تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دربان

پیار کے سودے میں بھی نقصان ہونے لگ پڑا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
ہجرِ جاناں، جان کا تاوان ہونے لگ پڑا
پیار کے سودے میں بھی نقصان ہونے لگ پڑا
جب سے اُلٹا تاج اپنے سر پہ شاہِ وقت نے
ہے وہ کاسہ قوم کی پہچان ہونے لگ پڑا
جس سے بن پوچھے نہیں اٹھتا قدم سردار کا
پینچ بستی کا ہے کیوں دربان ہونے لگ پڑا
جب سے اُس پر ہار کر سب کچھ اُسے دیکھا ہے پھر
دل مرا کچھ اور بھی نادان ہونے لگ پڑا
آن اُترا بام سے چندا وہ دل کی جھیل میں
مرحلہ مشکل تھا جو آسان ہونے لگ پڑا
اِس میں جانے کیا بڑائی سوُنگھ لی عمران نے
پُوت وہ پنجاب کا ہے خان ہونے لگ پڑا
جتنا درس نیک بھی ماجد اسے تو نے دیا
آدمی تھا جو، وہ کب انساں ہونے لگ پڑا
ماجد صدیقی

پل بھر میں دھُنک جاتے ہیں ابدان کئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی
پل بھر میں دھُنک جاتے ہیں ابدان کئی
بٹتا دیکھ کے ریزوں میں مجبوروں کو
تھپکی دینے آ پہنچے ذی شان کئی
شاہ کا در تو بند نہ ہو پل بھر کو بھی
راہ میں پڑتے ہیں لیکن دربان کئی
طوفاں میں بھی گھِر جانے پر، غفلت کے
مرنے والوں پر آئے بہتان کئی
دل پر جبر کرو تو آنکھ سے خون بہے
گم سم رہنے میں بھی ہیں بحران کئی
ہم نے خود دیکھا ہاتھوں زورآور کے
قبرستان بنے ماجد دالان کئی
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑