تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

بدلنے

سماں یہی ہے رگوں میں لہو مچلنے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
تمہاری دِید کے طرفہ الاؤ جلنے کا
سماں یہی ہے رگوں میں لہو مچلنے کا
گرا نگاہ سے مانندِ خس وہی جس کا
اُفق سے مہر سا انداز تھا نکلنے کا
خیال میں وہی ہجر و وصال اُس بُت کا
نگاہ میں وہی منظر رُتیں بدلنے کا
نجانے خوف وہ کیا ہے کہ جس سے لاحق ہے
رُتوں کو خبط نئی کونپلیں مسلنے کا
کٹی جو ڈور تو پھر حرصِ اَوج کیا معنی
کہاں سے ڈھونڈتے پہلو کوئی سنبھلنے کا
نفس نفس ہے الاؤ جبھی تو ہے ماجدؔ
ہمیں یہ حوصلہ چنگاریوں پہ چلنے کا
ماجد صدیقی

رگوں سے شہر کی، فاسد لہو نکلنے دو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
ریا کی زد پہ ہے کب سے اسے سنبھلنے دو
رگوں سے شہر کی، فاسد لہو نکلنے دو
جو اُن کے جسم پہ سج بھی سکے مہک بھی سکے
رُتوں کو ایسا لبادہ کوئی بدلنے دو
کسی بھی بام پہ اب لَو کسی دئیے کی نہیں
چراغِ چشم بچا ہے اسے تو جلنے دو
بچے گا خیر سے شہ رگ کٹے پہ بسمل کیا
ذرا سی ڈھیل اِسے دو، اِسے اُچھلنے دو
چلن حیات کا ماجدؔ بدل بھی لو اپنا
جو سر سے ٹلنے لگی ہے بلا وہ ٹلنے دو
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑