تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

خواریاں

لاحق ہیں ہر شخص کو قدم قدم بے زاریاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
جیب میں گھٹتی کوڑیاں، نام لکھیں زرداریاں
لاحق ہیں ہر شخص کو قدم قدم بے زاریاں
اصل نہ ہو تو سُود کیا، ہو اپنی بہبود کیا
کیسی دُوراندیشیاں، کاہے کی بیداریاں
گُل جی اور رئیس نے، بھٹو اور سعید نے
بُھگتیں بدلے خَیر کے کیا کیا کچھ خوں خواریاں
ہجرکے در بھی کھول دیں، وصل کے در بھی وا کریں
موٹر وے پر دوڑتی آتی جاتی لاریاں
پنچھی وہی غلام ہوں، وہی اسیرِ دام ہوں
جنکے تنوں پر نقش ہوں گردن گردن دھاریاں
لطف اُنہی کے نام ہوں، اِس دوروزہ زیست میں
جن کے عزم بلند ہوں، بالا ہوں جیداریاں
اب بھی جھلکیں ماجدا! نقش نظر میں گاؤں کے
پینگ جھلاتی عید کو پتلی لانبی ناریاں
ماجد صدیقی

نئی نسلوں کو لاحق ہو چلیں بیماریاں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
وراثت میں اِنہیں ملنے لگیں عیّاریاں کیا کیا
نئی نسلوں کو لاحق ہو چلیں بیماریاں کیا کیا
کوئی فتنہ کوئی لاشہ اِنہیں مل جائے شورش کو
برائے تخت، نا اہلوں کی ہیں تیّاریاں کیا کیا
ارادت کے تسلسل کی، غلامانہ اطاعت کی
ہماری گردنوں کے گرد بھی ہیں دھاریاں کیا کیا
نمو بھی دیں، تحفّظ بھی کریں ہر پیڑ کا لیکن
جھڑیں تو نام پتوں کے، رقم ہوں خواریاں کیا کیا
جنہیں درکار ہیں قالین چلنے کو نجانے وہ
کرائیں گے لہو سے خاک پر، گُلکاریاں کیا کیا
حقائق سے ڈرانے کو، طلسمِ شر دکھانے کو
سرِ اخبار ماجدؔ نقش ہیں، چنگاریاں کیا کیا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑