تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

بستا

ہم سے کُھلنے پر وہ آیا تو بہت سارا کُھلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 165
رکھ دیا دل کھول کر گویا ہو سر تا پا کُھلا
ہم سے کُھلنے پر وہ آیا تو بہت سارا کُھلا
رات کی رانی کی خوشبو میں صبا کے رقص میں
ہم نے آنکھیں ہی نہ کھولیں ورنہ وہ کیا کیا کُھلا
اپنے ہاں کی جو سیاست ہے، شکستہ خط میں ہے
جیسے اہلِ دِہ پہ پٹواری کا ہو بستا کُھلا
پُھول دِکھلایا تو اُس نے چاند دکھلایا ہمیں
جیسے جیسے ہم کُھلے ہم پر بھی وہ ویسا کُھلا
دیکھنے میں گو ہمارے پاس آن اُترا ہے وہ
جھیل میں اُترا جو چندا ہم پہ وہ اُلٹا کُھلا
رام کرنے کو ہمیں تاکا کبھی جھانکا کیا
وہ کہ پیکر تھا حیا کا ہم پہ کب پُورا کُھلا
ہاں کبھی یوں بھی کیا تھا ہم نے سجدہ شُکر کا
ہاں کسی چنچل کا ماجد ہم پہ بھی در تھا کُھلا
ماجد صدیقی

کہ جیسے جھیل میں چندا اُتر کے ہنستا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 148
وہ پاس آ بھی گیا پھر بھی دور بستا ہے
کہ جیسے جھیل میں چندا اُتر کے ہنستا ہے
بہ فیضِ وقت ہیں خیمے تمام استادہ
جو توڑ توڑ طنابیں بھی ان کی کستا ہے
وہ برگ گل ہے وہ تتلی کے ہے پروں جیسا
نظر کی آنچ سے اس کا بدن جھلستا ہے
جو ذی مقام ہے، ذی زر ہے، ذی شرف بھی ہے
اسی کا قولِ مبارک اک اک خجستا ہے
سعادتیں بھی سبھی ایٹنٹھتے ہیں زروالے
انہی کے واسطے قُربِ خدا بھی سستا ہے
بندھی ہیں گنجلکیں جن میں خراب نیّت کی
ہماری زیست بھی پٹواریوں کا بستا ہے
ماجد صدیقی

میں کِشتِ تاریخ میں پھر سے پُھوٹ چلا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
باپ تھا بیٹے کا اب پوتے کا دادا ہُوں
میں کِشتِ تاریخ میں پھر سے پُھوٹ چلا ہوں
اپنی نسل کے بڑھنے کا بھی سرور عجب ہے
میں جو ایک تھا اپنے آپ میں سَو لگتا ہوں
میرے انگناں اُتری ہے پھر صبحِ درخشاں
جس کی کرنوں سے میں اور دمک اُٹھا ہوں
میری جبیں اب اور منوّر ہونے لگی ہے
میں کہ شبانِ پیہم کا اِک جلتا دِیا ہوں
میرے جَنے ہوں گے کچھ اور لطافت پیشہ
میں جو گُلوں بگھیوں پر تتلی سا اُڑتا ہوں
اُس کی حیات میں، اُس کے فروغ میں، میری بقا ہے
اُس کے جنم کے ناتے میں ذی شان ہُوا ہوں
ماجِد فیض مرے ملکِ آزاد کا ہے یہ
ملک سے باہر بھی اب میں جیتا بستا ہوں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑