تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

بہلانے

شاید تختۂ عجز و نیاز ٹھکانے لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 212
بوریا بستر باندھنے کاوقت آنے لگا ہے
شاید تختۂ عجز و نیاز ٹھکانے لگا ہے
چرخِ سخن سے کونسا تارا جھڑنے کو ہے
کس بد خبری کا جھونکالرزانے لگا ہے
کم تولیں اور نرخ زیادہ لکھ کے تھمائیں
اہلِ غرض کا سِفلہ پن دہلانے لگا ہے
ملزم نے اِتنی رشوت ٹھونسی ہے اُس کو
تھانیدار اب ملزم سے کترانے لگا ہے
مجھ کو بِل میں گُھسنے سے پہلے ہی اُچک لے
چُوہا بِلّی جی کو یہ سمجھانے لگا ہے
نیولا داؤ دکھاکے، سانپ نوالہ کرکے
زیرِ حلق اُتار کے کیا اِٹھلانے لگا ہے
ماجِد گروی رکھ کے ہمارے آتے دِنوں کو
ساہوکار ہمیں کیا کیا بہلانے لگا ہے
ماجد صدیقی

بندر جو میدان میں بھوکا پیٹ دکھانے نکلا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 143
کس کے نام پہ سکّے وہ دیکھو تو کمانے نکلا ہے
بندر جو میدان میں بھوکا پیٹ دکھانے نکلا ہے
پچھلے صَید کیء سیری سے ہنستا مسکاتا جنگل میں
شیر ہرن کے بچّوں کو شاید بہلانے نکلا ہے
لفظوں کی تابانی سے، خوش گوئی، چرب زبانی سے
جھوٹا ہے جو سچّوں کو پھر سے جُھٹلانے نکلا ہے
خود سے نکاح کرانے اور اسقاط حمل دُہرانے کو
کون ہے جو بے وقت، حکومتِ وقت گرانے نکلا ہے
جان نہ پایا کتنے کھرے ہیں نرخ لکے بازاروں میں
ماجد جھوٹ کے کھیت میں سچ کی فصل اُگانے نکلا ہے
ماجد صدیقی

شاید تختۂ عجزونیاز ٹھکانے لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 136
بوریا بستر باندھنے کا وقت آنے لگا ہے
شاید تختۂ عجزونیاز ٹھکانے لگا ہے
چرخِ سخن سے کونسا تارا جھڑنے کو ہے
کس بد خبری کا جھونکا لرزانے لگا ہے
کم تولیں اور نرخ زیادہ لکھ کے تھمائیں
اہلِ غرض کا سفلہ پن دہلانے لگا ہے
ملزم نے اتنی رشوت ٹھونسی ہے اس کو
تھانے دار اب ملزم سے کترانے لگا ہے
مجھ کو بِل میں گُھسنے سے پہلے ہی اُچَک لے
چوہا بلّی جی کو یہ سمجھانے لگا ہے
نیولا داؤ دکھا کے سانپ نوالہ کرکے
حلق سے آگے بھیج کے کیا اٹھلانے لگا ہے
ماجد گروی رکھ کے ہمارے آتے دنوں کو
ساہوکار ہمیں کیا کیا بہلانے لگا ہے
ماجد صدیقی

آنچ کِن کِن منظروں کی آنکھ تک آنے لگی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
وحشتِ انسان کیا کیا رنگ دکھلانے لگی
آنچ کِن کِن منظروں کی آنکھ تک آنے لگی
دیکھئے اگلی رُتوں میں سرخروئی کو ہوا
کس طرح بے پیرہن شاخوں کو سہلانے لگی
کتنی چیزوں سے ہٹا کر، جانے ماں کی مامتا
دھیان بچّے کا، اُسے باتوں سے بہلانے لگی
لو بحقِ امن اپنی نغمگی کے زعم میں
فاختہ بھی دشتِ وحشت میں ہے اِترانے لگی
ظلمتِ شب کچھ بتا اُٹھی ہے کیسی چیخ سی
جبر کی ڈائن کِسے کّچا چبا جانے لگی
جھینپنا کیا، سچ اگر نکلی ہے، پّلے باندھ کر
وقت کی مریم، بھلا کاہے کو شرمانے لگی
دم بخود اتنا بھی ہو ماجدؔ نہ جلتی دُھوپ سے
آسماں پر دیکھ وُہ بدلی سی اک چھانے لگی
ماجد صدیقی

آئنوں میں جابجا اِک بال سا آنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
جانے کیسا واہمہ ہر دل کو دہلانے لگا
آئنوں میں جابجا اِک بال سا آنے لگا
اپنی اپنی سی فراغت ہر کسی کی ہے یہاں
مکھیوں کو پھانس کر مکڑا بھی سستانے لگا
دیکھنے میں فاختہ بھی تو کُچھ ایسی کم نہ تھی
باز ہی کیوں معتبر، جنگل میں کہلانے لگا
لا کے وڈیو سے کھلونے، کھیل یہ بھی دیکھئے
آج کا بچّہ ہے دادی جی کو بہلانے لگا
گھس گیا ابلیس سا اِک شخص ہر اِک شخص میں
کون ہے جو اَب کئے پر اپنے پچتانے لگا
جو بھی زور آور ہے ماجدؔ اُس کا خاصہ ہے یہی
دیکھ لے دریا کناروں کو ہے خود ڈھانے لگا
ماجد صدیقی

ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں
ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں
نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ
جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں
غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر
لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں
دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر
بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں
وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں
جابر مجھ سے عہد نیا ٹھہرانے لگے ہیں
پیروں تلے مسل کے مری رائے کی پرچی
زور آور اپنا پرچم لہرانے لگے ہیں
چندا تو کیا گردشِ وقت کے ہاتھوں اب کے
چاند نگر تک بھی ماجد گہنانے لگے ہیں
جنگِ خلیج کے پس منظر میں
ماجد صدیقی

ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں
ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں
نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ
جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں
غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر
لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں
دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر
بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں
وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں
جابر مجھ سے عہد نیا ٹھہرانے لگے ہیں
پیروں تلے مسل کے مری رائے کی پرچی
زور آور اپنا پرچم لہرانے لگے ہیں
چندا تو کیا گردشِ وقت کے ہاتھوں اب کے
چاند نگر تک بھی ماجد گہنانے لگے ہیں
جنگِ خلیج کے پس منظر میں
ماجد صدیقی

دل بالک، من جائے گا بہلانے سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے
دل بالک، من جائے گا بہلانے سے
ٹھہرا ہے بہتان کہاں نام اچّھوں کے
اُجڑا ہے کب چاند بھلا گہنانے سے
راس جسے دارو نہ کوئی آیا اُس کے
روگ مٹیں گے، اب تعویذ پلانے سے
چیخ میں کیا کیا درد پروئے چُوزے نے
بھوکی چیل کے پنجوں میں آ جانے سے
اب تو خدشہ یہ ہے ہونٹ نہ جل جائیں
ماجدؔ دل کی بات زباں پر لانے سے
ماجد صدیقی

سینت کے رکھیں، اور اب خواب سہانے کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
دیکھ لئے ہیں، اپنے کیا بیگانے کیا
سینت کے رکھیں، اور اب خواب سہانے کیا
دیکھو آنکھ جما کر، مکر کے مکڑے نے
ہر سُو پھیلائے ہیں تانے بانے کیا
بادل کی یلغار سے، نام پہ رحمت کے
تنکا تنکا، ٹوٹ گرے کاشانے کیا
سوچو بھی، جلتی بگھیا کی آنچ لئے
جھونکے ہم کو آئے ہیں، بہلانے کیا
چڑیاں نگلیں گے، چوزوں پر جھپٹیں گے
شہ زوروں کے ماجدؔ اور نشانے کیا
ماجد صدیقی

جھونکے آگ بجھانے آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
ہم پہ کرم فرمانے آئے
جھونکے آگ بجھانے آئے
ہمیں پرانا ٹھہرانے کو
کیا کیا نئے زمانے آئے
خلق، وہ کارآمد بچّہ ہے
شاہ جسے بہلانے آئے
قیس کو جو ازبر تھا،ہم بھی
درس وہی دہرانے آئے
جنہیں بھُلاتے، خود کو بھُولے
لب پہ اُنہی کے، فسانے آئے
اپنی جگہ تھے جو بھی سہانے
دن پھر وہ نہ سہانے آئے
جن کو دیکھ کے تاپ چڑھے وہ
ماجد ہمیں منانے آئے
ماجد صدیقی

آسماں کیوں ٹوٹ کر نیچے نہیں آنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
دستِ شفقت کیوں بہ حقِ جور بن جانے لگا
آسماں کیوں ٹوٹ کر نیچے نہیں آنے لگا
کھیت جلنے پر بڑھا کر عمر، اپنے سود کی
کس طرح بنیا، کسانوں کو ہے بہلانے لگا
جانے کیا طغیانیاں کرنے لگیں گھیرے درست
گھونسلوں تک میں بھی جن کا خوف دہلانے لگا
خون کس نے خاک پر چھڑکا تھا جس کی یاد میں
اِک پھریرا سا فضاؤں میں ہے لہرانے لگا
مہد میں مٹی کے جھونکا برگِ گل کو ڈال کر
کس صفائی سے اُسے رہ رہ کے سہلانے لگا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑