تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دفینے

پتہ بتائے کوئی، کب کسی دفینے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
یہ انتظار ہی عنواں ہے اَب تو جینے کا
پتہ بتائے کوئی، کب کسی دفینے کا
بدک کے ثقلِ سماعت سے اہلِ مکّہ کی
جو اہلِ حق ہے مسافر ہے اَب مدینے کا
یقیں اُنہیں بھی خُدا پر ہے بہرِ رزق جنہیں
ہے آسرا کسی پتّھر، کسی نگینے کا
بہ دَورِ نو کسی تنخواہ دار کے گھر کا
حیات، ہفتۂ آخر لگے مہینے کا
ہَوا نے دی سرِ ساحل یہی خبر آ کر
کھُلا نہیں تھا ابھی بادباں سفینے کا
تُو خاک زاد ہے اور جان لے کہ اے ماجدؔ
گُہر نہیں کوئی قطرہ ترے پسینے کا
ماجد صدیقی

مرے ضمیر! کرم کر مجھے بھی جینے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
فضا کا زہر ہی تریاق ہے تو پینے دے
مرے ضمیر! کرم کر مجھے بھی جینے دے
یہ ہم کہ غیر ہیں باوصفِ دعویٰٔ وحدت
جو رازدان ہوں باہم، ہمیں وہ سِینے دے
ہوس سے دُور ہو، اندر ہو پُرسکوں اُس کا
کوئی جو دے تو مری قوم کو دفینے دے
رہِ جنون بس اِتنی سی ڈھیل مانگتا ہوں
ہوئے ہیں زخم جو سینے میں، اُن کو سِینے دے
جو وصف، خاص ہے تجھ سے بروئے کار بھی لا
لغت کو لفظ کو ماجدؔ نئے قرینے دے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑