تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

خوں

بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا
بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا
مِنّتِ ساحل بھی سر لے لی بھنور میں ڈولتے
ہاں یہ حیلہ بھی ہمیں بہرِسکوں کرنا پڑا
سامنے اُس یار کے بھی اور سرِ دربار بھی
ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا
ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے
قافلے کا ساتھ آخر ترک کیوں کرنا پڑا
خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا لیا
وُوں نہ کچھ ماجدؔ ہُوا ہم سے تو یوں کرنا پڑا
ماجد صدیقی

جا بجا تیرے لئے یہ سر، نگوں کرنا پڑا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کیا کہیں کیا کچھ ہمیں دنیائے دُوں کرنا پڑا
جا بجا تیرے لئے یہ سر، نگوں کرنا پڑا
ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے
قافلے کا ساتھ آخر، ترک کیوں، کرنا پڑا
سر ہم ایسوں سے کہاں ہونا تھا قلعہ جبر کا
ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا
خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا لیا
وُوں نہ کچھ ہم سے ہُوا ماجد تو یُوں کرنا پڑا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑