تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

بلائیں

تازہ جنم دہرائیں سیّاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
کِھل کے نہ پھر مرجھائیں سیّاں
تازہ جنم دہرائیں سیّاں
اچھے وقت کے نام پہ ہم لیں
اک دوجے کی بلائیں سیّاں
آس کے پودے پھر سے ہرے ہوں
کاش وہ دن لوٹ آئیں سیّاں
پلٹے قُرب کی عید کا دن اور
شوق کی پینگ جھلائیں سیّاں
بے چینی بڑھ جائے بدن کی
باہم گھل مل جائیں سیّاں
اپنے انگناں دیپ جلانے
جسم کی آنچ جگائیں سیّاں
ماجد چھپ کر بیٹھ رہیں تو
اُس کو کھوج دکھائیں سیّاں
ماجد صدیقی
Advertisements

اپنے خداوندوں سے کیا کیا ڈھونگ رچائیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
شادیوں سے پہلے کی ساری محبوبائیں
اپنے خداوندوں سے کیا کیا ڈھونگ رچائیں
حسن و جمال کے پیکر ناریاں ایسی بھی ہیں
قربت سے جن کی جلّاد بھی موم ہو جائیں
عالمِ رقص میں نظر نظر گولائیاں جھلکیں
لطف و سرور کے پرچم ساتھ اُن کے لہرائیں
دیر ہے تو بس اُس مسند کو پہنچنے کی ہے
تخت پہ صاحبِ تخت کی ہیں سب دُور بلائیں
واعظ کے منہ سے بھی عذاب کی باتیں پھوٹیں
اہلِ صحافت بھی پل پل دہشت پھیلائیں
اُن کے دیارِ شوق سے ہجرت ہے اور ہم ہیں
جن کی سمت سے آتی تھیں نمناک ہوائیں
اس نگری میں محال ہے کیا کیا جینا ماجد
راہ بہ راہ جہاں ہیں بدنظمی کی چِتائیں
ماجد صدیقی

پھُول کھِل کھِل کے مجھے یاد دلائیں تیری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
لے کے پھرتی ہیں رُتیں شوخ ادائیں تیری
پھُول کھِل کھِل کے مجھے یاد دلائیں تیری
تیرے پیکر کا گماں یُوں ہے فضا پر جیسے
پالکی تھام کے پھرتی ہوں ہوائیں تیری
دَھج ترے حُسن کی جادو نہ جگائے کیونکر
رنگ کرنوں کا ہے خوشبُو کی قبائیں تیری
دل کی دھڑکن کو بھی آہنگ دلائیں تازہ
یہ کھنکتی سی لپکتی سی صدائیں تیری
یہ الگ بات کہ تُو مجھ کو نہ پہچان سکے
ہیں تمنّائیں مری ہی تو ادائیں تیری
میرے جذبات کہ رقصاں ہیں بہ چشم و لب و دل
دیکھ یہ مور بھی لیتے ہیں بلائیں تیری
دُور رہ سکتی ہیں ماجدؔ کے قلم سے کیسے
نقشِ چغتائی سی صبحیں یہ مسائیں تیری
ماجد صدیقی

ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
مہک اُٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھی
ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی
یہ اِن لبوں ہی تلک ہے ابھی ضیا جن کی
بنیں گی نُور کے سوتے یہی صدائیں کبھی
وُہ خوب ہے پہ اُسے اِک ہمیں نے ڈھونڈا ہے
جو ہو سکے تو ہم اپنی بھی لیں بلائیں کبھی
کبھی تو موت کا یہ ذائقہ بھی چکھ دیکھیں
وہ جس میں جان ہے اُس سے بچھڑ بھی جائیں کبھی
وہ حُسن جس پہ حسیناؤں کو بھی رشک آئے
اُسے بھی صفحۂ قرطاس پر تو لائیں کبھی
وہی کہ جس سے تکلّم کو ناز ہے ہم پر
وہ رنگ بھی تو زمانے کو ہم دکھائیں کبھی
ہمِیں پہ ختم ہے افسردگی بھی، پر ماجدؔ
کھلائیں پھول چمن میں جو مسکرائیں کبھی
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑