تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

حال

دِن دِن گنجینہ، لطفِ پامال کا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 145
گزرے وقت کی بپتا حاصل سال کا ہے
دِن دِن گنجینہ، لطفِ پامال کا ہے
خدشہ ہے تو ہرپل سانس کے گھٹنے کا
مستقبل کا کیا ہو، رونا حال کا ہے
دہشت و وحشت میں موسیقی کیا پنپے
اُکھڑا اُکھڑا مُکھڑا ہرسُر تال کا ہے
قدم قدم پر کھال ادھڑتی لاگے ہے
حال بہت پتلا اپنی اس ڈھال کا ہے
قامت، بالا ہو نہ ہمِیں ناداروں کی
سِحر یہ ہم پر کس شاطر کی چال کا ہے
چہرہ چہرہ ایک اداسی چھائی ہے
کھنڈر کنڈر نقشہ تازہ جنجال کا ہے
ماجد اپنے بے دم دیس کے پیکر سے
گِدھ گِدھ ہی کا رشتہ ماضی و حال کا ہے
ماجد صدیقی

اب تو ڈھنگ سے جینے کی کوئی طُرفہ راہ نکال

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
ستّر سے بھی اُوپر ہو گئے، ماجِد! عمر کے سال
اب تو ڈھنگ سے جینے کی کوئی طُرفہ راہ نکال
اپنا غم، اوروں کے غم، ۔۔۔اور، اور کئی جنجال
سانسوں تک میں اُترے دیکھیں اِن فِتنوں کے جال
سورج چندا تک توہمارے انگناں اُتریں روز
کسے بتائیں کس سے کہیں ہم، جا کر اپنا حال
اور نہیں خود ہمِیں اُٹھائیں قدم نئے سے نیا
پھر کاہے کو دُوجوں سے ہم رہنے لگیں نِڈھال
دھڑکن دھڑکن خوں میں ہمارے جو موجود رہے
ہاں یہ وقت ہے ہم سے جو، کھیلے ہر اُلٹی چال
میں ہوں کہ تُو، ہم حرصی خود سے کبھی کہیں نہ یہ بات
’’اپنی قامت مت نیہوڑا، مت نئے بکھیڑے پال”
اچھّا ہے اپنے اندر کا، موسم دِھیما رکھ
شدّتِ سرما سے سمٹے، گرمی سے اُدھڑے کھال
ماجد صدیقی

پیٹتا رہ اپنا سینہ، سُرخ اپنی کھال کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
غم میں سب بچھڑے ہوؤں، کے اور پِیلے گال کر
پیٹتا رہ اپنا سینہ، سُرخ اپنی کھال کر
کاج تیرے صبحِ کاذب سے ہیں ڈھلتی شام تک
فکرِ فردا، فکرِدِی، کو چھوڑ، فکرِ حال کر
جس سے تیرا شاہ اور تیرے پیادے بچ سکیں
اے محافظ!اختیار ایسی بھی کوئی چال کر
بعدِ مدّت وہ کہ ہے آنے کو ماہِ عید سا
مکھ پہ مسکاتی رُتوں سے اُس کا استقبال کر
اس کے ہجرِ عارضی کا کیا پتہ؟ ہو یہ علاج
اپنے کاندھوں پر مزّین، اُس کی کومل شال کر
جیت سکتا ہے تو ہاں! لے جِیت قُربت یار کی
فائدہ کیا ہے، رقیبوں کو ذرا سا ٹال کر
جو متاعِ زندگی ماجد!دوبارہ ہے ملی
خرچ اُس کو کر ذرا تُو سینت کر سنبھال کر
ماجد صدیقی

ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
ہم نے کھیلی وقت سے جو بھی چال گئی
ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی
ڈھانپنے والے تھے ہم جس سے سر اپنا
اُس سودے میں ساتھ ہی اپنی کھال گئی
خواہش، لُطف کی آخری حد چھُو لینے کی
چھین کے ہم سے کیا کیا ماہ و سال گئی
دیکھا رنگ اور رُوپ دلائے جس نے اِنہیں
پیڑوں کو آثار میں وُہ رُت ڈھال گئی
ہمیں چِڑانے باغ سے آتی تھی جو صبا
آخر ہم سے بھی ہو کر بے حال گئی
اُس چنچل کی بات کچھ ایسی پیچاں تھی
رگ رگ میں جو سو سو گرہیں ڈال گئی
ماجدؔ بات ہماری لیکھ سنورنے کی
ہر جاتی رُت اگلی رُت پر ٹال گئی
ماجد صدیقی

خلق جِسے کمزور کا استحصال کہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
زورآور اُس فن کو اپنی ڈھال کہے
خلق جِسے کمزور کا استحصال کہے
دیکھ رہی ہے ہاتھ دُعا کا بن بن کر
بادل سے کیا اور چمن کی آل کہے
رُخصت ہوتے اُس سے وُہی کُچھ مَیں نے کہا
پیڑ سے جو کچھ ٹوُٹ کے گرتی ڈال کہے
اور بھی کیوں لوٹے جا کر انگاروں پر
کون کسی سے اپنے دل کا حال کہے
یہ بھی کسی کے دل کا نقشہ ہو شاید
تُو جس کو شیشے میں آیا بال کہے
آپ کے حق میں اگلے دن اچّھے ہوں گے
بات یہی ہم سے ہر گزرا سال کہے
دل کی بات تجھی سے جیسا کہتا ہو
فیض کہے ماجدؔ یا وُہ اقبال کہے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑