تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ببول

اب کے پت جھڑ ایسی آئی ہم بھی ہوئے ملول میاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
گلشن گلشن گرد برستی کرنی پڑی قبول میاں
اب کے پت جھڑ ایسی آئی ہم بھی ہوئے ملول میاں
کیوں اُس بات کے کھوجی ٹھہرے تم میری رسوائی کو
میں جو بات چھپانا چاہوں بات کو دے کر طول میاں
کام کی بات تلاش کرو تو ریت میں سونے جیسی ہے
کہنے کو لوگوں نے کہا ہے کیا کیا کچھ نہ فضول میاں
ہم جوگی۔ ہم روگی خود ہی اپنے روگ مٹا لیں گے
جان کے درد ہمارے تم کیوں ہونے لگے ملول میاں
میں شہروں کا قیس ہوں میرے گلشن بھی ہیں صحرا سے
ذہنوں سی زرخیز زمیں میں دیکھوں اُگے ببول میاں
ماجدؔ کیسے ہاتھ لگا ہے میرؔ سا یہ اندازِ سخن
سوچی ہیں یا اِن باتوں کا دل پر ہوا نزول میاں
ماجد صدیقی

بدلیں چمن کے بس ایسے سارے ہی اصول تو کیا اچّھا ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
پھول پہ منڈلاتی تتلی لے بھاگے پُھول تو کیا اچّھا ہو
بدلیں چمن کے بس ایسے سارے ہی اصول تو کیا اچّھا ہو
ہجر کی گھڑیاں بُجھتی سی چنگاریوں سی راکھ ہوتی جائیں
اُس کے وصل کا لمحہ لمحہ پکڑے طُول تو کیا اچّھا ہو
جو پودا بھی بیج سے پھوٹے کاش وہ پودا سرو نشاں ہو
خاک پہ اُگنے ہی سے اگر باز آئیں ببول تو کیا اچّھا ہو
کاش ہماری جلدوں کے اندر سے جھلکے علم کا غازہ
اپنے چہروں سے دھل جائے جُہل کی دھول تو کیا اچّھا ہو
جس سے بہم میدانِ عمل ہو پھر سے کسی گستاخِ خدا کو
گاہے گاہے سرزد ہو گر ہم سے وہ بھول تو کیا اچّھا ہو
ماجِد کرتے رہو نت تازہ اپنے گلشنِ ذہن کا منظر
پیڑوں سے جھڑ جھڑجائے جو کچھ ہو فضول تو کیا اچّھا ہو
ماجد صدیقی

مردُود، بہت مقبول ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا
مردُود، بہت مقبول ہُوا
ہر طُول کو عرض کیا اُس نے
اور عرض تھا جو وہ طُول ہُوا
پھولوں پہ تصّرف تھا جس کا
وہ دشت و جبل کی دھُول ہُوا
اِک بھول پہ ڈٹنے پر اُس نے
جو کام کیا، وہ اصول ہُوا
گنگا بھی بہم جس کو نہ ہُوا
جلنے پہ وہ ایسا پھول ہُوا
ہو کیسے سپھل پیوندوں سے
ماجد جو پیڑ، ببول ہُوا
ماجد صدیقی

آگ لگتے ہوں جس کے پھول مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے
آگ لگتے ہوں جس کے پھول مجھے
جس سے ٹھہرا تھا میں بہشت بدر
سخت مہنگی پڑی وہ بھُول مجھے
بزم در بزم، کرب کا اظہار
کر نہ دے اور بھی ملول مجھے
بات کی میں نے جب مرّوت کی
وہ سُجھانے لگے اصول مجھے
دیکھ کر دشت میں بھی طالبِ گل
گھُورتے رہ گئے ببول مجھے
جس کا ابجد ہی اور سا کچھ تھا
بھُولتا کب ہے وہ سکول مجھے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑