تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

تنہائیاں

ہاتھوں سے دُور ہونے لگیں اُس جسم کی گولائیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
قوسیں مہکتے لمس کی رَس گھولتی رعنائیاں
ہاتھوں سے دُور ہونے لگیں اُس جسم کی گولائیاں
شاخوں سے جھڑتے پُھول سی، سر پرامڈتی دھول سی
حق میں ہمارے ہو چلیں، کیا کیا کرم فرمائیاں
ہر کُنج سے چھلکا کئے کیا کیا خزینے لطف کے
لپٹیں تھیں جیسے مشک کی اُس حسن کی پہنائیاں
اُس شوخ کے الطاف کی ،ہم سے نہ ناپی جاسکیں
دل کو جو ارزانی ہوئیں ،اُس درد کی گہرائیاں
ہم کو اکیلا چھوڑ کر، جب سے وہ چنچل جا چکا
ہر سمت اگنے لگ پڑیں، ڈستی ہوئی تنہائیاں
ماجد صدیقی
Advertisements

ساری آوازیں لگیں بھرّائیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
رتجگوں کی آنچ سے کُملائیاں
ساری آوازیں لگیں بھرّائیاں
کل جو گزرا تھا گلی سے کون تھا
پُوچھتی ہیں اُس سے یہ ہمسائیاں
آنکھ سے پھُوٹی وہ نم اب کے برس
جم گئیں منظر بہ منظر کائیاں
رہ بہ رہ شہروں میں میلہ حشر سا
اور گھر گھر قبر سی تنہائیاں
ہاتھ سے اک بار جو ماجدؔ گئیں
کب بھلا وہ ساعتیں لوٹ آئیاں
ماجد صدیقی

جبر نے بخشی ہمیں کیا گونجتی تنہائیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
سُر اداسی کے بکھیریں سانس کی شہنائیاں
جبر نے بخشی ہمیں کیا گونجتی تنہائیاں
منتظر رہ رہ کے آنکھیں اِس قدر دھندلا گئیں
فرقِ روز و شب تلک جانیں نہ اب بینائیاں
رنگ پھیکے پڑ گئے کیا کیا رُتوں کے پھیر سے
گردشوں سے صورتیں کیا کیا نہیں گہنائیاں
جاگنے پر، تخت سے جیسے چمٹ کر رہ گئے
ہاتھ جن کے، سو کے اُٹھنے پر لگیں دارائیاں
لے کے پیمانے گلوں کی مسکراہٹ کے رُتیں
ناپنے کو آ گئیں پھر درد کی گہرائیاں
اُس سے ہم بچھڑے ہیں ماجد ابکے اِس انداز سے
پت جھڑوں میں جیسے پتوں کو ملیں رُسوائیاں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑