تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دوا

محرم بھی ہو تو پھر نہ اُسے آشنا کہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
جس شخص سے بھی دل کا کوئی مدّعا کہو
محرم بھی ہو تو پھر نہ اُسے آشنا کہو
مجذوب ہے طبیب ہی جب تو پئے شفا
گالی گلوچ کو بھی نہ کم از دوا کہو
کونپل ہے لفظ لفظ تمہارا سرِ شجر
جس اوج پر ہو جو بھی کہو تم بجا کہو
گٹھڑی میں خارکش کی جو اُترن ہے پیڑ کی
ہاں ہاں کہو اُسے بھی خُدا کا دیا کہو
گاؤں کے لوگ شہر میں کیوں منتقل ہوئے
حرص و ہوا نہیں اِسے فکرِ بقا کہو
ہم تُم ہیں اُس نگر میں جہاں پر بہ ظرفِ تنگ
ہر شخص چاہتا ہے اُسے تم خُدا کہو
ماجدؔ ہے فرق جو تہ و بالا میں وہ تو ہے
تسکیں کو شاہ کو بھی بھلے تم گدا کہو
ماجد صدیقی

جو ناروا ہے تم اُس کو بھی اَب روا کہنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
بنے نہ بات تو بندوں کو بھی خُدا کہنا
جو ناروا ہے تم اُس کو بھی اَب روا کہنا
نہیں ہے کچھ بھی کسی پر گر آسماں ٹوٹے
جو اپنی جان پہ گزرے اُسے سَوا کہنا
کوئی طبیب ہو رکھتا ہے وہ عزیز ہمیں
کہ آ گیا ہے ہمیں درد کو دوا کہنا
نہیں نصیب میں جب حرف کے پذیرائی
تو دل میں کرب ہے جو بھی کسی سے کیا کہنا
کسی کا درد ہو آئے نظر وُہ سوتیلا
ہے آشنا کو بھی مشکل اب آشنا کہنا
ہے حرفِ حق کا تقاضا کہ دل میں ہو تو اُسے
کھلِے گلاب کی مانند برملا کہنا
تمیز، فہم سے اَب یہ اُٹھا ہی دو ماجدؔ!
کہ جو بُرا ہے اُسے بھی نہیں بُرا کہنا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑