تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دھجیاں

ہر قدم پر ہیں کیا کیا نئی تتلیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
خواہش لمس میں جن کے جاتی ہے جاں
ہر قدم پر ہیں کیا کیا نئی تتلیاں
اے ہوا! بارآور ہوئی ہٹ تِری
لے اُڑا لے گلِ زرد کی پتیاں
صحنِ گلشن میں گرداں ہیں جو چار سُو
جانے کِن عہد ناموں کی ہیں دھجیاں
پُوچھتے کیا ہو تم بس میں انسان کے
کِن درندوں کی ہیں خون آشامیاں
آئنہ، روز دکھلائے ماجدؔ ہمیں
سیلِ آلام کے جانے، کیا کیا نشاں
ماجد صدیقی

اور نا خلف کے منہ سے مِلیں، گالیاں الگ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
ہوتا ہے ایسے ربط سے جی کا زیاں الگ
اور نا خلف کے منہ سے مِلیں، گالیاں الگ
ہونے کو ہو تو جائے ادا ایک فرضِ خاص
ماں باپ بھی ہوں خاک بہ سر، بیٹیاں الگ
جاتی ہے اپنی کم نظری سے اِدھر جو آن
اُڑتی ہیں جسم و جاں کی اُدھر دھجیاں الگ
ڈالی جو خاک سر پہ ہمارے، زمین نے
برسا کیا ہے ہم پہ اُدھر آسماں الگ
توقیر بھی بدلتی ہے، تحقیر میں کبھی
حالات جس طرح کا بھی دے دیں نشاں الگ
لیکھوں میں شخص شخص کے لکّھی ملے یہاں
ناطے سے بِنت بِنت کے اِک داستاں الگ
ہم گُل بہ کف تھے، سنگ بہ کف مل گئے ہمیں
اُترا ہے اب کے آنکھ میں ماجد سماں الگ
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑