تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

درخشاں

کہہ کے سچ اخبار نے چہرہ گلستاں کردیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 179
خونِ ناحق کا اِک اِک دھبّہ نمایاں کردیا
کہہ کے سچ اخبار نے چہرہ گلستاں کردیا
سنسنی کی بھیج کر خبریں فضائے دہر نے
خود پرِیشاں تھی ہمیں بھی ہے پرِیشاں کردیا
لمحۂ گزراں نے رُوئے قاتل و دلدار کو
ہاں ہمارے ہی لیے تو، ہے رگِ جاں کردیا
پرسشِ پُرفن سے دل کی تہہ میں جو جو تھا ملال
یارلوگوں نے اُسے رنجِ فراواں کردیا
جیسے کرنیں ہوں دلِ اندوہگیں میں آس کی
جگنوؤں نے رات کو کیا کیا درخشاں کردیا
وسعتِ دشتِ تعلق میں اکیلا چھوڑ کر
کیوں غزالِ جاں کو ہم نے نذرِ گُرگاں کردیا
پوچھتے ہیں مبتدی مجھ سے کہ اے ماجد میاں!
کس طرح تو نے غزل کو ہے دبستاں کردیا
ماجد صدیقی

پر شہِ بے پیرہن کو میں نے عریاں کہہ دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
خلق نے تو اس کو ایسے میں بھی ذی شاں کہہ دیا
پر شہِ بے پیرہن کو میں نے عریاں کہہ دیا
رزق نے جس کے مجھے پالا ہے جس کا رزق ہوں
کہہ دیا اس خاک کو میں نے رگِ جاں کہہ دیا
اِس تمنّا پر کہ ہاتھ آ جائے نخلستاں کوئی
خود غرض نے دیکھ صحرا کو گلستاں کہہ دیا
ہمزبانِ شاہ وہ بھی تھے جنہوں نے آز میں
رات تک کو، یار کی زلفِ پریشاں کہہ دیا
میں وہ خوش خُو جس نے دو ٹانگوں پہ چلتا دیکھ کر
شہر کے بن مانسوں تک کو بھی انساں کہہ دیا
کیا کہوں کیوں میں نے سادہ لوح چڑیوں کی طرح
وقفۂ شب کو بھی تھا صبحِ درخشاں کہہ دیا
اس کے ناطے، درگزر جو محض عُجلت میں ہوئی
گرگ کو بھی بھیڑ نے ماجدؔ پشیماں کہہ دیا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑