تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

بھرنے

رنج سا اِک نظر میں اُبھرنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
جب بھی موسم ذرا سا نکھرنے لگا
رنج سا اِک نظر میں اُبھرنے لگا
آنکھ میں پھر کسی یاد کا عکس ہے
چاند ہے جھیل میں پھر اُترنے لگا
ہم اُسے کس طرح معتبر جان لیں
بات تک سے جو اپنی مُکرنے لگا
وحشتوں کی سکڑتی حدیں دیکھ کر
شیر پنجرے میں از خود سدھرنے لگا
آئنے پر جو دل کے لگے بال سا
زخم ماجدؔ کہاں ہے وُہ بھرنے لگا
ماجد صدیقی

یہ لمحۂ جاوید گزرنے کا نہیں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
نشہ تری چاہت کا اُترنے کا نہیں ہے
یہ لمحۂ جاوید گزرنے کا نہیں ہے
کیا پُوچھتے ہو حدّتِ نظارہ سے دل میں
وہ زخم ہوا ہے کہ جو بھرنے کا نہیں ہے
لب بھینچ کے رکھوں تو چٹکتی ہے خموشی
اور ذکر بھی ایسا ہے جو کرنے کا نہیں ہے
کیوں سمت بڑھاتے ہو مری، برف سے لمحے
موسم مرے جذبوں کا ٹھٹھرنے کا نہیں ہے
اک عمر میں آیا ہے مرے ہاتھ سمٹنا
شیرازۂ افکار بکھرنے کا نہیں ہے
وہ راج ہے اِس دل کے اُفق پر تری ضو کا
سورج کوئی اَب اور اُبھرنے کا نہیں ہے
ماجدؔ کو اگر بعدِ مؤدت تری درپیش
ہو موت سی آفت بھی تو مرنے کا نہیں ہے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑