تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

حیا

چاند چہروں کو بڑا فرق پڑا میرے بعد

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 186
مجھ سا کوئی نہ مِلا مدح سرا میرے بعد
چاند چہروں کو بڑا فرق پڑا میرے بعد
قدر داں مجھ سا اسے بھی کوئی کم کم ہی ملا
ہاں مکدّر ہوئی آنکھوں میں حیا میرے بعد
تہہ میں اُترا نہ کوئی اصل سبب تک پہنچا
عقدۂ کرب کسی پر نہ کُھلا میرے بعد
ضَو سخن کی مرے، جس جس پہ بھی کُھلنے پائی
جسم در جسم دیا جلتا گیا میرے بعد
جاتا ہو گا کبھی ابلیس بھی گھر تو اپنے
کب اکیلا ہے سرِعرش خدا میرے بعد
اُس نے بھیجے ہیں سدھرنے کو مرے کتنے رسول
کوئی اچّھا نہ خدا کو بھی لگا میرے بعد
کہیں اعراف پہ جھگڑے، کہیں دوزخ سے فرار
کچھ نہ کچھ فتنے ہُوئے ہوں گے بپا میرے بعد
آگ میں پھول تلافی کو کِھلائے ماجد
کبھی مُوسیٰ کو دیا اُس نے عصا میرے بعد
ماجد صدیقی

لب و زبان پہ نامِ خدا کا چرچا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 137
پسِ یقیں ہے جو حرص و ہوا کا چرچا ہے
لب و زبان پہ نامِ خدا کا چرچا ہے
نقاب میں بھی جو ہے بے نقاب، آنکھ ہے وہ
اُدھر بس آنکھ میں شرم و حیا کا چرچا ہے
یہ آئی ہے چمنب قُرب سے ترے ہو کر
سحر سحر جو یہ بادِ صبا کا چرچا ہے
ہے جس کے نام پہ شاید اس خبر بھی نہیں
سخن میں یہ جو کسی آشنا کا چرچا ہے
اسے خلافِ ریاست بھی گر کہیں تو بجا
کہ میڈیا کا غضب انتہا کا چرچا ہے
یہ لیڈروں کی نظر فوج پر ہی کیوں ہے لگی
بیاں بیاں میں یہ کس مدّعا کا چرچا ہے
ملے بھی تو کئی برسوں میں شاذ شاذ ملے
فقط خبر ہی ماجد سزا کا چرچا ہے
ماجد صدیقی

خود بھی رہ جنبش میں اور پیسہ بھی کچھ جنبش میں لا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
یہ ہے وہ نسخہ کہ جس میں ہے تری کامل شفا
خود بھی رہ جنبش میں اور پیسہ بھی کچھ جنبش میں لا
حرص میں جنس و پِسَر کے اور وسطِ عمر میں
دیدنی ہیں بچّیوں کے باپ جو کھو دیں حیا
اُن کے ناتے سایۂ قانون کو تم ناپ لو
گاڑیاں جو چھین لیتے ہیں کُھلے میں برملا
اتّحادی سے وزارت چھین کر دو اور کو
تخت والو!بعد میں تم دیکھنا ہوتا ہے کیا
وہ جسے ایکا کہیں، مشکل ہے دو شخصوں کے بیچ
بعد مدّت کے، یہ رازِ خاص ہے، ہم پر کُھلا
آگ تک میں بھی تو اکثر کِھل اُٹھا کرتے ہیں پھول
آبِ رحمت میں بھی ہوتا ہے نہاں سَیلِ بلا
ہنس دیا کرتا رہا ماجد۔۔۔بہ میدانِ عمل
کھا کے کنکر نفر توں کے، اہلِ نفرت سے سدا
ماجد صدیقی

خدا بھی میرے اندر آ بسا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
وہ چنچل جب سے میرا ہو گیا ہے
خدا بھی میرے اندر آ بسا ہے
وہ جس کی دید سے ہوں سیر آنکھیں
ثمر سے بھی زیادہ رَس بھرا ہے
نگاہوں میں چھپی نجمِ سحر سی
عجب بے نام سی طُرفہ حیا ہے
اسے دیکھو بہ حالِ لطف جب بھی
مثالِ مہ، پسِ باراں دھُلا ہے
کرے وہ گل نہ ایسا تو کرے کیا
سنا ہم نے بھی ہے وہ خود نما ہے
تعلّق اُس سے ماجدؔ کیا بتائیں
معانی سا جو لفظوں میں بسا ہے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑