہا ہے
نگاہِ نا رسا تک پر کھُلا ہے
ہمارا درد ، پیوندِ قبا ہے
پہن لے دام ، لقمے کی ہوس میں
پرندہ عاقبت کب دیکھتا ہے
اثر ناؤ پہ جتلانے کو اپنا
سمندر ، ہم پہ موجیں تانتا ہے
بھنویں جس کی ، کمانوں سی تنی ہیں
قرابت دار وہ ، دربار کا ہے
کسی کے ذوق کی تسکین ٹھہرا
ہرن کا سر ، کہیں آ کر سجا ہے
دیا جھٹکا ذرا سا زلزلے نے
مکاں لیکن ابھی تک ، ڈولتا ہے
لگے سن کر سخن چاہت کا ماجد
کہیں تنّور میں ، چھینٹا پڑا ہے
ماجد صدیقی

نجانے کون سے جنگل میں آ بسا ہوں مَیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 68
نظر اُٹھے بھی تو خُود ہی کو دیکھتا ہوں مَیں
نجانے کون سے جنگل میں آ بسا ہوں مَیں
یہ کس ہجوم میں تنہا کھڑا ہوا ہوں مَیں
یہ اپنے آپ سے ڈرنے سا کیوں لگا ہوں مَیں
وگرنہ شدّتِ طوفاں کا مجھ کو ڈر کیا تھا
لرز رہا ہوں کہ اندر سے کھوکھلا ہوں مَیں
یہ کیوں ہر ایک حقیقت لگے ہے افسانہ
یہ کس نگاہ سے دُنیا کو دیکھتا ہوں مَیں
برس نہ مجھ پہ ابھی تندیِ ہوائے چمن
نجانے کتنے پرندوں کا گھونسلا ہوں مَیں
تمہاری راہ میں وہم و گماں کا جال تو تھا
مجھے یہ دُکھ ہے کہ اِس میں اُلجھ گیا ہوں مَیں
یہ کس طرح کی ہے دِل سوزی و خنک نظری
یہ آ کے کون سے اعراف پر کھڑا ہوں مَیں
اِس اپنے عہد میں، اِس روشنی کے میلے میں
قدم قدم پہ ٹھٹکنے سا کیوں لگا ہوں مَیں
مری زمیں کو مجھی پر نہ تنگ ہونا تھا
بجا کہ چاند کو قدموں میں روندتا ہوں مَیں
سکوتِ دہر کو توڑا تو مَیں نے ہے ماجدؔ
یہ ہنس دیا ہوں نجانے کہ رو دیا ہوں مَیں
ماجد صدیقی

اے کاش یہ جان لوں کہ کیا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
مَیں برگ ہوں خاک ہوں ہوا ہوں
اے کاش یہ جان لوں کہ کیا ہوں
تجھ کو جو بہ غور دیکھتا ہوں
مَیں خود ہی پہ رشک کر رہا ہوں
منسوب ہے مجھ سے یہ ستم بھی
انجان دلوں سے کھیلتا ہوں
آؤ کہ یہ رُت نہ پھر ملے گی
مَیں آپ کی راہ دیکھتا ہوں
حالات سے مانگ کر خدائی
حالات سے کھیلنے لگا ہوں
شرماؤ گے دیکھ کر مجھے تُم
مَیں بھی تو تمہارا آئنہ ہوں
آگے کا سلوک جانے کیا ہو
غنچہ سا چمن میں کھِل چلا ہوں
قسمت میں شرر لکھے ہیں ماجدؔ
انگارہ صفت دہک رہا ہوں
ماجد صدیقی

اپنے اندر کے اُس شخص کو دیکھتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
کاش! مَیں جس کے اُوپر ہوں اِک خوں سا
اپنے اندر کے اُس شخص کو دیکھتا
پاگلوں کی طرح وہ تجھے چاہنا
تھا مری سوچ کا وہ بھی اِک زاویہ
مُرغ تھا زد پہ تِیرِ قضا کی مگر
آشیاں تھا کھُلے بازوؤں دیکھتا
ساغرِ مئے پیے، ساتھ خوشبو لیے
در بدر ٹھوکریں کھا رہی تھی ہوا
وہ تو وہ اُس کے ہونے کا احساس بھی
تھا مہک ہی مہک، رنگ ہی رنگ تھا
چاند نکلا ہے ڈوبے گا کچھ دیر میں
چاہیئے بھی ہمیں اِس سمے اور کیا
کیسے بخشے گا آئینِ گلشن ہمیں
ہم نے مَسلا اِسے، دل کہ اِک پھُول تھا
عمر بھر ہم بھی خوشیوں کے منکر رہے
شکر ہے یہ بھی اِک مرحلہ طے ہوا
کیوں ہمیں چھُو کے ماجدؔ گزرنے لگی
آگ میں کیوں جھُلسنے لگی ہے صبا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑