تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

تکرار

جو بھی الجن ہیو اسے یار بنا رکھا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 150
ہم نے خدشوں کو بھی دلدار بنا رکھا ہے
جو بھی الجن ہیو اسے یار بنا رکھا ہے
ہم نے ڈالی ہے یہ پانی میں مدھانی کیسی
مفت کی بحث کو تکرار بنا رکھا ہے
آنسوآن کو وہ تپایا کہ شرر ٹھہرے ہیں
اوس کی آب کو بھی نار بنا رکھا ہے
رہبروں نے بس اک اپنی شفا کی خاطر
قوم کی قوم کو بیمار بنا رکھا ہے
لُوٹھا اہلِ وطن کو ہے شعار اپنا ہوا
کُنجِ اندوختہ اُس پار بنا رکھا ہے
ہم کہ ہیں اہلِ قناعت ہمیں دیکھو آ کے
روئیے روشن سحر آثار بنا رکھا ہے
کیسے موضوع یہ اپنائے ہیں ہم نے ماجد
فن کو بھی روز کا اخبار بنا رکھا ہے
ماجد صدیقی

یہ سانحہ، کوئی بڑی سرکار نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
ہے کس کو یہاں کون سا آزار، نہ جانے
یہ سانحہ، کوئی بڑی سرکار نہ جانے
جانے نہ کرے تیرگی کیا، اُس کی نمایاں
جگنو کا کِیا، کوئی شبِ تار نہ جانے
مٹی کو وہ بستر کرے، بازو کو سرہانہ
جو خانماں برباد ہے، گھر بار نہ جانے
چیونٹی کو ہمیشہ کسی چوٹی ہی سے دیکھے
عادل، کسی مظلوم کی تکرار نہ جانے
پینے کو بھی چھوڑے نہ کہیں، آبِ مصفّا
سیلاب ستم کا، کوئی معیار نہ جانے
کس درجہ جُھکانا ہے یہ سر، عجز میں ماجدؔ
بندہ ہی یہ جانے، کوئی اوتار نہ جانے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑