تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

بھاری

سانس لینا خلق کا اُس دیس میں بھاری ہوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 172
حکمراں انصاف سے خودہی جہاں عاری ہوا
سانس لینا خلق کا اُس دیس میں بھاری ہوا
مقتدربالحرص ہیں جو جبرسے اُن کے، یہاں
گردنوں کے گرد طوقِ عجز ہے دھاری ہوا
ختم کرد ے بُعدبھی بکھرے دھڑوں کے درمیاں
اور فسادِ دیہہ کا باعث بھی پٹواری ہوا
کھاؤ آدھا پیٹ، آدھا ہو نثارِ دیوتا
پاپ جھڑوانے کا نسخہ، ہائے کیا جاری ہوا
خامشی آمر کی ماجِد گل کِھلائے اور ہی
اور سخن ایسا کہ جو وجہِ دل آزاری ہوا
ماجد صدیقی

جن کی پرسش میں بھی دل آزاری ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
اُن لوگوں سے اب کے سانجھ ہماری ہے
جن کی پرسش میں بھی دل آزاری ہے
جو بولے در کھولے خود پر پھندوں کا
کچھ کہنے میں ایک یہی لاچاری ہے
اپنا اک اک سانس بھنور ہے دریا کا
اپنا اک اک پل صدیوں پر بھاری ہے
اوّل اوّل شور دھماکے پر تھا بہت
دشت میں اُس کے بعد خموشی طاری ہے
طوفاں سے ٹکرانا بِن اندازے کے
یہ تو اپنے آپ سے بھی غدّاری ہے
ہر مشکل کے آگے ہو فرہاد تمہی
ماجِدؔ صدّیقی کیا بات تمہاری ہے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑