تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

تو

کس نے کہاں پر کھو جانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 144
کل جانے کیا ہو جانا ہے
کس نے کہاں پر کھو جانا ہے
خبر خبر نے وسوسۂ نَو
ذہن بہ ذہن سمو جانا ہے
اٹا ہوا ہر دن کا چہرہ
شبنمِ شب نے دھو جانا ہے
تخت سے چمٹا رہا جو، آخر
اُس نے اُس پر رو جانا ہے
گنگا میں ہر پاپ کا دھبّہ
دھن والوں نے دھو جانا ہے
ماضی کا خمیازہ سر پہ
آن پڑا ہے تو جانا ہے
لفظ لفظ روداد کا ماجد!
اشک بہ اشک پرو جانا ہے
ماجد صدیقی
Advertisements

باغِ حیات میں ہر سُو، پت جھڑ رقص کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 124
دریا دریا جُو جُو، پت جھڑ رقص کرے
باغِ حیات میں ہر سُو، پت جھڑ رقص کرے
پتّی پتّی پھونک کے کومل پھولوں کی
اور ہتھیا کر خوشبو، پت جھڑ رقص کرے
سبزہ زرد پڑے تو دُھنک کر رہ جائے
ششدر ہوں سب آہو، پت جھڑ رقص کرے
ماند ہوئے ہیں، جتنے بھی رنگ شبابی تھے
سہم چلے ہیں گُلرو، پت جھڑ رقص کرے
روش روش لہراکر تُند بگولوں سی
اور پھیلا کر بازو، پت جھڑ رقص کرے
باغوں اور مکانوں اور ایوانوں تک
روزِ ازل سے بدخُو، پت جھڑ رقص کرے
عین عروج پہ کھیتوں اور کھلیانوں میں
ماجِد کب مانے تُو، پت جھڑ رقص کرے
ماجد صدیقی

شب زاد بے شمار ہیں، جگنو بہت ہی کم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
فتنے بہت ہیں، خیر کے پہلو بہت ہی کم
شب زاد بے شمار ہیں، جگنو بہت ہی کم
یابس فضا کا صید ہیں کیا کیا غزال چشم
رونا کسے بہم کہ ہیں آنسو بہت ہی کم
اک سمت دہشتی ہیں تو اک سمت خوش خصال
گیدڑ کثیر اور ہیں آہو بہت ہی کم
باطن میں ہے کچھ اور پہ ظاہر ہے بے مثال
گھر گھر سجے گلوں میں ہے خوشبو بہت ہی کم
جانے رخوں کی رونقیں کیوں محو ہو چلیں
انگناؤں تک میں دِکھتے ہیں مہ رُو بہت ہی کم
بازار میں غرض کے سوا اور کس کا راج؟
ملتے ہیں اہلِ سُوق میں خوش خُو بہت ہی کم
ماجد ہے کنج گیر جو تو کس سبب سے ہے؟
جاتا ہے بزم بزم میں کیوں تو بہت ہی کم
ماجد صدیقی

جاگتے دم ہی سجنوا تیرا درشن ہو گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
پھول کالر پر سجایا اور منوا کھو گیا
جاگتے دم ہی سجنوا تیرا درشن ہو گیا
تخت پر سوئے ملے ہیں بعد کے سب حکمراں
جب سے اِک ہمدردِ خلقت، دار پر ہے سو گیا
فصل بھی شاداب اُس کی اور مرادیں بھی سپھل
کھیتیوں میں بِیج، اپنے وقت پر جو بو گیا
اب کسی کونے میں خِفّت کا کوئی سایہ نہیں
گھر میں ہُن برسا تو جتنے داغ تھے سب دھو گیا
جب پہنچ میںآ چکا اُس کی غرض کا سومنات
اور جب مقصد کی مایہ پا چکا وہ، تو گیا
سادہ دل لوگوں نے بھگتا ہے اُسے برسوں تلک
حق میں آمر کے سبھی نے کیوں کہا یہ، لو گیا
اپنے ہاتھوں کھو دیا جس نے بھی اپنا اعتماد
لوٹ کر آیا نہ پھر وہ، شہرِ دل سے جو گیا
بعدِ مدّت جب کبھی گاؤں سے ہے پلٹا کیا
کتنی قبروں پر نجانے اور ماجد رو گیا
ماجد صدیقی

لپک کے موج کناروں کو جیسے چھُو آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
وُہ حسن پاس مرے یوں پئے نمو آئے
لپک کے موج کناروں کو جیسے چھُو آئے
درِ سکون پہ جوں قرض خواہ کی دستک
کبھی جو آئے تو یوں دل میں آرزو آئے
نہیں ضرور کہ الفاظ دل کا ساتھ بھی دیں
یہ ذائقہ تو سخن میں کبھو کبھو آئے
نہیں ہے اہل ترے، میری خانہ ویرانی
خدا کرے مرے گھرمیں کبھی نہ تو آئے
بھنور میں جیسے ہم آئے مثالِ خس ماجدؔ
کوئی نہ یوں کسی آفت کے روبرُو آئے
ماجد صدیقی

یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
شکن کیا تھی، سرِ ابرو، نہ جانے
یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے
سماعت پر کسی حرفِ گراں کے
اُبل پڑتے ہیں کیوں آنسو، نہ جانے
لہو کس گھاٹ پر اُس کا بہے گا
یہ نکتہ تشنہ لب آہو نہ جانے
وُہی رُت، حبس تھا جس سے کہے یہ
چلیں کیوں آندھیاں ہر سُو، نہ جانے
الاؤ دل کے جانے اِک زمانہ
مگر یہ بات وُہ گلرُو نہ جانے
یہی نا آگہی خاصہ ہے اُس کا
کوئی فرعون اپنی خُو نہ جانے
یہاں مجرم ہے جو بھی منکسر ہے
یہی اِک بات ماجدؔ تُو نہ جانے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑