تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

جناں

موجۂ آبِ رواں یاد آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
جب ترا لطفِ نہاں یاد آئے
موجۂ آبِ رواں یاد آئے
تجھ سے خسارہ پیار میں پا کے
سُود نہ کوئی زیاں یاد آئے
تیور جب بھی فلک کے دیکھوں
تجھ ابرو کی کماں یاد آئے
راج پاٹ جب دل کا جانچوں
تجھ سا رشکِ شہاں یاد آئے
ہاں ہاں ہر دو بچھڑے مجھ سے
بزم تری کہ جناں یاد آئے
چاند اور لہر کے ربط سے ماجِد
کس کا زورِ بیاں یاد آئے
ماجد صدیقی

اب ذکر بھی جس شخص کا چھالا ہے زباں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کس کس کے لئے تھا وہ سبب راحتِ جاں کا
اب ذکر بھی جس شخص کا چھالا ہے زباں کا
نخچیر کا خوں خاک میں کیوں جذب ہوا تھا
لاحق یہی احساس تھا چیتے کو زباں کا
کھو جانے لگے سُر جو لپکتے تھے فضا میں
پھر اب کے گلا سُوکھ چلا جُوئے رواں کا
دی دھاڑ سنائی ہمیں وحشت کی جدھر سے
رُخ موڑ دیا ہم نے اُسی سمت کماں کا
اوروں کو بھی دے کیوں نہ دکھائی وہ ہمِیں سا
جس خطۂ جاں پر ہے گماں باغِ جناں کا
سوچا ہے کبھی ہم سے چلن چاہے وہ کیسا
جس خاک کا برتاؤ ہے ہم آپ سے ماں کا
کیوں گھر کے تصّور سے اُبھرتا ہے نظر میں
نقشہ کسی آندھی میں گِھرے کچّے مکاں کا
بولے گا تو لرزائے گا ہر قلبِ تپاں کو
ماجدؔ نہ بدل پائے گا انداز فغاں کا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑