تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

جگر

آنکھ میں مچلی نظر کا لطف لے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 127
سانس کے پل پل سفر کا لطف لے
آنکھ میں مچلی نظر کا لطف لے
ساتھ لاتا ہے جو پیاروں کا ملاپ
انگناں انگناں اُس سحر کا لطف لے
اوس سے بھیگے جو وصلِ یار کے
پھول جیسے اُس پہر کا لطف لے
کربِ خلقت کے سبب بڑھتا ہے جو
تن میں اُس سوزِ جگر کا لطف لے
وہ کہ جو اظہارِ خوبی پر ملے
جی کہے تو ایسی زر کا لطف لے
جب مخالف ہو ہوائے دہر تو
سنسناتے بال و پر کا لطف لے
ہاں عطا ہے سب سے ہٹ کر جو تجھے
تُو بھی ماجد اُس ہنر کا لطف لے
ماجد صدیقی
Advertisements

تماشا ہے اک عمر بھر دیکھئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
قفس دیکھئے بال و پر دیکھئے
تماشا ہے اک عمر بھر دیکھئے
ذرا میری صورت تو پہچانیۓ
ذرا میرے دیوار و در دیکھئے
اُدھر دیکھئے اُن کے جور و ستم
اِدھر آپ میرا جگر دیکھئے
جو مدّت سے ماجدؔ مرے دل میں ہے
وہی خامشی در بہ در دیکھئے
ماجد صدیقی

جذبۂ رشک و رقابت ہے جگر میں اُترا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
اُس سے جو فرقِ ممالک ہے نظر میں اُترا
جذبۂ رشک و رقابت ہے جگر میں اُترا
کاش یہ سوچتا میں ساکھ نہ کھو دوں اپنی
میں کہ تھا پہلے پہل پہلوئے شر میں اُترا
ماجد صدیقی

بے برگ شجر دیکھوں بکھرے ہوئے پر دیکھوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 126
منظر سے ذرا ہٹ کر پل بھر جو ادھر دیکھوں
بے برگ شجر دیکھوں بکھرے ہوئے پر دیکھوں
جلتے ہیں، اگر ان کے ٹخنے بھی کوئی چھولے
قامت میں بہت چھوٹے سب اہلِ نظر دیکھوں
لگتا ہے پرندوں سا بکھرا ہوا رزق اپنا
بیٹھوں بھی تو پیروں کو مصروفِ سفر دیکھوں
کس ابر سے نیساں کے آنکھیں ہیں نم آلودہ
کیا کیا ہیں صدف جن میں بے نام گہر دیکھوں
آتا ہے نظر ماجدؔ! کیا کچھ نہ جبینوں پر
ایسے میں بھلا کس کے مَیں قلب و جگر دیکھوں
ماجد صدیقی

تیر کھانے ہیں پھر جگر پہ ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 96
سر جھکانا ہے اُس کے در پہ ہمیں
تیر کھانے ہیں پھر جگر پہ ہمیں
بھیج کر اُس نے کب خبر لی ہے
زندگانی کے اِس سفر پہ ہمیں
تتلیوں سی لگے نہ ہاتھ لگے
اعتبار اب نہیں سحر پہ ہمیں
آنکھ اٹھنے نہ دے کسی جانب
زہر کا سا گماں ہے زر پہ ہمیں
ہم سے کہہ کر وہ اپنے آنے کی
ٹانک دیتا ہے بام و در پہ ہمیں
جانے کیونکر گماں صحیفوں کا
ہونے لگتا ہے چشمِ تر پہ ہمیں
جانے کس خوف کی لگے ماجدؔ
چھاپ سی اک نگر نگر پہ ہمیں
ماجد صدیقی

ہوتا نہیں چاند کا گزر تک

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
یہ حال ہے اب اُفق سے گھر تک
ہوتا نہیں چاند کا گزر تک
یہ آگ کہاں دبی پڑی تھی
پہنچی ہے جو اَب دل و جگر تک
دیکھا تو یہ دل جہاں نما تھا
محدود تھے فاصلے نظر تک
ہوں راہیِ منزلِ بقا اور
آغاز نہیں ہُوا سفر تک
تھے رات کے زخم یا ستارے
بُجھ بُجھ کے جلے ہیں جو سحر تک
ہے ایک ہی رنگ، دردِ جاں کا
ماجدؔ نمِ چشم سے شرر تک
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑