تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

تصویر

ہم ہیںِ معزول شہوں جیسے فقط پِیر نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 206
ہم ثمردار نہیں لائقِ توقیر نہیں
ہم ہیںِ معزول شہوں جیسے فقط پِیر نہیں
سَو ہیں گر ہم تو ہیں ہم میں سے فقط بیس نہال
کون ہے اپنے یہاں آج’ جو دلگیر نہیں
موج’ دریا سے ہے از خود ہی اُچھلتی آئی
پیش دستی میں ہماری کوئی تقصیر نہیں
جس نے بھی لاکھوں کروڑوں سے بڑھا لی پونجی
نام پر اُس کے یہاں کوئی بھی تعزیر نہیں
یاترا جو بھی کسی پینچ نگر کی کر لے
وہ زَبر ٹھہرے ہمیشہ کے لیے’ زِیر نہیں
پست سے جو بھی زروزور سے بالا ٹھہرا
سابقہ اُس کی جو تھی حال کی تصویر نہیں
جو رقابت سے چڑھے دار پہ ماجد صاحب
نام جو اُس کے لگے’ اُس کی وہ تقصیر نہیں
ماجد صدیقی

ہم ہیں معزول شہوں جیسے فقط پِیر نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 198
ہم ثمردار نہیں لائقِ توقیر نہیں
ہم ہیں معزول شہوں جیسے فقط پِیر نہیں
سَو ہیں گر ہم تو ہیں ہم میں سے فقط بیس نہال
کون ہے اپنے یہاں آج، جو دلگیر نہیں
موج، دریا سے ہے از خود ہی اُچھلتی آئی
پیش دستی میں ہماری کوئی تقصیر نہیں
جس نے بھی لاکھوں کروڑوں سے بڑھا لی پونجی
نام پر اُس کے یہاں کوئی بھی تعزیر نہیں
یاترا جو بھی کسی پینچ نگر کی کر لے
وہ زَبر ٹھہرے ہمیشہ کے لیے، زِیر نہیں
پست سے جو بھی زروزور سے بالا ٹھہرا
سابقہ اُس کی جو تھی حال کی تصویر نہیں
جو رقابت سے چڑھے دار پہ ماجد صاحب
نام جو اُس کے لگے، اُس کی وہ تقصیر نہیں
ماجد صدیقی

اب کے جھونکے نئی زنجیر لیے پھرتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 158
یار کے قُرب کی تاثیر لیے پھرتے ہیں
اب کے جھونکے نئی زنجیر لیے پھرتے ہیں
گل، صبا، ابر، شفق، چاند، ستارے، کرنیں
سب اُسی جسم کی تفسیر لیے پھرتے ہیں
ایک سے کرب کا منظر ہے سبھی آنکھوں میں
آئنے ایک ہی تصویر لیے پھرتے ہیں
شاخ ٹُوٹے تو نہ پھولے کبھی ماجدؔ صاحب!
آپ کس خواب کی تعبیر لیے پھرتے ہیں
ماجد صدیقی

تِنکا ہونے پر بھی ٹھہرے آنکھوں کا شہتیر ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
ساتھ ہَوا کے اڑنا چاہا اور ہوئے زنجیر ہمیں
تِنکا ہونے پر بھی ٹھہرے آنکھوں کا شہتیر ہمیں
دُکھ جاتے ہیں جُھوٹ ریا کاروں کا ننگا کر کے بھی
دل کا زہر اُنڈیل کے بھی ہو جاتے ہیں دِلگیر ہمیں
حد سے بڑھ کر بھرنے لگ پڑتے ہیں پھُونک غبارے میں
پھٹ جائے تو بچّوں جیسے بن جائیں تصویر ہمیں
قادرِ مطلق پر بھی دعویٰ ہر لحظہ ایقان کا ہے
اور نجومی سے بھی پوچھیں نِت اپنی تقدیر ہمیں
آئینہ بھی، جیسے ہوں، دِکھلائے خدوخال وُہی
سوچیں تو اپنے ہر خواب کی ہیں ماجدؔ، تعبیر ہمیں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑