تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

خطا

بتا جاناں! تُو اِن میں ہے بسا کیا؟

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 180
شگفتِ گُل ہے کیا؟ رقص صبا کیا؟
بتا جاناں! تُو اِن میں ہے بسا کیا؟
چڑھا کر ناک چھوتا ہے جو ہر شے
لکھے گا امتحاں میں لاڈلا کیا؟
پسِ ابروہوا جھانکے ہے چندا
حیاداری میں وہ ہم پر کُھلا کیا؟
تڑپتے بوٹ جیسے گھونسلوں میں
سسکنے لگ پڑی خلقِ خُدا کیا؟
نگاہِ شاہ طُرّوں پر لگی تھی
بہ سوئے کمتراں وہ دیکھتا کیا؟
نہیں جب سامنے، جس نے بنائے
نصیبوں کا کریں اُس سے گِلا کیا؟
لبوں کو ہے جو لپکا چُومنے کا
ہماری اِس میں ہے ماجد خطا کیا؟
ماجد صدیقی

جبر ہم پر وگرنہ کیا نہ ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 169
ہاں جو فرعون تھا خُدا نہ ہُوا
جبر ہم پر وگرنہ کیا نہ ہُوا
شرم کیا کیا دلائی شیطاں کو
ٹس سے مس وہ مگر ذرا نہ ہُوا
جیسا مینار بھی بنا ڈالو
وہ کبھی زیر آشنا نہ ہُوا
ماں چِھنی، ماں کی گود سے لیکن
کوئی بچّہ کبھی جُدا نہ ہُوا
رونا دھونا سدا کا کارِ ثواب
لب کِھلانا مگر روا نہ ہُوا
ساتھ تھا اُس کا محض دریا تک
بادباں سر کا آسرا نہ ہُوا
خود سے ہر چھیڑ لی سبک اُس نے
تھا غنی، ہم سے وہ خفا نہ ہُوا
جب بھی اُترا ہمارے انگناں وہ
تیرہواں روز چاند کا نہ ہُوا
جام ہونٹوں پہ رکھ کے کچھ تو اُنڈیل
یوں تو کچھ قرضِ مے ادا نہ ہُوا
آکے بانہوں میں یُوں نہ زُود نکل
یہ تو عاشق کا کچھ صِلا نہ ہُوا
مجھ سے حاسد نہ چھین پائے تجھے
ماس ناخون سے جدا نہ ہُوا
تھا جو چاقو قریبِ خربوزہ
وار اُس کا کبھی خطا نہ ہُوا
اُس سے جو جوڑ تھا نہ ماجد کا
کھنچ گیا گر تو کچھ بُرا نہ ہُوا
ماجد صدیقی

اپنی صورت بھی ہے کیا سے کیا ہو گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 124
مُو بہ مُو تھی جو ظلمت ضیا ہو گئی
اپنی صورت بھی ہے کیا سے کیا ہو گئی
لے کے نکلے غرض تو ہمارے لئے
خلق ساری ہی جیسے خدا ہو گئی
دیکھ ٹانگہ کچہری سے خالی مُڑا
ہے سجنوا کو شاید سزا ہو گئی
اَب نمِ برگ بھی ساتھ لاتی نہیں
اتنی قلّاش کیونکر ہوا ہو گئی
جس پہ تھا مرغ، صّیاد کے وار سے
شاخ تک وُہ شجر سے جدا ہو گئی
عدل ہاتھوں میں آیا تو اپنے لئے
جو بھی شے ناروا تھی روا ہو گئی
ہم نے کیونکر ریا کو ریا کہہ دیا
ہم سے ماجدؔ! یہ کیسی خطا ہو گئی
ماجد صدیقی

یزیدِ وقت نے جوروستم کی انتہا کر دی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی
یزیدِ وقت نے جوروستم کی انتہا کر دی
اگر سر زد ہُوا حق مانگنے کا جرم تو اُس پر سزا کیسی
مرے دستِ طلب نے کونسی ایسی خطا کر دی
کچھ افیونی حقائق ہی کھُلے ورنہ اِن ہونٹوں پر
سخن کیا تھا کہ خلقِ شہر تک جس نے خفا کر دی
زمیں یا آسماں کا جو خدا تھا سامنے اُس کے
جھُکایا سر، اٹھائے ہاتھ اور رو کر دعا کر دی
وطن کی بد دعا پر ریزہ ریزہ ہو گیا کوئی
کسی نے دیس پر جاں تک ہتھیلی پر سجا کر دی
حیا آنکھوں میں اور سچّائیاں جذبات میں ماجد
مجھے ماں باپ نے جو دی یہی پونجی کما کر دی
ماجد صدیقی

یزیدِ وقت نے جور و ستم کی اِنتہا کر دی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی
یزیدِ وقت نے جور و ستم کی اِنتہا کر دی
اگر سر زد ہوا حق مانگنے کا جرم تو اس پر سزا کیسی
مرے دستِ طلب نے کونسی ایسی خطا کر دی
کچھ افیونی حقائق ہی کھُلے ورنہ اِن ہونٹوں پر
سخن کیا تھا کہ خلقِ شہر تک جس نے خفا کر دی
زمیں یا آسماں کا جو خدا تھا سامنے اُس کے
جھکایا سر اٹھائے ہاتھ اور رو کر دعا کر دی
وطن کی بد دعا پر ریزہ ریزہ ہو گیا کوئی
کسی نے دیس پر جاں تک ہتھیلی پر سجا کر دی
حیا آنکھوں میں اور سچّائیاں جذبات میں ماجد
مجھے ماں باپ نے جو دی یہی پونجی کما کر دی
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑