تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

بری

شہ نگر میں یہ کھلبلی کیوں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 220
دل کی بستی اجاڑ سی کیوں ہے
شہ نگر میں یہ کھلبلی کیوں ہے
کونسی آگ کو ملی یہ ہوا
شہر بھر میں یہ سنسنی کیوں ہے
بھاگ اُلجھائے جو رعایا کے
اُلجھنوں سے وہی بری کیوں ہے
جسم تڑخے ذرا سی آنچ سے کیوں
یہ زمیں اِتنی بُھربھری کیوں ہے
وہ جو دندانِ آز رکھتے ہیں
ڈور ایسوں کی ہی کُھلی کیوں ہے
چال سہنے کی حکمِ ناخلفاں
اِک ہمِیں سے چلی گئی کیوں ہے
بے نیازی ہرایک منصف کی
اِک ہمِیں نے ہی بھگتنی کیوں ہے
تھی جو ماجد! عطائے استغنا
سلطنت ہم سے وہ چِھنی کیوں ہے
ماجد صدیقی

آنکھ میں آشتی تُجھی سے ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 142
دل کی آسودگی تُجھی سے ہے
آنکھ میں آشتی تُجھی سے ہے
روح افزا و گُلستاں پرور
پنکھڑی پنکھڑی تُجھی سے ہے
تیرے قدموں سے ضَوفشاں ذرّے
رہ بہ رہ زرگری تُجھی سے ہے
چند دن ہیں حیات کا عنواں
اُن دنوں کی شہی تُجھی سے ہے
تونے الزام دھو دئے سارے
زندگانی بَری تُجھی سے ہے
لوگ مانیں گے ایک دن ماجد!
رفعتِ شاعری تُجھی سے ہے
اپنے نام
ماجد صدیقی

ہم میں ہے جو اِس قدر بھی سادگی اچّھی نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
جنگلوں میں میش کی سی بے بسی اچّھی نہیں
ہم میں ہے جو اِس قدر بھی سادگی اچّھی نہیں
دل میں تُو اہلِ ریا کے بیج چاہت کے نہ بو
اِس غرض کو یہ زمیں ہے بُھربھُری،اچّھی نہیں
ہر سفر ہے آن کا بَیری اور اُس کے سامنے
اور جو کچھ ہو سو ہو پہلو تہی اچّھی نہیں
ظرفِ انساں ہی کے سارے رنگ ہیں بخشے ہوئے
چیز اپنی ذات میں کوئی بُری، اچّھی نہیں
ہو کے رہ جاتی ہے اکثر یہ عذابِ جان بھی
ہوں جہاں اندھے سبھی، دیدہ وری اچّھی نہیں
کچھ دنوں سے تجھ کو لاحق ہے جو ماجدؔ دمبدم
جان لے مشکل میں ایسی بے دلی اچّھی نہیں
ماجد صدیقی

مکر کی اُس میں صنّاعی دکھلائی دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
بات بظاہر جو بھی کھری دکھلائی دے
مکر کی اُس میں صنّاعی دکھلائی دے
ماند کرے پل بھر میں گردِ ریا اُس کو
باغ میں کھِلتی جو بھی کلی دکھلائی دے
عُمر کی گاڑی جس کو پیچھے چھوڑ آئی
اُس جیسی اَب کون پری دکھلائی دے
دن کو بھی اَب یُوں ہے جیسے آنکھوں میں
سُرمے جیسی رات سجی دکھلائی دے
کینچلیوں سی برگ و شجر سے اُتری جو
آنے والی رُت بھی وُہی دکھلائی دے
آنکھ کا عالم پُوچھ نہ اُس کے بچھڑنے پر
کاسۂ گُل میں اوس بھری دکھلائی دے
تُو اُس مارِسیہ سے دُور ہی رہ
نیّت جس کی تجھ کو بُری دکھلائی دے
ماجد صدیقی

بخت پہنچے نہ یاوری کرنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 145
وسوسوں میں مرے کمی کرنے
بخت پہنچے نہ یاوری کرنے
شاخِ گل پر گلوں سے کانٹے بھی
جا اُگے ہیں برابری کرنے
جس نے پتّھر ہمیں بنا ڈالا
پھر نہ آیا وہ ساحری کرنے
آ کے صحرا میں دُھوپ کے اُتری
اوس پھولوں سے دوستی کرنے
عدل کب خود پہ حرف آنے دے
کون آئے ہمیں بری کرنے
بس کہیں بھی نہ جب چلے ماجدؔ
بیٹھ رہتے ہیں شاعری کرنے
ماجد صدیقی

ہم پہ ممنوع پھر وہ گلی ہو گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
بات ڈرتے تھے جس سے وُہی ہو گئی
ہم پہ ممنوع پھر وہ گلی ہو گئی
جب سے اُس سے معنون ہوئی شاعری
چیز کھوٹی تھی لیکن کھری ہو گئی
میرے حرفوں میں جب سے اُترنے لگی
اور بھی ہے وُہ صورت جلی ہو گئی
چاند بھی عکس اُس کا دکھائے نہ اب
یہ ملاقات بھی سرسری ہو گئی
پھر صبا نے جگائے بُجھے ولولے
شاخ اندوہ کی پھر ہری ہو گئی
وہ ستم گر بھی مانگے ہے دادِ ستم
لو شقاوت بھی اَب ساحری ہو گئی
ہوتے ہوتے زمانے کی تحریک پر
اپنی نیّت بھی ماجدؔ بُری ہو گئی
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑