تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دوچار

کچھ یار تھے کہ باعثِ آزار ہو گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 130
کچھ غیر، خوش خصال تھے سو یار ہو گئے
کچھ یار تھے کہ باعثِ آزار ہو گئے
کچھ لوگ وہ تھے اپنے خصائل کے زور پر
جیتے ہوئے بھی خیر سے مردار ہو گئے
کچھ لوگ تھے کہ جنکی مثالی تھی تاب و تب
وہ بھی مرورِ وقت سے آثار ہو گئے
ہائے یہ ہم کہ خیرکے جویا رہے سدا
کن کن نحوستوں سے ہیں دوچار ہو گئے
دیکھا جو آنکھ بھر کے کبھی چاند کی طرف
ہم اس کیے پہ بھی ہیں گنہگار ہو گئے
ہر سانس ہی میں سوز سمایا رہا سو ہم
آخر کو آگ ہی کے خریدار ہو گئے
غالب نہ جن کے فہم میں ماجد سما سکا
ہاں ہاں وہ ذوق ہی کے طرفدار ہو گئے
ماجد صدیقی

اچّھا ہے یہی آج کا اخبار نہ دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
منصور حقیقت کا سرِ دار نہ دیکھا
اچّھا ہے یہی آج کا اخبار نہ دیکھا
ہر فرد کو اِس عہد میں آزارِ بقا ہے
ہے کون جِسے مرگ سے دوچار نہ دیکھا
اِس دورِ منّور میں سرِ ارض ہے جیسا
انسان کو ایسا کبھی خونخوار نہ دیکھا
خدشوں نے جہاں دی نہ مری آنکھ بھی لگنے
اُس شہر کا اِک شخص بھی بیدار نہ دیکھا
ہوتا ہے ہر اِک پھُول مہک بانٹ کے جیسا
انسان کو ایسا کبھی سرشار نہ دیکھا
اک بار جو لاحق ہو دل و جان کو ماجدؔ
جاتا ہوا وُہ روگ، وُہ آزار نہ دیکھا
ماجد صدیقی

کیسا یہ مری روح کو آزار ملا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
جذبہ جو لبوں کو پئے اظہار ملا ہے
کیسا یہ مری روح کو آزار ملا ہے
اترا ہے یہ ہر صحن میں کس حبس کا موسم
دیکھا ہے جسے شہر میں بے زار ملا ہے
ماتھوں کو جھکائے جو نہ دہلیز پہ اپنی
کب حُسنِ نظر سا کوئی اوتار ملا ہے
دیکھا ہے چلا کر اسے ہم جنس لہو پر
انسان کو جب بھی کوئی اوزار ملا ہے
خطرہ جو پرندے کو سرِ فصل لگا تھا
اب اُس سے نشیمن میں بھی دوچار ملا ہے
ہم شہر میں وہ اہلِ ہنر ہیں جنہیں ماجدؔ
برسوں کی ریاضت کا صلہ نار ملا ہے
ماجد صدیقی

دیکھو تو بدن ہم دونوں کے کیسے باہم دوچار ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
کس اَن ہونی کے ہونے سے یُوں مطلعِٔ صدا انورا ہوئے
دیکھو تو بدن ہم دونوں کے کیسے باہم دوچار ہوئے
کمیاب تھی ساعتِ قرب تری کیا کُچھ نہ ہُوا جب دَر آئی
ہم چاند بنے ہم مہر ہوئے ہم نُور بنے ہم نار ہوئے
سادہ سا وُہ حرفِ اذن ترا اور مہلت پھر یکجائی کی
فرصت تو فقط اِک شب کی تھی پر دور بڑے آزار ہوئے
باوصفِ کرم، جو الجھن تھی وُہ اور کسی ڈھب جا نہ سکی
آخر کچھ وحشی جذبے ہی ہم دونوں کے غمخوار ہوئے
کیا چیت کی رُت اور کیا ساون جب سے دیکھا ہے اساڑھ ترا
سُونا ہے نگاہوں کا آنگن سب موسم اِس پر بار ہوئے
مُدّت سے ترستے تھے دِل میں جو لذّتِ یکدم کو ماجدؔ
تسکین ملے پر وُہ جذبے آخر کیُوں پُراسرار ہوئے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑