تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

جلے

وہ پیڑ باغ میں کبھی پھولے پھلے نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
فیضان جن کے مِلکِ خلائق ہوئے نہیں
وہ پیڑ باغ میں کبھی پھولے پھلے نہیں
گزرا ہے جو بھی، خوب نہ تھا اور جو آئیگا
لگتا ہے اُس سمے کے بھی تیور بھلے نہیں
کہنے کو رُت نے بوندیاں برسا تو دیں مگر
شدّت بہت تھی جن میں پہر وہ دُھلے نہیں
بوندوں شعاعوں، چہروں، نگاہوں سے کچھ ملے
سب راز کائنات کے ہم پر کُھلے نہیں
برسات کی نمود بھی ہے اور بہار بھی
موسم ہیں جو بھی اپنے یہاں وہ بُرے نہیں
غاصب کو جرم اُس کا سجھائے ہے آئنہ
ہم کیا اُسے سُجھائیں کہ ہم آئنے نہیں
پیچھا کیا ہے برف نے، لُو نے بطورِ خاص
کتنے بدن تھے اُن سے جو ماجد جلے نہیں
ماجد صدیقی

دن مجھے بھی کوئی تو دے ایسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 103
عرش قدموں میں ہو، لگے ایسا
دن مجھے بھی کوئی تو دے ایسا
مجھ سے بھی ہیں قرابتیں اُس کی
کاش وہ شخص بھی کہے ایسا
جس سے میرا بدن دو نِیم ہوا
وار دوراں نہ پھر کرے ایسا
دل یہ کہتا ہے خِرمن خواہش
راکھ بن کر اُڑے، جلے ایسا
جس سے واضح ہو وحشتِ انساں
کوئی نکلا نہ ایکسرے ایسا
ہو تاسّف پہ ختم جو ماجدؔ
مول خطرہ کوئی نہ لے ایسا
ماجد صدیقی

شکم کی پرورش میں دیکھیئے مجرم ہوئے ہم بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
طلب پر مُنصفوں کی لو، عدالت میں چلے ہم بھی
شکم کی پرورش میں دیکھیئے مجرم ہوئے ہم بھی
بس اِتنی سی خطا پر، کھوجتے ہیں رزق کیوں اپنا
نگاہوں میں خداوندوں کی کیا کیا کچھ گرے ہم بھی
رگڑتے ایڑیاں، عزّت کی روزی تک پہنچنے میں
نہیں کیا کیا کہیں روکے، کہیں نوچے گئے ہم بھی
پرندوں سا یہ بّچے پالنا بھی، عیب ٹھہرا ہے
بنائیں دشت میں جا کر کہیں اَب گھونسلے ہم بھی
کہیں بے روزگاری پر وظیفے، اور کہیں دیکھو
یہ ہم جو خود کماؤُ ہیں، گئے ہیں دھر لئے ہم بھی
اَب اِس سے بڑھ کے ماجدؔ اور دوزخ دیکھنا کیسا
کہ ادراکِ حقائق سے نہیں کیا کچھ جلے ہم بھی
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑