تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

بہلا

پرندے گھونسلوں کو آ رہے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
پروں میں شام باندھے لا رہے ہیں
پرندے گھونسلوں کو آ رہے ہیں
یہ کس صحرا میں آ ڈالا ہے ڈیرہ
بگولے کیوں ہمیں بہلا رہے ہیں
بچھاتی ہیں جو سانسوں میں سرنگیں
وہ خبریں اب نئے پل لا رہے ہیں
ہر اک دن گانٹھ بنتا جا رہاہے
اور ہم گھونسے اُسے دکھلا رہے ہیں
قدم ایقان کے رنجور کرنے
ہزاروں وسوسے بِھّنا رہے ہیں
جو جھکڑ چھینتے ہیں برگ ہم سے
نمو جانے وہی کیوں پا رہے ہیں
ماجد صدیقی

آنے والے آ نہ سکے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 147
ہم پہ کرم فرما نہ سکے
آنے والے آ نہ سکے
دے گئے رنج بکھرنے کا
پھُول بھی دل بہلا نہ سکے
کر کے مقّید بھی وہ مجھے
بات مری جھٹلا نہ سکے
میری آس کے آنگن کے
چاند کبھی گہنا نہ سکے
ہم نہ ہوئے تسلیم جنہیں
وہ بھی ہمیں ٹھکرا نہ سکے
ماجدؔ کیا کیا رنج تھے جو
لوگ زباں پر لا نہ سکے
ماجد صدیقی

کون ہے جو دل مرا بہلا سکے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 64
حسن شاخوں کا انہیں لوٹا سکے
کون ہے جو دل مرا بہلا سکے
آسماں کے، اِس زمیں کے، دہر کے
دل یہ کس کس کے ستم گنوا سکے
اُس ہوا کی خنکیاں کس کام کی
روح کے گھاؤ نہ جو سہلا سکے
سانس تک بھی قرض کا لیتا ہے جب
آدمی کس بات پر اِترا سکے
آس دوشیزہ ہے وہ جس کو کبھی
ہم نہ انگوٹھی کوئی پہنا سکے
خود سرِ دربارِ شہ عریاں ہے جو
ذوق کیا خلعت ہمیں دلوا سکے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑