تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

تعبیر

اب کے جھونکے نئی زنجیر لیے پھرتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 158
یار کے قُرب کی تاثیر لیے پھرتے ہیں
اب کے جھونکے نئی زنجیر لیے پھرتے ہیں
گل، صبا، ابر، شفق، چاند، ستارے، کرنیں
سب اُسی جسم کی تفسیر لیے پھرتے ہیں
ایک سے کرب کا منظر ہے سبھی آنکھوں میں
آئنے ایک ہی تصویر لیے پھرتے ہیں
شاخ ٹُوٹے تو نہ پھولے کبھی ماجدؔ صاحب!
آپ کس خواب کی تعبیر لیے پھرتے ہیں
ماجد صدیقی

تِنکا ہونے پر بھی ٹھہرے آنکھوں کا شہتیر ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
ساتھ ہَوا کے اڑنا چاہا اور ہوئے زنجیر ہمیں
تِنکا ہونے پر بھی ٹھہرے آنکھوں کا شہتیر ہمیں
دُکھ جاتے ہیں جُھوٹ ریا کاروں کا ننگا کر کے بھی
دل کا زہر اُنڈیل کے بھی ہو جاتے ہیں دِلگیر ہمیں
حد سے بڑھ کر بھرنے لگ پڑتے ہیں پھُونک غبارے میں
پھٹ جائے تو بچّوں جیسے بن جائیں تصویر ہمیں
قادرِ مطلق پر بھی دعویٰ ہر لحظہ ایقان کا ہے
اور نجومی سے بھی پوچھیں نِت اپنی تقدیر ہمیں
آئینہ بھی، جیسے ہوں، دِکھلائے خدوخال وُہی
سوچیں تو اپنے ہر خواب کی ہیں ماجدؔ، تعبیر ہمیں
ماجد صدیقی

سوچ پر بھی ہے گماں جب حلقۂ زنجیر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
حشر کیا ہو گا بھلا جینے کی اِس تدبیر کا
سوچ پر بھی ہے گماں جب حلقۂ زنجیر کا
کس کا یہ سندیس آنکھوں میں مری لہرا گیا
صفحۂ بادِ صبا پر عکس ہے تحریر کا
سنگِ راہ کا توڑنا بھی تھا سَر اپنا پھوڑنا
ہاں اثر دیکھا تو یوں اِس تیشۂ تدبیر کا
ہم نے بھی اُس شخص کو پایا تو تھا اپنے قریب
پر اثر دیکھا نہیں کچھ خواب کی تعبیر کا
ہم تلک پہنچی ہے جو ماجدؔ یہی میراث تھی
فکر غالبؔ کی اور اندازِ تکلّم میرؔ کا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑