تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دکھائے

بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
ناز لبوں پر اُس کے لائے ہم نے بھی
بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی
یاد دلا کر خاصے دُور کے دن اُس کو
کیا کیا کچُھ قصّے دُہرائے ہم نے بھی
حیف! کہ رکھتا تھا جو بھیس خدائی کا
اُس جوگی کو ہاتھ دکھائے ہم نے بھی
شہر میں، سُن کر، اُس چنچل کے آنے کی
پلکوں پر کچھ دیپ جلائے ہم نے بھی
دل میں، جن کے ہوتے سانجھ سویرا ہو
کچھ ایسے ارمان جگائے ہم نے بھی
اَب جو مِلے تو ماجدؔ اُس کو اوڑھ ہی لیں
کب سے انگ نہیں سہلائے ہم نے بھی
ماجد صدیقی

اُس ناری کے رنگ چُرائے ہم نے بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
اِن ہونٹوں پر پھول کھِلائے ہم نے بھی
اُس ناری کے رنگ چُرائے ہم نے بھی
ہم بھی لائے اِن تک زہر تمّنا کا
امرت کو یہ لب ترسائے ہم نے بھی
لوٹ کے رنجش اور بھی اپنے آپ سے تھی
اہل حشم کو زخم دکھائے ہم نے بھی
سنگ بھگوئے پہلے اوس سے آنکھوں کی
اور پھر اُن میں بیج اُگائے ہم نے بھی
دے کے ہمیں پھر خود ہی زمیں نے چاٹ لئے
پھیلائے تھے کیا کچھ سائے ہم نے بھی
اچّھے دنوں کی یاد کے اُجلے پھولوں سے
دیکھ تو، کیا گلدان سجائے ہم نے بھی
چہرے پر آیات سجا کر اشکوں کی
ماجدؔ کیا کیا درس دلائے ہم نے بھی
ماجد صدیقی

حشر اِس دل میں اُٹھائے کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
خود کو ہم سے وُہ چھپائے کیا کیا
حشر اِس دل میں اُٹھائے کیا کیا
دمبدم اُس کی نظر کا شعلہ
مشعلیں خوں میں جلائے کیا کیا
ہم نے اُس کے نہ اشارے سمجھے
لعل ہاتھوں سے گنوائے کیا کیا
گلُ بہ گلُ اُس کے فسانے لکھ کر
درد موسم نے جگائے کیا کیا
لفظ اُس شوخ کے عشووں جیسے
ہم نے شعروں میں سجائے کیا کیا
حرف در حرف شگوفے ہم نے
اُس کے پیکر کے، کھلائے کیا کیا
لُطف کے سارے مناظر ماجدؔ
جو بھی دیکھے تھے دکھائے کیا کیا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑