تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

جاتا

مجھ بچّے سے خاص دُعا کرواتا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
باپ مرا بھی، بے بس جب ہو جاتا تھا
مجھ بچّے سے خاص دُعا کرواتا تھا
دبتی دیکھ کے گھر میں چیخیں بچّوں کی
مہماں بھی کچھ کھانے سے گھبراتا تھا
میرے بھی بالک ہیں تمہارے جیسے ہی
ریڑھی والا نت یہ ہانک لگاتا تھا
مُنّا اپنی ماتا جی کی شفقت کا
غالب حصّہ نوکر ہی سے پاتا تھا
ٹھیکیدار نجانے کیوں ہر افسر کی
سالگرہ کی دیگیں خود پکواتا تھا
گھر پر ہی ملنے ہر اچّھے سائل سے
صاحب اکثر دیر سے دفتر جاتا تھا
اُس کو بھی اغراض نے گھیرا تھا شاید
سچ کہتے ماجدؔ بھی کچھ ہکلاتا تھا
ماجد صدیقی

نگہت و نُور کے سانچوں میں، نِت ڈھلتا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
پھولوں سا کھلتا ہوں دیپ سا جلتا ہوں
نگہت و نُور کے سانچوں میں، نِت ڈھلتا ہوں
پت جھڑ سے پِٹ جانے والی بیلوں کے
دیواروں پر نقش بناتا رہتا ہوں
کھیل کھیل میں، ناؤ بنا کر کاغذ کی
پانی کی فطرت پہچانا کرتا ہوں
تنہائی سے اپنا بَیر چُکانے کو
چڑیا جیسا، آئینے سے لڑتا ہوں
ہاتھ میں نادانوں کے، ڈور سے بندھ کر مَیں
کیا کیا اُڑتا، کیا کیا نوچا جاتا ہوں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑