تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

جلا

رخت میں نقدِ بقا باندھتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 196
ہم جو مضموں کی ہوا باندھتے ہیں
رخت میں نقدِ بقا باندھتے ہیں
اہلِ فن لفظ و ندا میں دیکھو!
کیسے سپنوں کا لکھا باندھتے ہیں
دل کے مَیلے ہیں جو کھولیں کیسے
جو گرہ اہلِ صفا باندھتے ہیں
جور بے طرح سخن میں لائیں
وہ جو زینب کی ردا باندھتے ہیں
وہ جنہیں اَوج نشینوں سے ملے
طرّۂ ناز بڑا باندھتے ہیں
وسوسہ دل میں نہ پالیں کوئی
ہم کہ ہر عہد کُھلا باندھتے ہیں
سوداکاری میں اَنا کی پڑ کے
لوگ جسموں کی بہا باندھتے ہیں
جو ہنرور ہیں نئی نسلوں کے
مٹھی مٹھی میں جلا باندھتے ہیں
وہ کہ موجد ہیں۔۔درونِ مادہ
نو بہ نو عکس و صدا باندھتے ہیں
بیٹیاں عمر بِتائیں روتے
اُن کو ماں باپ کُجا باندھتے ہیں
زور تن میں ہو تو ہر بات میں ہم
ناروا کو بھی روا باندھتے ہیں
ہو جہاں ذکرِ عقائد اس میں
ہم صنم تک کو خدا باندھتے ہیں
اپنے جیسوں پہ جو ڈھاتے ہیں ستم
اپنے پلّو میں وہ کیا باندھتے ہیں
سینہٗ شب میں کرے چھید وہی
ہم کہ جگنو کو دِیا باندھتے ہیں
ہم کبوتر کے پروں میں ماجد
لطفِ یاراں کا صلہ باندھتے ہیں
ماجد صدیقی
Advertisements

گھونسلے میں لوٹے تو گھونسلا جلا پایا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 178
برق و باد کو ہم نے یوں جلا بُھنا پایا
گھونسلے میں لوٹے تو گھونسلا جلا پایا
پیار کے لبادے میں گائے دوہ ڈالی ہے
ہم نے کیا سبھوں نے یوں اپنا مدّعا پایا
مُزدکش کسانوں نے بند باندھنے کیا تھے
کھیت کھیت ژالوں نے راستہ کُھلا پایا
اور سب کو رہنے دو پُھول بھی کِھلے جب تو
جس کو چھیڑ کردیکھا اُس کے باحیا پایا
جو ہُنر بھی آتا تھا وہ دکھا کے بندر نے
حظ اُٹھانے والوں کو بُت بنا کھڑا پایا
جس کو مِل گئی کُرسی، جس کو مِل گئے ٹھیکے
اور اِک محل اُس کا شہر میں اُٹھا پایا
جو ذراسا بھی اُترا تیرے خِظّۂ فن میں
اُس نے آخرش ماجد لطفِ بے بہا پایا
ماجد صدیقی

ہونٹ ہلا اور پھول کھلا دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 126
رُت کو نیا جامہ پہنا دے
ہونٹ ہلا اور پھول کھلا دے
مَے اک اور ملا دے مَے میں
مستیٔ قرب کا جام چڑھا دے
صبر نہ جس میں ہو تیس دنوں کا
مُژدۂ عید ابھی وہ سنا دے
جس کے بعد جِناں ملتی ہو
حشر مری جاں میں وہ اٹھا دے
نام ترے یہ جو دل نے سجائی
آ اِس بزم کے بھاگ جگا دے
قرب ترا گر معجزہ ہے تو
آ اور اجڑے بدن کو جِلا دے
جس نے ترا قد کاٹھ بڑھایا
ماجد کے لکھے کو دعا دے
ماجد صدیقی

یار ہمارے پاس ہمارے آ بیٹھیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
خود کو ناقدروں سے کہیں نہ لٹا بیٹھیں
یار ہمارے پاس ہمارے آ بیٹھیں
میڈیا والے کہہ کے یہی نت سوتے ہیں
تنگ عوام عدالتیں خود نہ لگا بیٹھیں
گھونسلے بے آباد کریں جب چڑیوں کے
حرصی کوّے اگلے بام پہ جا بیٹھیں
سینت سنبھال کے جگہ جگہ سامانِ فنا
انساں خود ہی حشر کہیں نہ اُٹھا بیٹھیں
بے گھر بے در سارے آگ سے غفلت کی
سوتے سوتے جھونپڑیاں نہ جلا بیٹھیں
خواہشیں جن کی دے کے جنم روکے رکھیں
بچے ماں اور باپ کو سچ نہ سجھا بیٹھیں
ماجد صاحب ہم بھی باغی دلہن جیسا
زیورِ کرب نہ اپنی جبیں پہ سجا بیٹھیں
ماجد صدیقی

میں کہاں ہوں مجھے اِتنا ہی بتا دے کوئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
دشتِ خواہش میں کہیں سے تو صدا دے کوئی
میں کہاں ہوں مجھے اِتنا ہی بتا دے کوئی
دل میں جو کچھ ہے زباں تک نہ وہ آنے پائے
کاش ہونٹوں پہ مرے مُہر لگا دے کوئی
فصل ساری ہے تمنّاؤں کی یک جا میری
میرا کھلیان نہ بے درد جلا دے کوئی
وہ تو ہو گا، جو مرے ذمّے ہے، مجھ کو چاہے
وقت سے پہلے ہی دریا میں بہا دے کوئی
میں بتاؤں گا گئی رُت نے کیا ہے کیا کیا
میرے چہرے سے جمی گرد ہٹا دے کوئی
موسمِ گل نہ سہی، بادِ نم آلود سہی
شاخِ عریاں کو دلاسہ تو دلا دے کوئی
ہے پس و پیش جو اپنا یہ مقّدر ماجدؔ
آخری تیر بھی ترکش سے چلا دے کوئی
ماجد صدیقی

ہاں سانس یہی خُدا نُما ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
یہ سانس عطّیۂ خُدا ہے
ہاں سانس یہی خُدا نُما ہے
قربت میں بھی فاصلہ ہے لازم
یہ راز اِک عمر میں کُھلا ہے
پِھرپنکھ کسی کے پھڑپھڑائے
ہاں گھونسلا پھر کوئی جلا ہے
ہونٹوں پِہ سجی ہے بات دل کی
غنچہ سرِ شاخ کِھل چلا ہے
آئی ہے تری گلی سے ہو کر
سرمست وگرنہ کیوں ہوا ہے
ماجِد یہ شریر موسمِ گلُ
تیری ہی طرح کا منچلا ہے
ماجد صدیقی

کہ جو گفتنی ہے، زبان پر نہ کوئی بھی شہر میں لا سکے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
جو مِلے تو والیٔ شہر کو یہی بات ہم بھی بتا سکے
کہ جو گفتنی ہے، زبان پر نہ کوئی بھی شہر میں لا سکے
جو ٹلا عقاب تو برق نے ہیں چڑھائے تیر سرِکماں
ہے کوئی کہ جور سے فاختہ کو جو آسماں کے بچا سکے
ہے یہی تو اُس کا کمالِ فن، کہ ہے راستی میں وُہ پُرفتن
نہ بچا کوئی سرِانجمن، جو فریب اُس کا نہ کھا سکے
سبھی کشتیاں سرِ آب ہیں کہ جو مبتلائے عذاب ہیں
جو بُکا کسی کی سُنے بھی تو کوئی کیا کرشمہ دکھا سکے
جو نہیں ہے ابرِ کرم کہیں تو فلک سے بھیج وُہ آگ ہی
کہ جو کشتِ جاں میں بسی ہوئی نمِ آرزو ہی جلا سکے
ہوئے شل جو وار سے غیر کے اُنہی بازوؤں کی کمان پر
یہ ہمِیں تھے تیرِ سخن تلک کسی طَور جو نہ چڑھا سکے
سبھی مصلحت کے اسیر تھے کوئی تھا نہ ہم ساخسارہ جُو
ہمِیں ایکِماجدؔ سادہ دل‘ نہ ابال دل کا دبا سکے
ماجد صدیقی

کسی طرح ہی سے دیجے، مجھے سزا دیجے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
ثبوتِ جرم کی صورت کوئی بنا دیجے
کسی طرح ہی سے دیجے، مجھے سزا دیجے
اُٹھے جو حرفِ حمایت کوئی مرے حق میں
دمِ نمود سے پہلے اُسے دبا دیجے
دراز قد ہوں تو پھر گاڑئیے زمیں میں مجھے
جو فرق اعلیٰ و ادنیٰ میں ہے مٹا دیجے
گرفت گر مری پرواز پر نہیں ہے تو کیا
نظر کی آگ سے ہی پر مرے جلا دیجے
کتابِ عدل میں کیا؟ جو تہہِ خیال میں ہے
وُہ حکمِ خاص بھی اَب خیر سے سُنا دیجے
کھنچو نہ میرے نشیمن کے ہم نشیں پتّو!
یہ جل اٹُھا ہے تو تُم بھی اِسے ہوا دیجے
میانِ دیدہ و لب، شعلۂ بیاں ماجدؔ!
کہو اُنہیں کہ جہاں بھی اُٹھے،بُجھا دیجے
ماجد صدیقی

خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے
خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے
انگوٹھہ منہ سے نکلا ہے تو بچّہ
نجانے چیخنے کیوں لگ پڑا ہے
کسی کو پھر نگل بیٹھا ہے شاید
سمندر جھاگ سی دینے لگا ہے
گماں یہ ہے کہ بسمل کے بدن میں
کسی گھاؤ کا مُنہ پھر کُھل گیا ہے
ہوئی ہر فاختہ ہم سے گریزاں
نشاں جب سے عقاب اپنا ہوا ہے
وُہ دیکھو جبر کی شدّت جتانے
کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے
بڑی مُدّت میں آ کر محتسب بھی
فقیہہِ شہر کے ہتّھے چڑھا ہے
لگے جیسے خطا ہر شخص اپنی
مِرے ہی نام لکھتا جا رہا ہے
بھُلا کر دشت کی غُّراہٹیں سب
ہرن پھر گھاٹ کی جانب چلا ہے
چلیں تو سیدھ میں بس ناک کی ہم
اِسی میں آپ کا، میرا بھلا ہے
دیانت کی ہمیں بھی تاب دے وُہ
شجر جس تاب سے پھُولا پھَلا ہے
بہلنے کو، یہ وُہ بستی ہے جس میں
بڑوں کے ہاتھ میں بھی جھنجھنا ہے
ملانے خاک میں، میری توقّع
کسی نے ہاتھ ٹھوڑی پر دھرا ہے
نہیں ہے سیج، دن بھی اُس کی خاطر
جو پہرہ دار شب بھر جاگتا ہے
کھِلے تو شاذ ہی مانندِ نرگس
لبوں پر جو بھی حرفِ مُدعّا ہے
نجانے ذکر چل نکلا ہے کس کا
قلم کاغذ تلک کو چُومتا ہے
اَب اُس سے قرب ہے اپنا کُچھ ایسا
بتاشا جیسے پانی میں گھُلا ہے
ہوئی ہے اُس سے وُہ لمس آشنائی
اُسے میں اور مجھے وُہ دیکھتا ہے
وُہ چاند اُترا ہوا ہے پانیوں میں
تعلّق اُس سے اپنا برملا ہے
نِکھر جاتی ہے جس سے رُوح تک بھی
تبسّم میں اُسی کے وُہ جِلا ہے
مَیں اُس سے لُطف کی حد پوچھتا ہوں
یہی کچُھ مجُھ سے وُہ بھی پُوچتھا ہے
بندھے ہوں پھُول رومالوں میں جیسے
مری ہر سانس میں وُہ یُوں رچا ہے
لگے ہے بدگماں مجھ سے خُدا بھی
وُہ بُت جس روز سے مجھ سے خفا ہے
جُدا ہو کر بھی ہوں اُس کے اثر میں
یہی تو قُرب کا اُس کے نشہ ہے
کہیں تارا بھی ٹوٹے تو نجانے
ہمارا خُون ہی کیوں کھولتا ہے
ہمارے رزق کا اِک ایک دانہ
تہِ سنگِ گراں جیسے دبا ہے
مِری چاروں طرف فریاد کرتی
مِری دھرتی کی بے دم مامتا ہے
رذالت بھی وراثت ہے اُسی کی
ہر اِک بچّہ کہاں یہ جانتا ہے
چھپا جو زہر تھا ذہنوں میں، اَب وُہ
جہاں دیکھو فضاؤں میں گھُلا ہے
اجارہ دار ہے ہر مرتبت کا
وُہی جو صاحبِ مکر و رِیا ہے
سِدھانے ہی سے پہنچا ہے یہاں تک
جو بندر ڈگڈگی پر ناچتا ہے
سحر ہونے کو شب جس کی، نہ آئے
اُفق سے تا اُفق وُہ جھٹپٹا ہے
نظر والوں پہ کیا کیا بھید کھولے
وُہ پتّا جو شجر پر ڈولتا ہے
وہاں کیا درسِ بیداری کوئی دے
جہاں ہر ذہن ہی میں بھُس بھرا ہے
ہوئی ہے دم بخود یُوں خلق جیسے
کوئی لاٹو زمیں پر سو گیا ہے
جہاں جانیں ہیں کچھ اِک گھونسلے میں
وہیں اِک ناگ بھی پھُنکارتا ہے
شجر پر شام کے، چڑیوں کا میلہ
صدا کی مشعلیں سُلگا رہا ہے
کوئی پہنچا نہ اَب تک پاٹنے کو
دلوں کے درمیاں جو فاصلہ ہے
نجانے رشک میں کس گلبدن کے
چمن سر تا بہ سر دہکا ہوا ہے
بہ نوکِ خار تُلتا ہے جو ہر دم
ہمارا فن وُہ قطرہ اوس کا ہے
یہی عنواں، یہی متنِ سفر ہے
بدن جو سنگِ خارا سے چِھلا ہے
نہیں پنیچوں کو جو راس آسکا وُہ
بُرا ہے، شہر بھر میں وُہ بُرا ہے
پنہ سُورج کی حّدت سے دلانے
دہانہ غار کا ہر دَم کھُلا ہے
جو زور آور ہے جنگل بھی اُسی کی
صدا سے گونجتا چنگھاڑتا ہے
نجانے ضَو زمیں کو بخش دے کیا
ستارہ سا جو پلکوں سے ڈھلا ہے
نہیں ہے کچھ نہاں تجھ سے خدایا!
سلوک ہم سے جو دُنیا نے کیا ہے
نجانے یہ ہُنر کیا ہے کہ مکڑا
جنم لیتے ہی دھاگے تانتا ہے
نہیں ہے شرطِ قحطِ آب ہی کچھ
بھنور خود عرصۂ کرب و بلا ہے
عدالت کو وُہی دامانِ قاتل
نہ دکھلاؤ کہ جو تازہ دُھلا ہے
گرانی درد کی سہنے کا حامل
وُہی اَب رہ گیا جو منچلا ہے
بہ عہدِ نو ہُوا سارا ہی کاذب
بزرگوں نے ہمیں جو کچھ کہا ہے
سُنو اُس کی سرِ دربار ہے جو
اُسی کا جو بھی فرماں ہے، بجا ہے
ہُوا ہے خودغرض یُوں جیسے انساں
ابھی اِس خاک پر آ کر بسا ہے
بتاؤ خلق کو ہر عیب اُس کا
یہی مقتول کا اَب خُوں بہا ہے
ہُوا ہے جو، ہُوا کیوں صید اُس کا
گرسنہ شیر کب یہ سوچتا ہے
بہم جذبات سوتیلے ہوں جس کو
کہے کس مُنہ سے وُہ کیسے پلا ہے
ملیں اجداد سے رسمیں ہی ایسی
شکنجہ ہر طرف جیسے کَسا ہے
جو خود کج رَو ہے کب یہ فرق رکھّے
روا کیا کچھ ہے اور کیا ناروا ہے
ذرا سی ضو میں جانے کون نکلے
اندھیرے میں جو خنجر گھونپتا ہے
سحر ہو، دوپہر ہو، شام ہو وُہ
کوئی بھی وقت ہو ہم پر کڑا ہے
جِسے کہتے ہیں ماجدؔ زندگانی
نجانے کس جنم کی یہ سزا ہے
کسی کا ہاتھ خنجر ہے تو کیا ہے
مرے بس میں تو بس دستِ دُعا ہے
جھڑا ہے شاخ سے پتّا ابھی جو
یہی کیا پیڑ کا دستِ دُعا ہے
اَب اُس چھت میں بھی، ہے جائے اماں جو
بہ ہر جا بال سا اک آ چلا ہے
وُہ خود ہر آن ہے نالوں کی زد میں
شجر کو جس زمیں کا آسرا ہے
نظر کیا ہم پہ کی تُو نے کرم کی
جِسے دیکھا وُہی ہم سے خفا ہے
بڑوں تک کو بنا دیتی ہے بونا
دلوں میں جو حسد جیسی وبا ہے
جو موزوں ہے شکاری کی طلب کو
اُسی جانب ہرن بھی دوڑتا ہے
گھِرے گا جور میں جب بھی تو ملزم
کہے گا جو، وُہی اُس کی رضا ہے
تلاشِ رزق میں نِکلا پرندہ
بہ نوکِ تیر دیکھو جا سجا ہے
کہے کیا حال کوئی اُس نگر کا
جہاں کُتّا ہی پابندِ وفا ہے
وُہ پھل کیا ہے بہ وصفِ سیر طبعی
جِسے دیکھے سے جی للچا رہا ہے
بظاہر بند ہیں سب در لبوں کے
دلوں میں حشر سا لیکن بپا ہے
جہاں رہتا ہے جلوہ عام اُس کا
بہ دشتِ دل بھی وُہ غارِ حرا ہے
نمائش کی جراحت سے نہ جائے
موادِ بد جو نس نس میں بھرا ہے
نہ پُوچھے گا، بکاؤ مغویہ سا
ہمیں کس کس ریا کا سامنا ہے
نجانے نیم شب کیا لینے، دینے
درِ ہمسایہ پیہم باجتا ہے
مہِ نو سا کنارِ بام رُک کر
وُہ رُخ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے
کرا کے ماں کو حج دُولہا عرب سے
ویزا کیوں ساس ہی کا بھیجتا ہے
لگے تازہ ہر اک ناظر کو کیا کیا
یہ چہرہ آنسوؤں سے جو دھُلا ہے
ہُوا جو حق سرا، اہلِ حشم نے
اُسی کا مُنہ جواہر سے بھرا ہے
بہن اَب بھی اُسے پہلا سا جانے
وُہ بھائی جو بیاہا جا چکا ہے
مسیحاؤں سے بھی شاید ہی جائے
چمن کو روگ اَب کے جو لگا ہے
ہمیں لگتا ہے کیوں نجمِ سحر سا
وُہ آنسو جو بہ چشمِ شب رُکا ہے
پھلوں نے پیڑ پر کرنا ہے سایہ
نجانے کس نے یہ قصّہ گھڑا ہے
اُترتے دیکھتا ہوں گُل بہ گُل وُہ
سخن جس میں خُدا خود بولتا ہے
بشارت ہے یہ فرعونوں تلک کو
درِ توبہ ہر اک لحظہ کھُلا ہے
نہیں مسجد میں کوئی اور ایسا
سرِ منبر ہے جو، اِک باصفا ہے
خُدا انسان کو بھی مان لوں مَیں
یہی شاید تقاضا وقت کا ہے
دیانت سے تقاضے وقت کے جو
نبھالے، وُہ یقینا دیوتا ہے
مداوا کیا ہمارے پیش و پس کا
جہاں ہر شخص دلدل میں پھنسا ہے
لگا وُہ گھُن یہاں بدنیّتی کا
جِسے اندر سے دیکھو کھوکھلا ہے
عناں مرکب کی جس کے ہاتھ میں ہے
وُہ جو کچھ بھی اُسے کہہ دے روا ہے
کشائش کو تو گرہیں اور بھی ہیں
نظر میں کیوں وُہی بندِ قبا ہے
بغیر دوستاں، سچ پُوچھئے تو
مزہ ہر بات ہی کا کرکرا ہے
بنا کر سیڑھیاں ہم جنس خُوں کی
وُہ دیکھو چاند پر انساں چلا ہے
پڑے چودہ طبق اُس کو اُٹھانے
قدم جس کا ذرا پیچھے پڑا ہے
مری کوتاہ دستی دیکھ کر وُہ
سمجھتا ہے وُہی جیسے خُدا ہے
تلاشِ رزق ہی میں چیونٹیوں سا
جِسے بھی دیکھئے ہر دم جُتا ہے
وُہی جانے کہ ہے حفظِ خودی کیا
علاقے میں جو دشمن کے گھِرا ہے
صبا منت کشِ تغئیرِ موسم
کلی کھِلنے کو مرہونِ صبا ہے
بصارت بھی نہ دی جس کو خُدا نے
اُسے روشن بدن کیوں دے دیا ہے
فنا کے بعد اور پہلے جنم سے
جدھر دیکھو بس اِک جیسی خلا ہے
ثمر شاخوں سے نُچ کر بے بسی میں
کن انگاروں پہ دیکھو جا پڑا ہے
یہاں جس کا بھی پس منظر نہیں کچھ
اُسے جینے کا حق کس نے دیا ہے
کوئی محتاج ہے اپنی نمو کا
کوئی تشنہ اُسی کے خُون کا ہے
وطن سے دُور ہیں گو مرد گھر کے
بحمداﷲ گھر تو بن گیا ہے
ٹلے خوں تک نہ اپنا بیچنے سے
کہو ماجدؔ یہ انساں کیا بلا ہے
ماجد صدیقی

تم بھی جاناں! ذرا مسکرا دیجیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
سبزہ و گل کو اپنا پتا دیجیے
تم بھی جاناں! ذرا مسکرا دیجیے
اس میں بھی بِن تمہارے کشش کچھ نہیں
موسمِ گل کو اتنا بتا دیجیے
دل میں پھر اَوج پر ہے تمہاری لگن
آگ بھڑکی ہے اِس کو ہوا دیجیے
میں نے گستاخ نظروں کو روکا نہیں
اِس بغاوت کی مجھ کو سزا دیجیے
لطف و راحت کے غنچے کِھلے جس قدر
ہجر کی آنچ سے سب جلا دیجیے
ماجد صدیقی

کیوں حق میں ہَوا اُس کے یہ جور روا جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 140
وہ برگ کہ جھڑتا ہے اِس راز کو کیا جانے
کیوں حق میں ہَوا اُس کے یہ جور روا جانے
جس بِل سے ڈسا جائے جائے یہ اُدھر ہی کیوں
پوچھے یہ وہی دل سے جو طرزِ وفا جانے
آتے ہوئے لمحوں کی مُٹھی میں شرارے میں
یا اشک ہیں خوشیوں کے، کیا ہے، یہ خدا جانے
ہونٹوں سے فلک تک ہے پُر پیچ سفر کیسا
یہ بات تو میں سمجھوں یا میری دُعا جانے
بھرنا نہ جنہیں آئے اُن ہجر کے زخموں کو
کیوں چھیڑنے آتی ہے پنجرے میں ہوا جانے
ہر روز جلے جس میں ماجدؔ اُسی آتش سے
ہر شخص کے سینے کو ویسا ہی جلا جانے
ماجد صدیقی

کہ میری جان مرے جسم میں جلا دی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 136
نجانے جرم تھا کیا جس کی یہ سزا دی ہے
کہ میری جان مرے جسم میں جلا دی ہے
رواں دواں ہے ہر اک بازوئے توانا میں
جو رسم خیر سے چنگیز نے چلا دی ہے
کھلی ہے اُس کی حقیقت تو سب ہیں افسردہ
وہ بات جس کو بھرے شہر نے ہوا دی ہے
کمالِ فن ہے یہی عہدِ نو کے منصف کا
کہ جو پُکار بھی اٹھی کہیں، دبا دی ہے
یہی کِیا کہ رہِ شوق میں مری اُس نے
بڑے سکون سے دیوار سی اُٹھا دی ہے
جو آ رہا ہے وہ دن آج سا نہیں ہو گا
تمام عمر اِسی آس پر بِتا دی ہے
جو رہ گیا تھا اُترنے سے آنکھ میں ماجد!ؔ
سخن نے اور بھی اُس دَرد کو جِلا دی ہے
ماجد صدیقی

اور بھید میں کائنات کا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
پانی یہ حباب سا اٹھا ہوں
اور بھید میں کائنات کا ہوں
خلوت میں وہ چاند دیکھنے کو
اشکوں میں کنول سا تیرتا ہوں
پانے کو فراز چاہتوں کا
مَیں دار پہ بارہا سجا ہوں
کیوں ہجر قبول کرکے اُس کا
پھر آگ میں کُودنے لگا ہوں
ہو کچھ بھی جو اختیار حاصل
خود وقت ہوں خود ہی مَیں خدا ہوں
کندن ہی مجھے کہو کہ لوگو!
مَیں دہر کی آگ میں جلا ہوں
رُکنے کا نہ ہو کہیں جو ماجدؔ
فریاد کا مَیں وہ سلسلہ ہوں
ماجد صدیقی

نظر میں کیا یہ الاؤ جلا دئیے تُو نے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
جو سو چکے تھے وُہ جذبے جگا دئیے تُو نے
نظر میں کیا یہ الاؤ جلا دئیے تُو نے
شگفتِ تن سے، طلوعِ نگاہِ روشن سے
تمام رنگ رُتوں کے بھلا دئیے تُو نے
تھا پور پور میں دیپک چھُپا کہ لمس ترا
چراغ سے رگ و پے میں جلا دئیے تُو نے
لباسِ ابر بھی اُترا مِہ بدن سے ترے
حجاب جو بھی تھے حائل اُٹھا دئیے تُو نے
ذرا سے ایک اشارے سے یخ بدن کو مرے
روانیوں کے چلن سب سِکھا دئیے تُو نے
کسی بھی پل پہ گماں اب فراق کا نہ رہا
خیال و خواب میں وہ گُل کھلا دئیے تُو نے
جنم جنم کے تھے سُرتال جن میں خوابیدہ
کُچھ ایسے تار بھی اب کے ہلا دئیے تُو نے
سخن میں لُطفِ حقائق سمو کے اے ماجدؔ
یہ کس طرح کے تہلکے مچا دئیے تُو نے
ماجد صدیقی

یہ مشعلیں بھی جلا کے دیکھو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
آنکھوں میں مری سما کے دیکھو
یہ مشعلیں بھی جلا کے دیکھو
ہے جسم سے جسم کا سخن کیا
یہ بزم کبھی سجا کے دیکھو
پیراک ہوں بحرِ لطفِ جاں کا
ہاں ہاں مجھے آزما کے دیکھو
اُترو بھی لہُو کی دھڑکنوں میں
کیا رنگ ہیں اِس فضا کے دیکھو
مخفی ہے جو خوں کی حِدتّوں میں
وہ حشر کبھی اٹُھا کے دیکھو
بے رنگ ہیں فرطِ خواب سے جو
لمحے وہ کبھی جگا کے دیکھو
بہلاؤ نہ محض گفتگو سے
یہ ربط ذرا بڑھا کے دیکھو
ملہار کے سُر ہیں جس میں پنہاں
وُہ سازِ طرب بجا کے دیکھو
طُرفہ ہے بہت نگاہِ ماجدؔ
یہ شاخ کبھی ہلا کے دیکھو
ماجد صدیقی

خاموش رہا جائے، کُچھ بھی نہ کہا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
ہوتا ہے جو ہو گزرے، دَم سادھ لیا جائے
خاموش رہا جائے، کُچھ بھی نہ کہا جائے
اظہارِ غم جاں کو، قرطاس ہو یہ چہرہ
ہو حرف رقم جو بھی، اشکوں سے لکھا جائے
ہونے کو ستم جو بھی ہو جائے، پہ عدل اُس کا
آئے گا جو وقت اُس پر، بس چھوڑ دیا جائے
خدشہ ہے نہ کٹ جائے، شعلے کی زباں تک بھی
ہر رنج پہ رسی سا، چپ چاپ جلا جائے
بالجبر ملے رُتبہ جس بات کو بھی، حق کا
ماجدؔ نہ سخن ایسا، کوئی بھی سُنا جائے
ماجد صدیقی

کس دن کنجِ قفس دیکھا تھا یاد نہیں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
راہوں میں کب جال بچھا تھا یاد نہیں ہے
کس دن کنجِ قفس دیکھا تھا یاد نہیں ہے
آناً فاناً ہی اِک حشر نظر میں اُٹھا
کاشانہ کس آن جلا تھا یاد نہیں ہے
چپّو چّپو کب گرداب بنے تھے پہلے
طوفاں نے کب گھیر لیا تھا یاد نہیں ہے
یاد ہے آنکھوں کے آگے اِک دُھند کا منظر
کس پل مجھ سے وُہ بچھڑا تھا یاد نہیں ہے
اپنوں ہی میں شاید کُچھ بیگانے بھی تھے
کس جانب سے تیر چلا تھا یاد نہیں ہے
طولِ شبِ ہجراں میں دل کے بانجھ اُفق پر
آس کا چندا کب ڈوبا تھا یاد نہیں ہے
تلخ ہوئی کب اُس کے لہجے کی شیرینی
سانسوں میں کب زہر گھُلا تھا یاد نہیں ہے
تنُد ہوا کو تیغوں جیسا تنتے ویکھا
پیڑ سے رشتہ کب ٹوٹا تھا یاد نہیں ہے
اُس سے اپنا ناتا جُڑتے تو دیکھا تھا
یہ دھاگا کیونکر اُلجھا تھا یاد نہیں ہے
جس پر اُس چنچل کے حکم کی چھاپ لگی تھی
مَیں نے وہ پھل کیوں چکّھا تھا یاد نہیں ہے
گھر گھر فریادی بانہوں کی فصل اُگی تھی
شہر کا موسم کیوں ایسا تھا یاد نہیں ہے
سجتی دیکھ کے سرمے سی شب آنکھوں آنکھوں
میں جانے کیوں چیخ پڑا تھا یاد نہیں ہے
نیل گگن کے نیچے ننھی آشاؤں کا
خیمہ کیسے خاک ہوا تھا یاد نہیں ہے
جگنو جگنو روشنیوں پر لُوٹ مچاتے
اُس کا ماتھا کب چمکا تھا یاد نہیں ہے
طیش میں آ کر جب وہ برسا تو آگے سے
ماجدؔ نے کیا اُس سے کہا تھا یاد نہیں ہے
ماجد صدیقی

رسوائیِ خواہش کو، ہوا اور نہ دینا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
کافی ہے یہی، دل کو سزا اور نہ دینا
رسوائیِ خواہش کو، ہوا اور نہ دینا
پہلے ہی قفس میں ترے احسان بہت ہیں
گھاؤ کوئی، اے موجِ صبا! اور نہ دینا
کیا درد بٹاؤ گے کہ جس سِحر میں ہم ہیں
پتھر ہی نہ ہو جائیں صدا اور نہ دینا
صنّاع کہیں خود نہ کھنچا آئے زمیں پر
اِس چاند سے چہرے کو جِلا اور نہ دینا
حاصل ہے جو تجھ سے ہمیں پھولوں کی مہک سی
اُس قرب کی مہلت کو گھٹا اور نہ دینا
ہے اِس کی شرافت ہی خسارے کو کہاں کم
ماجد کو بزرگی کی رِدا اور نہ دینا
ماجد صدیقی

حرف لکھے کُچھ، بادِ صبا نے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
پھول کہو یا دل کے فسانے
حرف لکھے کُچھ، بادِ صبا نے
برف سے اُجلے چہروں والے
آ جاتے ہیں جی کو جلانے
داغ رُخِ مہ کا دُکھ میرا
میری حقیقت کون نہ جانے
فکر و نظر پر دھُول جمائی
آہوں کی بے درد ہوا نے
دو آنکھوں کے جام لُنڈھا کر
دو ہونٹوں کے پھُول کھِلانے
دونوں ہاتھ نقاب کی صُورت
رکھنے، اور رُخ پر سے ہٹانے
ماجدؔ انجانے میں ہم بھی
بیٹھ رہے کیوں جی کو جلانے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑