تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

جگانے

سُبکیاں ہی ہاتھ آئیں حالِ دل سُنانے میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
دوسروں کے دروازے جا کے کھٹکھٹانے میں
سُبکیاں ہی ہاتھ آئیں حالِ دل سُنانے میں
سو تو مَیں گیا لیکن دشت کی عطا کردہ
سب تھکن اُتر آئی ہاتھ کے سرہانے میں
اِک لُغت نگل بیٹھا ناقبول لفظوں کی
میں جِسے تعّرض تھا کنکری چبانے میں
صَرف ہو گئیں کیا کیا سِیٹیوں کی آوازیں
سعد کو سُلانے میں چور کو جگانے میں
قربتوں کی لذّت تھی جو بھی، پر نکلنے پر
کھیت کھیت جا بکھری روزیاں کمانے میں
تیر پر قضا کے بھی دشت میں نظر رکھنا
ندّیاں لگا لیں گی اپنے گنگنانے میں
تذکرے وفاؤں کے کر کے، یار لوگوں کو
لے چلا ہے تُو ماجدؔ کون سے زمانے میں
ماجد صدیقی

تم بھی اے کاش! مرے بھاگ جگانے آتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
ہمرہِ بادِ صبا پُھول کِھلانے آتے
تم بھی اے کاش! مرے بھاگ جگانے آتے
چاند کے قرب سے بے کل ہو سمندر جیسے
ایسی ہلچل مرے دل میں بھی مچانے آتے
جیسے بارش کی جگہ پُھول پہ شبنم کا نزول
تم بھی ایسے میں کسی اور بہانے آتے
رنگِرخسار سے دہکاتے شب و روز مرے
آتشِگل سے مرا باغ جلانے آتے
دینے آتے مجھے تم صبحِبہاراں کی جِلا
اور خوشبو سا رگ و پے میں سمانے آتے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑