تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ترسائے

تُند ہوا آ آ کر کیوں دہلائے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
شاخ پہ برگِ زرد ہی کیوں ٹھہرائے مجھے
تُند ہوا آ آ کر کیوں دہلائے مجھے
بادل میرے نام اُمڈ کے نہ برسے جو
ڈال کے لیت و لعل میں کیوں ترسائے مجھے
میری ولی عہدی کیونکر تسلیم نہیں
بات یہ بس دربار کی ہے کھولائے مجھے
پل پل جس کی میں نے خیر طلب کی ہے
خلق بھی کچھ تو میرا دیا لوٹائے مجھے
مجھے ملے پھل میرے سینچے پودے کا
اور نہ ملے تو چَین بھلا کیوں آئے مجھے
اپنے لفظ ہی ٹھہریں پُھونک مسیحا کی
ایسا کون ہے ماجِد جو سہلائے مجھے
ماجد صدیقی

اُس ناری کے رنگ چُرائے ہم نے بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
اِن ہونٹوں پر پھول کھِلائے ہم نے بھی
اُس ناری کے رنگ چُرائے ہم نے بھی
ہم بھی لائے اِن تک زہر تمّنا کا
امرت کو یہ لب ترسائے ہم نے بھی
لوٹ کے رنجش اور بھی اپنے آپ سے تھی
اہل حشم کو زخم دکھائے ہم نے بھی
سنگ بھگوئے پہلے اوس سے آنکھوں کی
اور پھر اُن میں بیج اُگائے ہم نے بھی
دے کے ہمیں پھر خود ہی زمیں نے چاٹ لئے
پھیلائے تھے کیا کچھ سائے ہم نے بھی
اچّھے دنوں کی یاد کے اُجلے پھولوں سے
دیکھ تو، کیا گلدان سجائے ہم نے بھی
چہرے پر آیات سجا کر اشکوں کی
ماجدؔ کیا کیا درس دلائے ہم نے بھی
ماجد صدیقی

خاموشیِ وجدان، خبر لائے گی کچھ اور

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور
خاموشیِ وجدان، خبر لائے گی کچھ اور
جیسے کسی قیدی کو جنم دِن کا حوالہ
پنجرے میں صبا جھانک کے تڑپائے گی کچھ اور
صرصر نے جو دھارا ہے نیا روپ صبا کا
یہ فاحشہ ابدان کو سہلائے گی کچھ اور
کہہ لو اُسے تم رقص پہ طوفانِ بلا میں
کمزور ہے جو شاخ وہ لہرائے گی کچھ اور
وہ آنکھ جسے دھُن ہے فروغِ گلِ تر کی
موسم ہے گر ایسا ہی تو شرمائے گی کچھ اور
نکلی ہی نہیں گرد کے پہلو سے جو ماجدؔ
پیاسوں کو وہ بدلی ابھی ترسائے گی کچھ اور
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑