تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دکھا

سیاست میں بھی موٹروے بنا دیتے تو اچّھا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
قضیّہ تنگ نظری کا چُکا دیتے تو اچّھا تھا
سیاست میں بھی موٹروے بنا دیتے تو اچّھا تھا
جلا وطنی بھلے خودساختہ ہو، ہے جلا وطنی
سبق خودسوں کو اِتنا بھی سِکھا دیتے تو اچّھا تھا
روش جو رہبری کی ہے تحمّل اُس میں اپنا کر
بہت سوں کو جہانِ نَوسُجھا دیتے تو اچّھا تھا
سیاست میں ہمیشہ، مسٹری ہے جن کا آ جانا
کرشمہ گر کوئی وہ بھی دکھا دیتے تو اچّھا تھا
عمارت جس پہ پہلے سے کہیں ہٹ کر بنی ہوتی
کوئی بنیاد ایسی بھی اُٹھا دیتے تو اچّھا تھا
وہی جو قوم کو بانٹے ہے جانے کتنے ٹکڑوں میں
وہ کربِ نفرتِ باہم مٹا دیتے تو اچّھا تھا
ترستا ہے جو ماجد عمر بھر سے موسمِ نَو کو
اُسے ہی کچھ خبراچّھی سُنا دیتے تو اچّھا تھا
ماجد صدیقی

دیکھ کے کیا پلٹا ہے کچھ تو بتا او یار!

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
شاہ نگر سے وہ کہ ہے شہرِ ریا او یار!
دیکھ کے کیا پلٹا ہے کچھ تو بتا او یار!
کب تک اور ہمیں بے دم ٹھہرائے گی
ذکر سے شاہوں کے مسموم ہوا او یار!
اپنا مقدّر جنیں یا آفت سمجھیں
جس میں گھرے ہیں ہم وہ حبس ہے کیا او یار!
زورآور خوشبو بردار بتائیں جسے
کیوں وہ صبا لگتی ہے تعفّن زا او یار!
ذہن میں در آئے ہیں یہ کون سے اندیشے
بستر تک کیوں لگنے لگا ہے چِتا او یار!
جبر نے کونسا اور اب طیش دکھایا ہے
عدل کے حجلوں میں بھی شور بپا او یار!
رُخ پہ سرِ میداں نہ یہ کالک مَل اپنے
ماجِد تجھ سے کہے مت پیٹھ دکھا او یار!
ماجِد جبر کی رُت میں سخن کو دھیما رکھ
دھیان میں اپنے پیری بھی کچھ لا او یار!
ماجد صدیقی

کہ جو گفتنی ہے، زبان پر نہ کوئی بھی شہر میں لا سکے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
جو مِلے تو والیٔ شہر کو یہی بات ہم بھی بتا سکے
کہ جو گفتنی ہے، زبان پر نہ کوئی بھی شہر میں لا سکے
جو ٹلا عقاب تو برق نے ہیں چڑھائے تیر سرِکماں
ہے کوئی کہ جور سے فاختہ کو جو آسماں کے بچا سکے
ہے یہی تو اُس کا کمالِ فن، کہ ہے راستی میں وُہ پُرفتن
نہ بچا کوئی سرِانجمن، جو فریب اُس کا نہ کھا سکے
سبھی کشتیاں سرِ آب ہیں کہ جو مبتلائے عذاب ہیں
جو بُکا کسی کی سُنے بھی تو کوئی کیا کرشمہ دکھا سکے
جو نہیں ہے ابرِ کرم کہیں تو فلک سے بھیج وُہ آگ ہی
کہ جو کشتِ جاں میں بسی ہوئی نمِ آرزو ہی جلا سکے
ہوئے شل جو وار سے غیر کے اُنہی بازوؤں کی کمان پر
یہ ہمِیں تھے تیرِ سخن تلک کسی طَور جو نہ چڑھا سکے
سبھی مصلحت کے اسیر تھے کوئی تھا نہ ہم ساخسارہ جُو
ہمِیں ایکِماجدؔ سادہ دل‘ نہ ابال دل کا دبا سکے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑