تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دھول

بدلیں چمن کے بس ایسے سارے ہی اصول تو کیا اچّھا ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
پھول پہ منڈلاتی تتلی لے بھاگے پُھول تو کیا اچّھا ہو
بدلیں چمن کے بس ایسے سارے ہی اصول تو کیا اچّھا ہو
ہجر کی گھڑیاں بُجھتی سی چنگاریوں سی راکھ ہوتی جائیں
اُس کے وصل کا لمحہ لمحہ پکڑے طُول تو کیا اچّھا ہو
جو پودا بھی بیج سے پھوٹے کاش وہ پودا سرو نشاں ہو
خاک پہ اُگنے ہی سے اگر باز آئیں ببول تو کیا اچّھا ہو
کاش ہماری جلدوں کے اندر سے جھلکے علم کا غازہ
اپنے چہروں سے دھل جائے جُہل کی دھول تو کیا اچّھا ہو
جس سے بہم میدانِ عمل ہو پھر سے کسی گستاخِ خدا کو
گاہے گاہے سرزد ہو گر ہم سے وہ بھول تو کیا اچّھا ہو
ماجِد کرتے رہو نت تازہ اپنے گلشنِ ذہن کا منظر
پیڑوں سے جھڑ جھڑجائے جو کچھ ہو فضول تو کیا اچّھا ہو
ماجد صدیقی

مردُود، بہت مقبول ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا
مردُود، بہت مقبول ہُوا
ہر طُول کو عرض کیا اُس نے
اور عرض تھا جو وہ طُول ہُوا
پھولوں پہ تصّرف تھا جس کا
وہ دشت و جبل کی دھُول ہُوا
اِک بھول پہ ڈٹنے پر اُس نے
جو کام کیا، وہ اصول ہُوا
گنگا بھی بہم جس کو نہ ہُوا
جلنے پہ وہ ایسا پھول ہُوا
ہو کیسے سپھل پیوندوں سے
ماجد جو پیڑ، ببول ہُوا
ماجد صدیقی

جو بے اصول ہو، کب چاہئیں اصول اُس کو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
چھلک پڑے جو، سُجھاؤ نہ عرض و طول اُس کو
جو بے اصول ہو، کب چاہئیں اصول اُس کو
کھِلا نہیں ہے ابھی پھول اور یہ عالم ہے
بھنبھوڑ نے پہ تُلی ہے، چمن کی دھول اُس کو
ذرا سی ایک رضا دے کے، ابنِ آدم کو
پڑے ہیں بھیجنے، کیا کیا نہ کچھ رسول اُس کو
ہُوا ہے جو کوئی اک بار، ہم رکابِ فلک
زمیں کا عجز ہو ماجد، کہاں قبول اُس کو
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑