تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

حصار

سانس آنے کا اعتبار گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 79
رُوٹھ کر جب سے اپنا یار گیا
سانس آنے کا اعتبار گیا
اَبکے جو بھی کماں سے نکلا تھا
تیر سیدھا وُہ دل کے پار گیا
جو بھی پہنچا کسی بلندی پر
توڑ کر جبر کا حصار گیا
بُرد باری اساس تھی جس کی
دل وہ بازی بھی آج ہار گیا
شاخِ نازک سا دل ترا ماجدؔ!
بوجھ کیا کیا نہیں سہار گیا
ماجد صدیقی

چمن سے جھونکا جو ہو کے آیا لگا ہمیں سوگوار کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
جلو میں اپنی رُتوں کے ہاتھوں سمیٹ لایا غبار کیا کیا
چمن سے جھونکا جو ہو کے آیا لگا ہمیں سوگوار کیا کیا
زبان پر ذہن سے نہ اُترے جو آ چکے تو اُسے چھپائیں
کہیں تو کس سے کہ بات کرنے کا ہے ہمیں اختیار کیا کیا
اُٹھا جو پانی کی سطح پر تو دکھائی دیتا تھا بلبلہ بھی
گرفت میں آب جُو کو لانے کے واسطے بے قرار کیا کیا
ہمارا دل ہی یہ بات جانے کہ حق سرائی کے بعد اِس کی
ہر ایک جانب اُٹھا کئے ہیں حقارتوں کے حصار کیا کیا
ہوا ہو یا برق و ابر اِن کا سلوک خستہ تنوں سے پوچھو
فتور رکھتے ہیں کھوپڑی میں چمن کے یہ تاجدار کیا کیا
کہیں جو بچپن کے آنگنوں میں اُتار لی تھی لہو میں ماجدؔ!
دل و نظر میں مچل رہی ہے ابھی وُہ سپنوں کی نار کیا کیا
ماجد صدیقی

چاند بھی دل پہ اپنے، بار لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
غیر جب سے وُہ اپنا یار لگا
چاند بھی دل پہ اپنے، بار لگا
کھو گیا آنکھ سے دھنک جیسا
جو بھی ماحول، سازگار لگا
بڑھتی دیکھی جو رحمتِ یزداں
ابر بھی مجھ کو، آبشار لگا
کر کے وا چشمِ اِنبساط مری
آشنا، پھر نہ وُہ نگار لگا
آنکھ جب سے کھُلی،دل و جاں پر
شش جہت جبر کا حصار لگا
تھا جو ماجدؔ پسِ نگاہ تری
بھید سب پر وُہ، آشکار لگا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑