تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

تہی

حاصل ہمیں بھی فخر تری دوستی کا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
چہرے یہ اشتہار سا اِک بے بسی کا تھا
حاصل ہمیں بھی فخر تری دوستی کا تھا
جیسے چمن سے موسمِ گُل روٹھنے لگے
منظر وہ کیا عجیب تری بے رُخی کا تھا
ہر بات پر ہماری تأمّل رہا اُسے
کھٹکا عجیب اُس کو کسی اَن کہی کا تھا
شکوہ ہی کیا ہو تجھ سے عدم ارتباط کا
ہم سے ترا سلوک ہی پہلو تہی کا تھا
نسبت کسی بھی ایک چمن سے نہ تھی ہمیں
ماجدؔ کچھ ایسا ذوق ہمیں تازگی کا تھا
ماجد صدیقی

ہم میں ہے جو اِس قدر بھی سادگی اچّھی نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
جنگلوں میں میش کی سی بے بسی اچّھی نہیں
ہم میں ہے جو اِس قدر بھی سادگی اچّھی نہیں
دل میں تُو اہلِ ریا کے بیج چاہت کے نہ بو
اِس غرض کو یہ زمیں ہے بُھربھُری،اچّھی نہیں
ہر سفر ہے آن کا بَیری اور اُس کے سامنے
اور جو کچھ ہو سو ہو پہلو تہی اچّھی نہیں
ظرفِ انساں ہی کے سارے رنگ ہیں بخشے ہوئے
چیز اپنی ذات میں کوئی بُری، اچّھی نہیں
ہو کے رہ جاتی ہے اکثر یہ عذابِ جان بھی
ہوں جہاں اندھے سبھی، دیدہ وری اچّھی نہیں
کچھ دنوں سے تجھ کو لاحق ہے جو ماجدؔ دمبدم
جان لے مشکل میں ایسی بے دلی اچّھی نہیں
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑