تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دکھائیں

اپنا اِک بھی طَور نہ بدلیں اور سِدھائیں اوروں کو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 103
نفرت کرنے والے خود بھی جلیں، جلائیں اوروں کو
اپنا اِک بھی طَور نہ بدلیں اور سِدھائیں اوروں کو
جو بھی ٹیڑھی چال چلے گا کب منزل تک پہنچے گا
ایسے جو بھی خسارہ جُو ہیں کیا دے پائیں اوروں کو
تُند مزاج سبھی اندر کا خُبث سجا کر ماتھوں پر
اپنا سارا پس منظر کیا کیا نہ دکھائیں اوروں کو
وہ لگ لائی جن کی نکیلیں ہیں اوروں کے ہاتھوں میں
خود ناچیں اور جی میں یہی چاہیں کہ نچائیں اوروں کو
جو بھی ہیں کج فہم وہ چِپٹا چاہیں، گول میں ٹُھنک جائے
اپنی رضا و مرضی کے اسباق سکھائیں اوروں کو
کون بتائے وہ تو خود جلتے ہیں چِخا میں چِنتاکی
لاحق کرنے پر تُل جاتے ہیں جو چتائیں اوروں کو
چُوسنیاں نوچیں، بیساکھیاں معذوروں کی چھنوائیں
ماجد صاحب آپ بھی کیا کیا کچھ نہ سُجھائیں اوروں کو
ماجد صدیقی

تازہ جنم دہرائیں سیّاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
کِھل کے نہ پھر مرجھائیں سیّاں
تازہ جنم دہرائیں سیّاں
اچھے وقت کے نام پہ ہم لیں
اک دوجے کی بلائیں سیّاں
آس کے پودے پھر سے ہرے ہوں
کاش وہ دن لوٹ آئیں سیّاں
پلٹے قُرب کی عید کا دن اور
شوق کی پینگ جھلائیں سیّاں
بے چینی بڑھ جائے بدن کی
باہم گھل مل جائیں سیّاں
اپنے انگناں دیپ جلانے
جسم کی آنچ جگائیں سیّاں
ماجد چھپ کر بیٹھ رہیں تو
اُس کو کھوج دکھائیں سیّاں
ماجد صدیقی

آؤ کہ جسم و جاں کے شگوفے کھلائیں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
نِکھری رُتوں کا حسن‘ فضا سے چرائیں ہم
آؤ کہ جسم و جاں کے شگوفے کھلائیں ہم
بیدار جس سے خُفتہ لُہو ہو ترنگ میں
ایسا بھی کوئی گیت کبھی گنگنائیں ہم
رچتی ہے جیسے پھوُل کی خوشبُو ہواؤں میں
اِک دُوسرے میں یُوں بھی کبھی تو دَر آئیں ہم
اِخفا سہی پہ کچھ تو سپُردِ قلم بھی ہو
دیکھا ہے آنکھ سے جو سبھی کو دکھائیں ہم
ہو تُجھ سا مدّعائے نظر سامنے تو پھر
ساحل پہ کشتیوں کو نہ کیونکر جلائیں ہم
منصف ہے گر تو دل سے طلب کر یہ فیصلہ
تُجھ سے بچھڑ کے کون سے زنداں میں جائیں ہم
ایسا نہ ہو کہ پھر کبھی فرصت نہ مل سکے
ماجدؔ چلو کہ فصلِ تمّنا اٹھائیں ہم
ماجد صدیقی

ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
مہک اُٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھی
ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی
یہ اِن لبوں ہی تلک ہے ابھی ضیا جن کی
بنیں گی نُور کے سوتے یہی صدائیں کبھی
وُہ خوب ہے پہ اُسے اِک ہمیں نے ڈھونڈا ہے
جو ہو سکے تو ہم اپنی بھی لیں بلائیں کبھی
کبھی تو موت کا یہ ذائقہ بھی چکھ دیکھیں
وہ جس میں جان ہے اُس سے بچھڑ بھی جائیں کبھی
وہ حُسن جس پہ حسیناؤں کو بھی رشک آئے
اُسے بھی صفحۂ قرطاس پر تو لائیں کبھی
وہی کہ جس سے تکلّم کو ناز ہے ہم پر
وہ رنگ بھی تو زمانے کو ہم دکھائیں کبھی
ہمِیں پہ ختم ہے افسردگی بھی، پر ماجدؔ
کھلائیں پھول چمن میں جو مسکرائیں کبھی
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑