تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

خراب

چہرے کے پھول رکھ لیے’ دل کی کتاب میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 205
بچھڑے جب اُس سے ہم تو بڑے پیچ و تاب میں
چہرے کے پھول رکھ لیے’ دل کی کتاب میں
میدانِ زیست میں تو رہے تھے دلیر ہم
کمزور تھے تو صرف’ محبّت کے باب میں
کیا کیا بُرائیاں نہ سہیں جان و دل پہ اور
لوٹائیں نیکیاں ہی جہانِ خراب میں
تازہ نگاہ’ جس نے کیا ہم کو بار بار
کیا خوبیاں تھیں اُس کے بدن کے گلاب میں
قائم رہا اُسی کے سبب خیمہئ حیات
تھا جتنا زور’ خاک میں اُتری طناب میں
مدّت سے دل مرا ہے جو تاریک کر گیا
آتا ہے چودھویں کو نظر ماہتاب میں
نااہل ناخداؤں کی ناؤ میں جب سے ہے
ماجدگِھری ہے خلقِ خدا’ کس عذاب میں؟
ماجد صدیقی

چہرے کے پھول رکھ لیے دل کی کتاب میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
بچھڑے جب اُس سے ہم تو بڑے پیچ و تاب میں
چہرے کے پھول رکھ لیے دل کی کتاب میں
میدانِ زیست میں تو بہت تھے دلیر ہم
دور از تضاد پر تھے محبّت کے باب میں
کیا کیا بُرائیاں نہ سہیں جان و دل پہ اور
لوٹائیں نیکیاں ہی جہانِ خراب میں
تازہ نگاہ جس نے کیا ہم کو بار بار
کیا خوبیاں تھیں اُس کے بدن کے گلاب میں
قائم رہا اسی کے سبب خیمۂ حیات
تھا جتنا زور خاک میں اُتری طناب میں
مدّت سے دل مرا ہے جو تاریک کر گیا
آتا ہے چودھویں کو نظر ماہتاب میں
نااہل ناخداؤں کی ناؤ میں جب سے ہے
ماجد گھری ہے خلقِ خدا کس عذاب میں
ماجد صدیقی

چہرے کے پھول رکھ لیے، دل کی کتاب میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
بچھڑے جب اُس سے ہم تو بڑے پیچ و تاب میں
چہرے کے پھول رکھ لیے، دل کی کتاب میں
میدانِ زیست میں تو رہے تھے دلیر ہم
کمزور تھے تو صرف، محبّت کے باب میں
کیا کیا بُرائیاں نہ سہیں جان و دل پہ اور
لوٹائیں نیکیاں ہی جہانِ خراب میں
تازہ نگاہ، جس نے کیا ہم کو بار بار
کیا خوبیاں تھیں اُس کے بدن کے گلاب میں
قائم رہا اُسی کے سبب خیمۂ حیات
تھا جتنا زور، خاک میں اُتری طناب میں
مدّت سے دل مرا ہے جو تاریک کر گیا
آتا ہے چودھویں کو نظر ماہتاب میں
نااہل ناخداؤں کی ناؤ میں جب سے ہے
ماجدگِھری ہے خلقِ خدا، کس عذاب میں؟
ماجد صدیقی

ذلیل کرتا ہے، بے حد خراب کرتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
کرے تو اور ہی وہ احتساب کرتا ہے
ذلیل کرتا ہے، بے حد خراب کرتا ہے
سنان و تیر و کماں توڑ دے اُسی پر وہ
ستم کشی کو جسے انتخاب کرتا ہے
دمکتا اور جھلکتا ہے برگِ سبز سے کیوں؟
وہ برگِ زرد سے کیوں اجتناب کرتا ہے
بھلے جھلک نہ دکھائے وہ اپنے پیاروں کو
بُلا کے طُور پہ کیوں لاجواب کرتا ہے
گلوں میں عکس وہ ماجد دکھائے خود اپنے
کلی کلی کو وہی بے نقاب کرتا ہے
ماجد صدیقی

یہ سہم سا خواب خواب کیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
دہشت ہے کہ اضطراب کیا ہے
یہ سہم سا خواب خواب کیا ہے
کھولا ہے یہ راز رہزنوں نے
کمزور کا احتساب کیا ہے
دھرتی یہ فلک سے پُوچھتی ہے
پاس اُس کے اَب اور عذاب کیا ہے
مشکل ہوئی اب تمیز یہ بھی
کیا خُوب ہے اور خراب کیا ہے
کہتے ہیں جو دل میں آئے ماجدؔ!
ایسا بھی ہمیں حجاب کیا ہے
ماجد صدیقی

بِکے نہیں ہیں، عقیدہ نہیں خراب کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
نہیں ستم سے تعاون کا ارتکاب کیا
بِکے نہیں ہیں، عقیدہ نہیں خراب کیا
جنم بھی روک دیا، آنے والی نسلوں کا
ستم نے اپنا تحفّظ تھا، بے حساب کیا
وُہ اپنے آپ کو، کیوں عقلِ کُل سمجھتا تھا
فنا کا راستہ، خود اُس نے انتخاب کیا
بہت دنوں میں، کنارا پھٹا ہے جوہڑ کا
زمیں نے خود ہی، تعفّن کا احتساب کیا
یہ ہم کہ خیر ہی، پانی کا گُن سمجھتے تھے
ہمیں بھنور نے، بالآخر ہے لاجواب کیا
نہ ہمکنارِ سکوں، ہو سکا کبھی ماجدؔ
یہ دل کہ ہم نے جِسے، وقفِ اضطراب کیا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑