تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

خر

یا ذی عقل بھی اپنالے خاصہ خر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
رب نزدیک ہے یا گھونسا زورآور کا
یا ذی عقل بھی اپنالے خاصہ خر کا
باہرکی افواہیں گردش میں ہیں مدام
کوئی نہیں جو حال سنائے اندر کا
لغزش لیسی ہو فردوس بدر کردے
اُس کے بعد تناؤ ہے جیون بھر کا
ملکوں کو چرکے کم کم ہی لگتے ہیں
لگے تو لگے سقوطِ ڈھاکہ سا چرکا
وہ جو شکاری کی تسکین کا ساماں ہے
دھڑکا لگا رہے ہرآن اُسی شر کا
آندھی کس کس سے جانے کیا کیا چھینے
اندیشہ ہے ہمیں تو وہ، بال و پر کا
تُو کہ ہے طُرفہ گو آغاز سے ہی ماجد!
چرچاکیوں نہ ہُوا پھر تجھ سے سخنور کا
ماجد صدیقی

یا ذی عقل ہی اپنالے خاصہ خر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
رب نزدیک ہے یا مُکّا زورآور کا
یا ذی عقل ہی اپنالے خاصہ خر کا
باہرکی افواہیں گردش میں ہیں مدام
کوئی نہیں جو حال سنائے اندر کا
لغزش لیسی ہو فردوس بدر کردے
دیکھنا پڑے بکھیڑا پھر جیون بھر کا
ملکوں کو چرکے کم کم ہی لگتے ہیں
لگے تو لگے سقوطِ ڈھاکہ سا چرکا
وہ جو شکاری کی تسکین کا ساماں ہے
دھڑکا لگا رہے ہرآن اُسی شر کا
آندھی کس کس سے جانے کیا کیا چھینے
اندیشہ ہے ہمیں تو وہ، بال و پر کا
تُو کہ ہے طُرفہ گو آغاز سے ہی ماجد!
چرچاکیوں نہ ہُوا پھر تجھ سے سخنور کا
ماجد صدیقی

ہمیں اس نے کبھی ہمسر نہ جانا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
زرِ گل تھے بھی گر تو زر نہ جانا
ہمیں اس نے کبھی ہمسر نہ جانا
جبیں جس پر جھکائی عرش جیسی
ہمارا مرتبہ وُہ در نہ جانا
گھُلی چیخیں بھی ہیں لقموں میں اُس کے
یہ باریکی کوئی اژدر نہ جانا
سزا کے سارے تیور تھے اُسی میں
ہوا کو ہم نے نامہ بر نہ جانا
ذرا مّکے گیا تو جانے ہم نے
خرِ عیسٰی کو کیونکر خر نہ جانا
نہیں اتنا بھی سادہ لوح ماجدؔ
اُسے جانا ہے تم نے پر نہ جانا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑