تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

جال

شہر لہور چ ٹُردیاں پھِردیاں، جنج تصویراں مال دیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 90
گُزرے دِناں دی یادوں لشکن، پرتاں اِنج خیال دیاں
شہر لہور چ ٹُردیاں پھِردیاں، جنج تصویراں مال دیاں
’’لغراں ورگا، کھیتاں وچ نکھیڑویں سِٹیاں وانگر دا‘ ‘
اوہ تیرا کی لگدا اے نی اُس توں پچھن نال دیاں
سہہ سہہ کے میں تھکیاواں، تے حالے خورے بھُگتاں گا
ہور سزاواں کی کی، اپنے نانویں، نکلی فال دیاں
رُت چیتر دی، وانگ فراتاں، دُور کھلوتی ہّسے پئی
دھرتی دے منہ، تر یہہ دیاں گلاں نیں، باگاں دی آل دیاں
آس دا پنچھی پھڑکیا وی تے، آپنے پنکھ ائی توڑے گا
ڈاہڈیاں کَس کے تنیاں دِسّن، تَنیاں دُکھ دے جال دیاں
سر توں اُٹھیاں سایاں ورگی، مُکھڑے پرت اُداسی دی
دل دے اندر سدھراں وسّن، ماں توں وِچھڑے بال دیاں
آوندے دناں دے خوفوں جیئوں جیئوں رنگت پیلی پیندی اے
ہور وی اُگھڑن منہ تے، وجیاں نوہندراں پچھلے سال دیاں
شعراں وچ اوہدی ایس کاٹ نوں، انت نُوں مننا ای پینا ایں
ماجدُ وِتّھاں میل رہیا اے، دِلّی تے چکوال دیاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

توڑ کے جدوں نکلے اسیں تنیاں دُکھ دے جال دیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 23
پرت کے دن پئے یاد دلاون سَیتاں اوس ای سال دیاں
توڑ کے جدوں نکلے اسیں تنیاں دُکھ دے جال دیاں
پتھراں تھلے اُگیا گھاہ سی، اک اک ساہ وچ سینے دے
کی دسّئیے کنج تن تے جریاں رُتاں انت وبال دیاں
اک ذری بیڑی ڈولن تے اکھّیاں وچ پھر جان پّیاں
ذہناں دے وچ لتھیاں یاداں خورے کس جنجال دیاں
کنج ہوٹھاں تے پپڑیاں جمّیاں، کنج اکھیں دَبھ جم گئی سی
صدیاں تیکن پین گیاں ایہہ سَتھاں سُکھ دے کال دیاں
کدھرے تے ایہہ قدم اساڈے اُٹھن وَل اُس گُٹھ دے وی
من مِتھے جس اُچ نوں ساڈیاں ایہہ اکھیاں نیں بھالدیاں
آہنڈھ گواہنڈ چ ساڈا سر وی تد ائی اُچیاں رہنا ایں
کُھدراں وسوں کر کے دسّیئے جد باگاں دے نال دیاں
اَدھ کھِڑیاں کلیاں دے ہاسے، ماجدُ ہوٹھیں ورتن پئے
جیٔوں جیٔوں اندر جگدیاں تکئیے سدھراں ابھل بال دیاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

مرے مدّعا و بیان میں، ہو ملائمت تری چال سی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 214
کوئی فاختائی سی نظم ہوکوئی اِک غزل ہو غزال سی
مرے مدّعا و بیان میں، ہو ملائمت تری چال سی
مری کیفیات کے صحن میں، ہے کہاں سے آئی ہے یہ ذہن میں
مرے ارد گرد تنی ہوئی یہ جو موجِ خوف ہے جال سی
کھلی آنکھ تب سے یہ سوچتے، گئی بِیت عمرِ طویل بھی
کہ نفس نفس میں ہے کیوں مرے؟ یہ گھڑی گھڑی ہے جو سال سی
ہوئیں التجائیں نہ بارور، کوئی چاہ ٹھہری نہ کارگر
نہ ہوئیں دعائیں وہ باثمر، تھیں جواختیار میں ڈھال سی
مرا تن بدن مرا عکس ہے، مری آنکھ ہے مرا آئنہ
وہی عمر اُس کی بَتائے ہے، ہے تنِ شجر پہ جو چھال سی
ترے لفظ لفظ میں ہے کھنک، ترے مکھ پہ فکر کی ہے دھنک
تری لَے بھی ماجِدِ خوش گلو، ہے رفیع، اوجِ کمال سی
ماجد صدیقی

مرے مدّعا و بیان میں ، ہو ملائمت تری چال سی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 113
کوئی فاختائی سی نظم ہو کوئی اِک غزل ہو غزال سی
مرے مدّعا و بیان میں ، ہو ملائمت تری چال سی
مری کیفیات کے صحن میں، ہے کہاں سے آئی ہے یہ ذہن میں
مرے ارد گرد تنی ہوئی یہ جو موجِ خوف ہے جال سی
کوئی گھر بغیرِ نگاہ باں، ہو اجاڑ جیسے سر جہاں
لگے آس پاس کی خلق کیوں؟ مجھے لحظہ لحظہ نڈھال سی
کھلی آنکھ تب سے یہ سوچتے، گئی بِیت عمرِ طویل بھی
کہ نفس نفس میں ہے کیوں مرے؟ یہ گھڑی گھڑی ہے جو سال سی
ہوئیں التجائیں نہ بارور، کوئی چاہ ٹھہری نہ کارگر
نہ ہوئیں دعائیں وہ باثمر، تھیں جواختیار میں ڈھال سی
مرا تن بدن مرا عکس ہے، مری آنکھ ہے مرا آئنہ
وہی عمر اُس کی بَتائے ہے، ہے تنِ شجر پہ جو چھال سی
ترے لفظ لفظ میں ہے کھنک، ترے مکھ پہ فکر کی ہے دھنک
تری لَے بھی ماجِدِ خوش گلو، ہے رفیع، اوجِ کمال سی
ماجد صدیقی

اب تو ڈھنگ سے جینے کی کوئی طُرفہ راہ نکال

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
ستّر سے بھی اُوپر ہو گئے، ماجِد! عمر کے سال
اب تو ڈھنگ سے جینے کی کوئی طُرفہ راہ نکال
اپنا غم، اوروں کے غم، ۔۔۔اور، اور کئی جنجال
سانسوں تک میں اُترے دیکھیں اِن فِتنوں کے جال
سورج چندا تک توہمارے انگناں اُتریں روز
کسے بتائیں کس سے کہیں ہم، جا کر اپنا حال
اور نہیں خود ہمِیں اُٹھائیں قدم نئے سے نیا
پھر کاہے کو دُوجوں سے ہم رہنے لگیں نِڈھال
دھڑکن دھڑکن خوں میں ہمارے جو موجود رہے
ہاں یہ وقت ہے ہم سے جو، کھیلے ہر اُلٹی چال
میں ہوں کہ تُو، ہم حرصی خود سے کبھی کہیں نہ یہ بات
’’اپنی قامت مت نیہوڑا، مت نئے بکھیڑے پال”
اچھّا ہے اپنے اندر کا، موسم دِھیما رکھ
شدّتِ سرما سے سمٹے، گرمی سے اُدھڑے کھال
ماجد صدیقی

چَپک کے رہ گئے ہونٹوں سے سب سوال اپنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 83
نظر میں رنج ہے سہلا رہا ہوں گال اپنے
چَپک کے رہ گئے ہونٹوں سے سب سوال اپنے
اجُڑ گئے کسی بیوہ کے گیسوؤں کی طرح
وہ جن پہ ناز تھا، ہاں ہاں وہ ماہ و سال اپنے
ہوا کی کاٹ بھی دیکھ اور اپنی جان بھی دیکھ
جنوں کے مُرغ! نہ تو بال و پر پر نکال اپنے
اِدھر تو کاہِ نشیمن نہ چونچ تک پہنچا
اُٹھا کے دوش پہ نکلے اُدھر وہ جال اپنے
اُڑان ہی سے تھے فیضان سارے وابستہ
پروں کے ساتھ سمٹتے گئے کمال اپنے
دبا نہ اور ابھی تُو گلوئے ہم جِنساں
یہ سارے بوجھ خلاؤں میں اب اُچھال اپنے
بہ شاخِ نطق ہیں پہرے اگر یہی ماجدؔ
کوئی خیال نہ لفظوں میں تو بھی ڈھال اپنے
ماجد صدیقی

ہاتھوں میں جس کے تیر، سرِ دوش جال تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 142
وہ شخص ہی تو دشت میں صاحب کمال تھا
ہاتھوں میں جس کے تیر، سرِ دوش جال تھا
پائے کسی بھی کنج چمن میں نہ جو پنہ
یہ برگِ زرد بھی کبھی گلشن کی آل تھا
ننگی زمیں تھی اور ہَوا تھی تبر بہ دست
میں تھا اور اِک یہ میرا بدن جو کہ ڈھال تھا
خاکِ وطن پہ گود میں بچّہ تھا ماں کی اور
بیروت کی زمیں پہ برستا جلال تھا
آیا نہ کوئی حرفِ لجاجت بھی اُس کے کام
جس ذہن میں بقا کا سلگتا سوال تھا
جاتا میں جان سے کہ خیال اُس کا چھوڑتا
ماجدؔ یہی تو فیصلہ کرنا محال تھا
ماجد صدیقی

لمحہ لمحہ ہُوا ہے سال اپنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 117
گفتنی اِس قدر ہے حال اپنا
لمحہ لمحہ ہُوا ہے سال اپنا
تشنہ لب تھے جو کھیت اُن کو بھی
ابر دکھلا گیا جلال اپنا
بیچ کر ہی اٹھے وہ منڈی سے
تھے لگائے ہوئے جو مال اپنا
دیکھتے ہی غرور منصف کا
ہم پہ کُھلنے لگا مآل اپنا
موج یُوں مہرباں ہے ناؤ پر
پھینکنے کو ہو جیسے جال اپنا
ظرف کس کس کا جانچ لے پہلے
کس پہ کھولے کوئی کمال اپنا
رَد کیا ہے ہمیں جب اُس نے ہی
آئے ماجدؔ کہاں خیال اپنا
ماجد صدیقی

وہی سہم سا وہی خوف سا ہے خیال میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
دمِ صید فرق پڑے جو پائے غزال میں
وہی سہم سا وہی خوف سا ہے خیال میں
بڑی بے نیاز رعونتوں کا شکار ہیں
وہ نزاکتیں کہ دبی ہیں اپنے سوال میں
اِسے کس صلابتِ عزم کی میں عطا کہوں
یہ جو تازگی سی ہے آرزو کے جمال میں
وہ تو اُڑ گیا کہ پناہ جس کو بہم ہوئی
پہ لگا جو تیر، لگا درخت کی چھال میں
وہ نشہ کہ بعدِ شکار آئے پلنگ کو
وہی رم امڈنے لگا ہے فکرِ مآل میں
تجھے کیا خیال ہے یہ بھی ماجدِبے خبر!
کہ گھری ہوئی تری جاں بھی ہے کسی جال میں
ماجد صدیقی

پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے
پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے
اک ذرا سی فضائے چمن کے نکھرنے پہ بھی کیا سے کیا
جسمِ واماندگاں پر خدوخال کے پھول کھِلنے لگے
کھولنے کو، ضیا پاش کرنے کو پھر ظلمتوں کی گرہ
مٹھیوں میں دمکتے زر و مال کے پھول کھلنے لگے
پنگھٹوں کو رواں، آہوؤں کے گماں در گماں دشت میں
لڑکھڑاتی ہوئی بے اماں چال کے پھول کھِلنے لگے
دھند چھٹنے پہ مژدہ ہو، ترکش بہ آغوش صیّاد کو
ازسرِ نو فضا میں پر و بال کے پھول کھِلنے لگے
ہے اِدھر آرزوئے بقا اور اُدھر بہرِ زندہ دلاں
فصل در فصل تازہ بچھے جال کے پھول کھِلنے لگے
ہم نے سوچا تھا کچھ اور ماجد، مگر تارِ انفاس پر
اب کے تو اور بے ربط سُر تال کے پھول کھِلنے لگے
ماجد صدیقی

لہو میں تلخیٔ شیریں دمِ وصال کی تھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
نظر میں تازگی عُریانیٔ جمال کی تھی
لہو میں تلخیٔ شیریں دمِ وصال کی تھی
طلوع میں بھی مرے شوخیاں تو تھیں لیکن
مزہ تھا اُس میں جو ساعت مرے زوال کی تھی
وگرنہ تجھ سا طرحدار مانتا کب تھا
جو تھی تو اس میں کرامت مرے سوال کی تھی
بدستِ شوق فقط میں ہی تیغِ تیز نہ تھا
حیا کے ہاتھ میں صُورت تری بھی ڈھال کی تھی
فروِغ نُور تھا جس سے شبِ طلُوعِ بدن
سرِ چراغ وُہ سُرخی ترے ہی گال کی تھی
کنارِ شوق تلک شغلِ کسبِ لُطف گیا
کوئی بھی فکر نہ جیسے ہمیں مآل کی تھی
نہ جس سے تھی کبھی درکار مخلصی ماجدؔ
گرفت مجھ پہ وہ کرنوں کے نرم جال کی تھی
ماجد صدیقی

مری اور اور محیط ہیں جو ریا کے جال نہ دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
میں قفس میں ہوں کہ سرِچمن مرے ماہ و سال نہ دیکھنا
مری اور اور محیط ہیں جو ریا کے جال نہ دیکھنا
یہی سوچنا کہ شکست میں مری اپنی کم نظری تھی کیا
وُہ کہ محھ سے ہے جو چلی گئی وُہی ایک چال نہ دیکھنا
مرے ہونٹ سی کے جواب میں وُہی کچھ کہو کہ جو دل میں ہے
مری آنکھ میں جو رُکا ہوا ہے وُہی سوال نہ دیکھنا
جو رہیں تو زیبِ لب و زباں مرے جرم، میرے عیوب ہی
وُہ کہ خاص ہے مری ذات سے کوئی اک کمال نہ دیکھنا
یہی فرض کر کے مگن رہو کہ مری ہی سرخیٔ خوں ہے یہ
یہ جو ضرب ضرب لہو ہوئے کبھی میرے گال نہ دیکھنا
کوئی حرف آئے توکس لئے کسی رُت پہ ماجدِؔ خوش گماں
یہ تنی ہے جو سرِ ہر شجر کبھی خشک چھال نہ دیکھنا
ماجد صدیقی

یُوں تو ہو گا یہ جی کچھ اور نڈھال

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
ہو نہ محتاجِ پرسشِ احوال
یُوں تو ہو گا یہ جی کچھ اور نڈھال
وہ ترا بام ہو کہ ہو سرِ دار
پستیوں سے مجھے کہیں تو اُچھال
گُل بہ آغوش ہیں مرے ہی لیے
یہ شب و روز یہ حسیں مہ و سال
دن ترے پیار کا اُجالا ہے
شب ترے عارضوں کا مدّھم خال
مَیں مقّید ہوں اپنی سوچوں کا
بُن لیا مَیں نے شش جہت اِک جال
بے رُخی کی تو آپ ہی نے کی
آپ سے کچھ نہ تھا ہمیں تو ملال
ہے اسی میں تری شفا ماجدؔ
لکھ غزل اور اِسے گلے میں ڈال
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑