تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دھارے

منافع سارے اوروں کے، خسارے سب ہمارے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 215
سیہ بختی، گراوٹ پر اجارے سب ہمارے ہیں
منافع سارے اوروں کے، خسارے سب ہمارے ہیں
نگر میں نام پر الزام ہے جن کے، شقاوت کا
بظاہر خیر کے ہیں جو ادارے سب ہمارے ہیں
بھلے وہ شِیر میں پانی کے ہوں یا جھوٹ کے سچ میں
ملاوٹ پر جو مبنی ہوں وہ دھارے سب ہمارے ہیں
شرارت ہو کہیں برپا ہمارے سر ہی آتی ہے
سُجھائیں بد ظنی ہی جو اشارے سب ہمارے ہیں
کہیں سے ہاتھ جگنو بھی جو آ جائیں تو ہم سمجھیں
فلک پر جس قدر ہیں ماہ پارے سب ہمارے ہیں
ہمارے پہلوؤں میں جو سلگتے ہیں ہمہ وقتی
جو ماجد وسوسوں کے ہیں شرارے، سب ہمارے ہیں
ماجد صدیقی

منافع سارے اوروں کے خسارے سب ہمارے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 89
سیہ بختی، گراوٹ پر اجارے سب ہمارے ہیں
منافع سارے اوروں کے خسارے سب ہمارے ہیں
نگر میں نام پر الزام ہے جن کے، شقاوت کا
بظاہر خیر کے ہیں جو ادارے سب ہمارے ہیں
بھلے وہ شیر میں پانی کے ہوں یا جھوٹ کے سچ پر
ملاوٹ پر جو مبنی ہوں وہ دھارے سب ہمارے ہیں
شرارت ہو کہیں برپا ہمارے سر ہی آتی ہے
سجھائیں بدظنی ہی جو اشارے سب ہمارے ہیں
کہیں سے ہاتھ جگنو بھی جو آ جائیں تو ہم سمجھیں
فلک پر جس قدر ہیں ماہ پارے سب ہمارے ہیں
ہمارے پہلوؤں میں جو سلگتے ہیں ہمہ وقتی
جو ماجد وسوسوں کے ہیں شرارے سب ہمارے ہیں
ماجد صدیقی

پلکوں پہ وُہ جھلمل سے سارے، مری توبہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
رنجش میں پسِ چشم اشارے، مری توبہ
پلکوں پہ وُہ جھلمل سے سارے، مری توبہ
کس درجہ سبکسار کیا، جذبِ جنوں کو
محفل سے وُہ رخصت کیا اِشارے، مری توبہ
اظہارِ تمّنا ہی کیا تھا مگر اُس پر
انداز عتابی وہ تمہارے، مری توبہ
سُرخی سی لب و چشم میں وہ طیش و حیا کی
بپھرے ہوئے دریا کے کنارے، مری توبہ
اک شور سا رَگ رَگ میں، تمازت دل و جاں میں
آثار قیامت کے وُہ سارے، مری توبہ
جو پیکرِ اُمید تھا دل میں وُہی شق تھا
تھیں شوخ نگاہیں کہ وُہ آرے، مری توبہ
ماجدؔ سرِ اغیار جو گزری وُہی لکھے
کیا رُوپ قلم نے ترے دھارے، مری توبہ
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑