تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

جلانے

جو گئے ہیں وُہ نہیں لوٹ کے آنے والے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
جھڑکے شاخوں سے تہِ خاک سمانے والے
جو گئے ہیں وُہ نہیں لوٹ کے آنے والے
بارشِ سنگ سے دوچار تھا انساں کل بھی
کم نہیں آج بھی زندوں کو جلانے والے
آئے مشکیزۂ خالی سے ہوا دینے کو
تھے بظاہر جو لگی آگ بُجھانے والے
ضُعف کس کس نے نہیں خُلق ہمارا سمجھا
ہم کہ آنکھیں تھے بہ ہر راہ بچھانے والے
صدق جذبوں میں بھی پہلا سا نہیں ہے ماجدؔ
اب نہیں خضر بھی وُہ، راہ دکھانے والے
ماجد صدیقی

تم بھی اے کاش! مرے بھاگ جگانے آتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
ہمرہِ بادِ صبا پُھول کِھلانے آتے
تم بھی اے کاش! مرے بھاگ جگانے آتے
چاند کے قرب سے بے کل ہو سمندر جیسے
ایسی ہلچل مرے دل میں بھی مچانے آتے
جیسے بارش کی جگہ پُھول پہ شبنم کا نزول
تم بھی ایسے میں کسی اور بہانے آتے
رنگِرخسار سے دہکاتے شب و روز مرے
آتشِگل سے مرا باغ جلانے آتے
دینے آتے مجھے تم صبحِبہاراں کی جِلا
اور خوشبو سا رگ و پے میں سمانے آتے
ماجد صدیقی

ہنس ہنس کر تم ہی نے پُھول کھلانے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
موسمِ گل کے رنگ تو آنے جانے ہیں
ہنس ہنس کر تم ہی نے پُھول کھلانے ہیں
ہم نے پانے کو تیرے اقرار کی نم
کونجوں جیسے حرف زباں پر لانے ہیں
خوشبو کے مرغولے ،رنگت پُھولوں کی
بھنوروں کے ایسے ہی ٹھور ٹھکانے ہیں
تجھ سے ملنا اور پھر تیرا ہو جانا
ایک حقیقت ،باقی سب افسانے ہیں
قرب ترے کی، چھاؤں میں جا رُکنے کو
دشت کی آنچ میں ہم نے پنکھ جلانے ہیں
ماجد صدیقی

کیا ملے جان بھی جلانے سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 148
ہر کڑے دن کو جی سے جانے سے
کیا ملے جان بھی جلانے سے
ہم قفس تک میں گھر کے آنے سے
باز آئے نہ چہچہانے سے
جس کی خوشبُو ہواؤں تک میں ہے
بھُولتا ہے وُہ کب بھُلانے سے
سنگ پھر جھیل میں گرا کوئی
شور اُٹّھا پھر آشیانے سے
وہ جو بچھڑا تو کب سے ٹھہری ہے
آنکھ محروم جگمگانے سے
وہ کہ غالبؔ نہیں ہے، ماجدؔ ہے
مل ہی لینا تھا اُس یگانے سے
ماجد صدیقی

شجر پھر ہے پتے لُٹانے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 82
رُتوں سے نئی مات کھانے لگا
شجر پھر ہے پتے لُٹانے لگا
انا کو پنپتے ہوئے دیکھ کر
زمانہ ہمیں پھر سِدھانے لگا
جو تھا دل میں ملنے سے پہلے ترے
وہی ولولہ پھر ستانے لگا
چھنی ہے کچھ ایسی اندھیروں سے نم
کہ سایہ بھی اب تو جلانے لگا
دیا جھاڑ ہی شاخ سے جب مجھے
مری خاک بھی اب ٹھکانے لگا
وُہ انداز ہی جس کے تتلی سے تھے
تگ و دو سے کب ہاتھ آنے لگا
نہ پُوچھ اب یہ ماجدؔ! کہ منجدھار سے
کنارے پہ میں کس بہانے لگا
ماجد صدیقی

کسی بھی شاخ پہ کونپل کوئی نہ آنے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
جو دل میں پیڑ کے ہے تا بہ لب نہ لانے دے
کسی بھی شاخ پہ کونپل کوئی نہ آنے دے
کہ تنگ آ کے ترے منہ پہ تھُوک دوں میں بھی
مجھے نہ اِتنی اذّیت بھی اے زمانے! دے
دیا ہے جسم جِسے تابِ ضرب دے اُس کو
کماں ہے ہاتھ میں جس کے اُسے نشانے دے
نہ جھاڑ گردِ الم تُو کسی کے دامن پر
جو بوجھ جسم پہ ہے جسم کو اُٹھانے دے
ضمیرِ سادہ منش! وہ کہ مکر پر ہے تُلا
ہمیں بھی ہاتھ اُسے کچھ نہ کچھ دکھانے دے
ہوا کا خُبت ہے کیا؟ یہ بھی دیکھ لوں ماجد!ؔ
کوئی چراغ سرِ راہ بھی جلانے دے
ماجد صدیقی

کوئی موسم ہو مرا دل ہی دکھانے آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
برگ و گل نوچنے، اثمار گرانے آئے
کوئی موسم ہو مرا دل ہی دکھانے آئے
کچھ بتانے سے اگر بادِصبا عاری ہے
بادِ صرصر ہی سماعت کو جلانے آئے
جس پہ جاں وارنے والا ہے زمانہ سارا
وُہ ہم ایسوں کے کہاں ناز اُٹھانے آئے
نام لکھتے تھے سرِ لوحِ شجر جب اُس کا
لوٹ کر پھر نہ وُہ نادان زمانے آئے
آس بھی دشت میں بس ٹُنڈ شجر ہی نکلی
اوٹ میں جس کی بدن ہم تھے چھپانے آئے
کیا کہوں اُن کی نظر بھی تو مرے رخت پہ تھی
تھے بھنور سے جو مری جان بچانے آئے
کر گئے اور ہرے زخم، قفس میں ماجدؔ!
جتنے جھونکے مرا اندوہ گھٹانے آئے
ماجد صدیقی

چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے
اَب کے ستمگر ، کھوپڑیوں سے ہوں جو مرصّع
اُن میناروں کی بنیاد اُٹھانے نکلے
وہ کہ بہت نازاں تھے مہذّب ہونے پر جو
ہوّے بن کر خلق کو ہیں دہلانے نکلے
یکجا کر کے جتنے کھلونے تھے بارودی
بالغ بچّے ، الٹا کھیل رچانے نکلے
ہم نے جلائے شہروں شہروں جن کے پُتلے
وہ جسموں کی تازہ فصل جلانے نکلے
ہم جانے کس بِرتے پر نم آنکھیں لے کر
سنگ دلوں کو ماجد موم بنانے نکلے
جنگِ خلیج کے پس منظر میں
ماجد صدیقی

پھُول مرضی کے کسی کو نہ کھلانے دینا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
آگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دینا
پھُول مرضی کے کسی کو نہ کھلانے دینا
چکھنے دینا نہ کبھی لمحۂ موجود کا رس
جب بھی دینا ہمیں تم خواب سُہانے دینا
جس کی تعمیر میں کاوش کا مزہ اُس کو مِلے
تُم نہ بالک کو گھروندا وُہ بنانے دینا
روشنی جس کے مکینوں کو بصیرت بخشے
ایسی کٹیا میں دیا تک نہ جلانے دینا
راندۂ خلق ہے، جو پاس تمہارا نہ کرے
درس اب یہ بھی کسی اور بہانے دینا
سنگ ہو جاؤ گے حق بات ہے جس میں ماجدؔ
ایسی آواز نہ تم شہ کے سرہانے دینا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑