تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دھاریاں

گلیاں دی نُکڑاں توں، مہک نئیں ایں اُٹھدی سُنجیاں نیں پیار دے، چوبارے دیاں باریاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 46
جنہاں وچوں کھُلدے سی سدھراں دے در کدیں تھائیں اوہ اُلار دیاں بُسیاں نیں ساریاں
گلیاں دی نُکڑاں توں، مہک نئیں ایں اُٹھدی سُنجیاں نیں پیار دے، چوبارے دیاں باریاں
مچیا ہنیر جیہا رُتاں والے پھیر توں جے ایہدے وچ لگی، پِلکارے جنی دیر نئیں
سَوکھ دیاں حرصاں چ، آس دیاں بدلاں توں بنّے، بنّے پَھنڈیاں نیں، چِڑیاں وچاریاں
سدھراں دے بُوٹڑے تے بُور وی نہ پیاسی جے ایہدے اُتے آوندا، شباب دُور نسیا
پَتراں نُوں جھم جھاڑ، خاک وچ رولیا اے ویلڑے نے چنگے رنگ، ٹہنیاں نکھاریاں
مُڑ مُڑ منگدا ایں، ایدوں ودھ ہور بھلا رب دے دواریوں، پچھان کیہی ماجداُ
اکھاں وچوں، ڈوہنگیاں ریتنجناں دی زر ڈلھے گلھاں اتے اتھراں نیں، نُور دیاں دھاریاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ہو کرم یا قہر ہر دو کے میاں جینا تو ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 140
چرخ سے بوندیں گریں یا بجلیاں جینا تو ہے
ہو کرم یا قہر ہر دو کے میاں جینا تو ہے
سندھ اور پنجاب کا چاہے عذابِ سَیل ہو
کربلا سا دشت ہو چاہے زباں جینا تو ہے
ہم پہ واجب آمروں کے حکم کی تعمیل بھی
ہوں بھلے جمہوریت کی تلخیاں جینا تو ہے
ہو بھلے نازک بدن پر مہرباں راتوں کی اوس
ہوں بھلے پیروں تلے چنگاریاں جینا تو ہے
چہرہ چہرہ منعکس چاہے ہلالِ عید ہو
رُو بہ رُو شکنوں کی ہوں گلکاریاں جینا تو ہے
چُھٹ کے غیروں سے گرفتِ خویشگاں میں ہوں اسیر
ہوں غلامی کی گلے میں دھاریاں جینا تو ہے
آپ اُنہیں ماجد قفس کی تیلیاں کہہ لیں بھلے
سو بہ سو چاہے ہوں ذمّے داریاں جینا تو ہے
ماجد صدیقی

لاحق ہیں ہر شخص کو قدم قدم بے زاریاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
جیب میں گھٹتی کوڑیاں، نام لکھیں زرداریاں
لاحق ہیں ہر شخص کو قدم قدم بے زاریاں
اصل نہ ہو تو سُود کیا، ہو اپنی بہبود کیا
کیسی دُوراندیشیاں، کاہے کی بیداریاں
گُل جی اور رئیس نے، بھٹو اور سعید نے
بُھگتیں بدلے خَیر کے کیا کیا کچھ خوں خواریاں
ہجرکے در بھی کھول دیں، وصل کے در بھی وا کریں
موٹر وے پر دوڑتی آتی جاتی لاریاں
پنچھی وہی غلام ہوں، وہی اسیرِ دام ہوں
جنکے تنوں پر نقش ہوں گردن گردن دھاریاں
لطف اُنہی کے نام ہوں، اِس دوروزہ زیست میں
جن کے عزم بلند ہوں، بالا ہوں جیداریاں
اب بھی جھلکیں ماجدا! نقش نظر میں گاؤں کے
پینگ جھلاتی عید کو پتلی لانبی ناریاں
ماجد صدیقی

نئی نسلوں کو لاحق ہو چلیں بیماریاں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
وراثت میں اِنہیں ملنے لگیں عیّاریاں کیا کیا
نئی نسلوں کو لاحق ہو چلیں بیماریاں کیا کیا
کوئی فتنہ کوئی لاشہ اِنہیں مل جائے شورش کو
برائے تخت، نا اہلوں کی ہیں تیّاریاں کیا کیا
ارادت کے تسلسل کی، غلامانہ اطاعت کی
ہماری گردنوں کے گرد بھی ہیں دھاریاں کیا کیا
نمو بھی دیں، تحفّظ بھی کریں ہر پیڑ کا لیکن
جھڑیں تو نام پتوں کے، رقم ہوں خواریاں کیا کیا
جنہیں درکار ہیں قالین چلنے کو نجانے وہ
کرائیں گے لہو سے خاک پر، گُلکاریاں کیا کیا
حقائق سے ڈرانے کو، طلسمِ شر دکھانے کو
سرِ اخبار ماجدؔ نقش ہیں، چنگاریاں کیا کیا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑