تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

بھی

وہ وفا کا عہد نبھا دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
وہ کہ آمروں سے کیا تھا جو
وہ وفا کا عہد نبھا دیا
مرے منصفوں نے بہ جبر و زر
سرِدار مجھ کو سجا دیا
ہوئے حکمراں بھی تو کیا ہوئے،
جنہیں تھا جنونِ برابری
وہ کہ خاص و عام میں فرق تھا
وُہی فرق گرنہ مٹا دیا
تھی غرض تو بس مری جاں سے تھی،
گئی جاں تو غیر ہوئے سبھی
مجھے نذرِ خاک و زمیں کیا
مجھے اپنے ہاتھوں جلا دیا
کہیں تاجور کہیں خاک پا
کہیں خاکِ پا سے بھی ماورا
میں کہ اس کے چاک کی خاک تھا
مجھے جیسا چاہا بنادیا
کبھی برتری جو دکھا سکے
تو فرشتگاں پہ بھی چھا گئے
کہیں آزمائی وہ سفلگی
کہ ہمِیں نے عرش ہلادیا
جو فلک پہ پائے گئے کبھی
، تو ہمیں تھے راندۂ چرخ بھی
یہ زمیں کہ مادرِ مہرباں ہے،
اسے بھی ہم نے ہے کیا دیا
یہ وہی ہے جو ترے لطف سے
کبھی شاعری کا الاؤ تھا
یہ تمہارا ماجدِ مبتلا
ہے دئے سا جس کو بجھا دیا
ماجد صدیقی

کل کے اوراق میں لیجیے ہم نے بھی، فیصلہ لکھ دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
دھونس، دھن، دھاندلی کا جو ٹھہرا، وُہی فیصلہ لکھ دیا
کل کے اوراق میں لیجیے ہم نے بھی، فیصلہ لکھ دیا
قصر محفوظ تھے، بے اماں جھونپڑے، راکھ کیونکر ہوئے
حق میں غفلت کے، تھی جو شہِ وقت کی، فیصلہ لکھ دیا
تھا اندھیروں پہ قابو نہ اپنا کبھی، پھر بھی اِتنا کیا
حبسِ بے جا میں دیکھی جہاں روشنی، فیصلہ لکھ دیا
جور کے جبر کے، جس قدر سلسلے تھے، وہ بڑھتے گئے
آنے پائی نہ جب، اُن میں کچھ بھی کمی، فیصلہ لکھ دیا
ہاتھ فریاد کے، اُٹھنے پائے نہ تھے اور لب سِل گئے
دیکھ کر ہم نے ماجدؔ، یہی بے بسی، فیصلہ لکھ دیا
ماجد صدیقی

پو پھٹے تھی ہوا کو شکایت یہی، لوگ سوئے ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
نشۂ بے حسی تھی کہ نا آگہی لوگ سوئے ملے
پو پھٹے تھی ہوا کو شکایت یہی، لوگ سوئے ملے
روشنی کے سفیروں نے کیا کیا نہ گُر آزمائے مگر
سینہ سینہ بسائے ہوئے گمرہی لوگ سوئے ملے
زمزمے چہچہے کوئی تریاق ان کے نہ کام آ سکا
سم کچھ ایسی تھی سانسوں میں اِن کے گھلی لوگ سوئے ملے
صبح، پرچم لپیٹے ہوا ہو گئی اپنے سندیس کا
پھول نے جو کہی رہ گئی ان کہی لوگ سوئے ملے
بادباں کھول کر کشتیوں کے، ہوا کو انہیں سونپ کر
اور تو اور آغوشِ دریا میں بھی لوگ سوئے ملے
جانے حلقۂ بگوشی میں تھا کیا شرف، جو انہیں بھا گیا
جاگتا تھا فقط جذبۂ بندگی لوگ سوئے ملے
کتنے تھوڑے صلے سے بہلنے لگیں ان کی نادانیاں
رسم ماجدؔ یہ کیا اکتفا کی چلی لوگ سوئے ملے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑