تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

بار

وہ نہ مَے سی نگار میں پایا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 185
جو مزہ لمسِ یار میں پایا
وہ نہ مَے سی نگار میں پایا
مدّعا پیڑ کے پنپنے کا
پیڑ کے برگ و بار میں پایا
عکسِ وصل و قرابتِ جاناں
موسموں کے نکھارمیں پایا
لطف، صبح و شبانِ ہجراں کا
چشمِ اخترشمار میں پایا
طَور اِک ایک سے الجھنے کا
دیدۂ ہوشیار میں پایا
خوف کیا کیا اِن اپنی آنکھوں نے
اپنے سہمے دیار میں پایا
وصف کِھلنے کا اور مہکنے کا
ماجدِ گل شعار میں پایا
ماجد صدیقی

پڑے گا تا عُمر اَب یہی کاروبار کرنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
شجر سے گرتا ہر ایک پتّا شمار کرنا
پڑے گا تا عُمر اَب یہی کاروبار کرنا
قفس سے جاتی ہوئی ہواؤ، ستمگروں پر
ہماری حالت کُچھ اور بھی آشکار کرنا
یہی تأمّل کا درس ہے اُس کی کامرانی
عقاب سیکھے فضا میں رُک رُک کے وار کرنا
بنامِ خوبی جو ہم سے منسوب ہے، وفا کا
یہ دشت بھی ہے ہمیں اکیلے ہی پار کرنا
ہیں اِس پہ پہلے ہی کتنے احسان مُحسنوں کے
نظر کو ایسے میں اور کیا زیر بار کرنا
طلب اِسی زندگی میں جنّت کی ہے تو ماجدؔ
نہ خبط اعصاب پر کوئی بھی سوار کرنا
ماجد صدیقی

فغاں کی طرز وُہی ہم بھی اختیار کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
جِسے پسند جہاں بھر کے شہر یار کریں
فغاں کی طرز وُہی ہم بھی اختیار کریں
ہوئے ہیں پھول بھی آمادۂ شرارت کیا
ہمِیں سے ذکر تمہارا جو بار بار کریں
جو مصلحت کو پسِ حرف دَب کے رہ جائے
وُہ بات کیوں نہ زمانے پہ آشکار کریں
ہمیں یہ کرب کہ کیوں اُن سے ربط ہے اپنا
اُنہیں یہ آس کہ ہم جان و دل نثار کریں
لبوں پہ عکس ہے جو آئنہ اِنہی کا ہے
زباں کے زخم بھلا اور کیا شمار کریں
یہ رات کوہ نہیں کٹ سکے جو تیشوں سے
سحر کی دُھن ہے تو کُچھ اور انتظار کریں
کھُلا ہے ہم پہ تمّنا کا حال جب ماجدؔ
تو ایسے کانچ سے کیا انگلیاں فگار کریں
ماجد صدیقی

پہلے سے بھی بڑھ کر کہیں بیزار کرے ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
جو شخص بھی ہم سے کوئی اقرار کرے ہے
پہلے سے بھی بڑھ کر کہیں بیزار کرے ہے
وُہ سُود بھی ذمّے ہے ہمارے کہ طلب جو
درباں تری دہلیز کا ہر بار کرے ہے
ممکن ہی کہاں بطن سے وُہ رات کے پھُوٹے
چہروں کو خبر جو سحرآثار کرے ہے
دیتے ہیں جِسے آپ فقط نام سخن کا
گولہ یہ بڑی دُور تلک مار کرے ہے
ہر چاپ پہ اٹُھ کر وُہ بدن اپنا سنبھالے
کیا خوف نہ جانے اُسے بیدار کرے ہے
پہنچائے نہ زک اور تو کوئی بھی کسی کو
رُسوا وُہ ذرا سا سرِ بازار کرے ہے
کس زعم میں ماجدؔ سرِ دربار ہمیں تُو
حق بات اگلوا کے گنہگار کرے ہے
ماجد صدیقی

یہ سانحہ، کوئی بڑی سرکار نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
ہے کس کو یہاں کون سا آزار، نہ جانے
یہ سانحہ، کوئی بڑی سرکار نہ جانے
جانے نہ کرے تیرگی کیا، اُس کی نمایاں
جگنو کا کِیا، کوئی شبِ تار نہ جانے
مٹی کو وہ بستر کرے، بازو کو سرہانہ
جو خانماں برباد ہے، گھر بار نہ جانے
چیونٹی کو ہمیشہ کسی چوٹی ہی سے دیکھے
عادل، کسی مظلوم کی تکرار نہ جانے
پینے کو بھی چھوڑے نہ کہیں، آبِ مصفّا
سیلاب ستم کا، کوئی معیار نہ جانے
کس درجہ جُھکانا ہے یہ سر، عجز میں ماجدؔ
بندہ ہی یہ جانے، کوئی اوتار نہ جانے
ماجد صدیقی

یہ ستم مجھ پہ بار بار نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
غیر پر اتنا اعتبار نہ کر
یہ ستم مجھ پہ بار بار نہ کر
گل پریشاں ہُوا مہک کھو کر
حالِ دل تو بھی آشکار نہ کر
میں گیا وقت جا چکا ہوں ،مرے
لوٹ آنے کا انتظار نہ کر
ہم کہ ہیں چاہتوں کے متوالے
ہم سے اغماض اے نگار! نہ کر
تو کسی ایک ہی کا ہو کر رہ
خُو کوئی اور اختیار نہ کر
ماجد صدیقی

یہ ستم مجھ پہ بار بار نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
غیر پر اتنا اعتبار نہ کر
یہ ستم مجھ پہ بار بار نہ کر
گل پریشاں ہُوا مہک کھو کر
حالِ دل تو بھی آشکار نہ کر
میں گیا وقت جا چکا ہوں ،مرے
لوٹ آنے کا انتظار نہ کر
ہم کہ ہیں چاہتوں کے متوالے
ہم سے اغماض اے نگار! نہ کر
تو کسی ایک ہی کا ہو کر رہ
خُو کوئی اور اختیار نہ کر
ماجد صدیقی

خزاں کے دور میں ذکرِ بہار کیا کرنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 119
لب و زبان کو ماجدؔ! فگار کیا کرنا
خزاں کے دور میں ذکرِ بہار کیا کرنا
جسے ترستے بجھی ہیں بصارتیں اپنی
اب اُس سحر کا ہمیں انتظار کیا کرنا
نہ کوئی مدّ مقابل ہو جب برابر کا
تو رن میں ایسی شجاعت شمار کیا کرنا
یہ سر خجل ہے ٹھہرتا نہیں ہے شانوں پر
اِسے کچھ اور بھی اب زیر بار کیا کرنا
نہاں نہیں ہے نگاہوں سے جب کِیا اُس کا
کہے پہ اُس کے ہمیں اعتبار کیا کرنا
سبک سری میں جوہم پر کیا ہے دُشمن نے
جواب میں ہمیں ایسا ہی وار کیا کرنا
ماجد صدیقی

نہیں لیکن لبِ اظہار رکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 89
سلگنا جان میں آزار رکھنا
نہیں لیکن لبِ اظہار رکھنا
عقیدت کے چڑھاوے چاہئیں تو
بڑے مخصوص سے اطوار رکھنا
کرم بھی ہو جو محتاجوں پہ کرنا
اُنہیں پہلے ذرا بے زار رکھنا
تأثر مہربانی کا نظر میں
خشونت کے بھی ساتھ آثار رکھنا
ہر اِک منظر نیا دوزخ بنے گا
یہاں مت دیدۂ بیدار رکھنا
اماں کو، پنجۂ انسان سے بھی
پڑے ہیں آہنی اوزار رکھنا
بڑا مشکل ہے اَب ماجدؔ چمن میں
سلامت اپنے برگ و بار رکھنا
ماجد صدیقی

اُسی سے رشتہ مرا بھی کچھ دُور پار کا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
بہ کشتِ غیراں جو شوخ موسم بہار کا ہے
اُسی سے رشتہ مرا بھی کچھ دُور پار کا ہے
ہم اپنی شاخوں سے زمزمے جھاڑنے لگے ہیں
کہ اب تو کھٹکا تباہیٔ برگ و بار کا ہے
بھٹکنے والا اَڑا کے پیروں میں باگ اپنی
نجانے گھوڑا یہ کس لُٹے شہ سوار کا ہے
ہَوا بھی آئے تو کاٹنے سی لگے بدن کو
وہ خوف، زنداں میں تیغِ قاتل کی دھار کا ہے
بلا سے صیّاد راہ میں گر کماں بکف ہے
ہمیں تو اُڑنا ہے رُخ جدھر اپنی ڈار کا ہے
ہَوا پہ جیسی گرفت ماجدؔ حباب کو ہو
ہمیں بھی زعم اُس پہ بس وہی اختیار کا ہے
ماجد صدیقی

سچ لٹکتا ہے ہمیشہ دار سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
بچ نہیں سکتا رِیا کے وار سے
سچ لٹکتا ہے ہمیشہ دار سے
دُور کرنے راہ چلتوں کی تھکن
جھانکتی ہے بیل اِک دیوار سے
ڈھل گیا آخر تناؤ شاخ کا
عجز کے سجدوں میں، برگ و بار سے
جس میں ہو تاب و تواں ایقان کی
وُہ بدن کٹتا نہیں تلوار سے
کس نے آنا تھا بھلا لینے ہمیں
سر اٹھاتے بھی تو کیا منجدھار سے
دل مرا چڑیا کے بچّے کی طرح
دم بخود ہے حرص کی یلغار سے
سر جُھکے ماجدؔ دعا کو کس قدر
پوچھ لو یہ بھی کسی اوتار سے
ماجد صدیقی

لاحق ہونے کو ہے کیا آزار مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
آگ نظر آتا ہے ہر گلزار مجھے
لاحق ہونے کو ہے کیا آزار مجھے
شاید یوں تن کی عریانی ڈھانپ سکوں
بُننے ہیں اس پر ریشم کے تار مجھے
گرد کی چادر، زخم بریدہ شاخوں کے
موسم نے کیا برگ دئیے کیا بار مجھے
سیکھا مَیں نے جب سے فن تیراکی کا
روز پکارے ساحل سے منجدھار مجھے
ماجدؔ میرا روگ ہے رفعت ماتھے کی
راس نہیں آتا کوئی دربار مجھے
ماجد صدیقی

جو اَوج نشیں ہے مرا آزار نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
صحنوں کی گھُٹن شہر کا مینار نہ جانے
جو اَوج نشیں ہے مرا آزار نہ جانے
وہ پارچہ نازش کسی سر کی ہے، یہ نکتہ
قدموں میں گرائی گئی دستار نہ جانے
جانے نہ کرے تیرگی کیا، اُس کی نمایاں
جگنو کا کِیا، کوئی شب تار نہ جانے
مٹی کو وہ بستر کرے، بازو کو سرہانہ
جو خانماں برباد ہے،گھر بار نہ جانے
پینے کو بھی چھوڑے نہ کہیں، آبِ مصفّا
سیلاب ستم کا، کوئی معیار نہ جانے
ژالے کبھی پچھتائیں نہ چڑیوں پہ برس کے
سنگینیِ اِیذا کوئی اوزار نہ جانے
ہر غیب عیاں اُس پہ بقول اُس کے ہے ماجد
جو روگ ہمیں ہیں، کوئی اوتار، نہ جانے
ماجد صدیقی

دیکھو تو بدن ہم دونوں کے کیسے باہم دوچار ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
کس اَن ہونی کے ہونے سے یُوں مطلعِٔ صدا انورا ہوئے
دیکھو تو بدن ہم دونوں کے کیسے باہم دوچار ہوئے
کمیاب تھی ساعتِ قرب تری کیا کُچھ نہ ہُوا جب دَر آئی
ہم چاند بنے ہم مہر ہوئے ہم نُور بنے ہم نار ہوئے
سادہ سا وُہ حرفِ اذن ترا اور مہلت پھر یکجائی کی
فرصت تو فقط اِک شب کی تھی پر دور بڑے آزار ہوئے
باوصفِ کرم، جو الجھن تھی وُہ اور کسی ڈھب جا نہ سکی
آخر کچھ وحشی جذبے ہی ہم دونوں کے غمخوار ہوئے
کیا چیت کی رُت اور کیا ساون جب سے دیکھا ہے اساڑھ ترا
سُونا ہے نگاہوں کا آنگن سب موسم اِس پر بار ہوئے
مُدّت سے ترستے تھے دِل میں جو لذّتِ یکدم کو ماجدؔ
تسکین ملے پر وُہ جذبے آخر کیُوں پُراسرار ہوئے
ماجد صدیقی

تُجھ سے ملے تو ابرِ گہر بار ہو گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
سب سرحدوں سے شوق کی ہم پار ہو گئے
تُجھ سے ملے تو ابرِ گہر بار ہو گئے
ہر جنبشِ بدن کے تقاضے تھے مختلف
جذبے تمام مائلِ اظہار ہو گئے
زندہ رہے جو تُجھ سے بچھڑ کر بھی مُدّتوں
ہم لوگ کس قدر تھے جگردار ہو گئے
اپنے بدن کے لمس کی تبلیغ دیکھنا
ہم سحرِ آذری کے پرستار ہو گئے
دو وقت، دو بدن تھے، کہ جانیں تھیں دو بہم
رستے تمام مطلعِٔ انوار ہو گئے
ماجد ہے کس کا فیضِ قرابت کہ اِن دنوں
پودے سبھی سخن کے ثمردار ہو گئے
ماجد صدیقی

پر نمایاں تری آمد کے نہ آثار ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
پھُول انوار بہ لب، ابر گہر بار ہوئے
پر نمایاں تری آمد کے نہ آثار ہوئے
کچھ سزا اِس کی بھی گرہے تو بچیں گے کیسے
ہم کہ جو تُجھ سے تغافل کے گنہگار ہوئے
ہونٹ بے رنگ ہیں، آنکھیں ہیں کھنڈر ہوں جیسے
مُدّتیں بِیت گئیں جسم کو بیدار ہوئے
وُہ جنہیں قرب سے تیرے بھی نہ کچھ ہاتھ لگا
وُہی جذبات ہیں پھر درپئے آزار ہوئے
جب بھی لب پر کسی خواہش کا ستارا اُبھرا
جانے کیا کیا ہیں اُفق مطلعٔ انوار ہوئے
اب تو وا ہو کسی پہلو ترے دیدار کا در
یہ حجابات تو اب سخت گراں بار ہوئے
چھیڑ کر بیٹھ رہے قصّۂ جاناں ماجدؔ
جب بھی ہم زیست کے ہاتھوں کبھی بیزار ہوئے
ماجد صدیقی

ہمارے نام ہی موسم کی ہر پھٹکار ہو جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
ہماراتن بدن ہی جھاڑ ہو، جھنکار ہو جیسے
ہمارے نام ہی موسم کی ہر پھٹکار ہو جیسے
ذرا سا بھی جو بالا دست ہو، ہم زیر دستوں کے
سِدھانے کو وُہی سب سے بڑی سرکار ہو جیسے
یہاں مخصوص ہے ہر دم جو چڑیوں فاختاؤں سے
اُنہی سا کچھ ہماری جاں کو بھی آزار ہو جیسے
پتہ جس کا صحیفوں میں دیا جاتا ہے خلقت کو
نفس میں اِک ہمارے ہی، وُہ ساری نار ہو جیسے
ہمیں ہی در بہ در جیسے لئے پھرتا ہے ہر جھونکا
وجود اپنا ہی ماجدؔ اِس زمیں پر بار ہو جیسے
ماجد صدیقی

چاند بھی دل پہ اپنے، بار لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
غیر جب سے وُہ اپنا یار لگا
چاند بھی دل پہ اپنے، بار لگا
کھو گیا آنکھ سے دھنک جیسا
جو بھی ماحول، سازگار لگا
بڑھتی دیکھی جو رحمتِ یزداں
ابر بھی مجھ کو، آبشار لگا
کر کے وا چشمِ اِنبساط مری
آشنا، پھر نہ وُہ نگار لگا
آنکھ جب سے کھُلی،دل و جاں پر
شش جہت جبر کا حصار لگا
تھا جو ماجدؔ پسِ نگاہ تری
بھید سب پر وُہ، آشکار لگا
ماجد صدیقی

اُمیدوں کی ٹھِٹھڑی کُونجیں کون سے دیس سُدھار چلیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
ایک ذرا سی رُت بدلی تو سب کی سب اُس پار چلیں
اُمیدوں کی ٹھِٹھڑی کُونجیں کون سے دیس سُدھار چلیں
لے جائے کس اور نجانے عمر یہ بھُول بھلّیوں کی
کہنے کو کچھ دوشیزائیں مل کر ہیں بازار چلیں
ظاہر میں میدان سکوں کا جو اِس دل کے ہاتھ رہا
ٹِک ٹِک شور مچاتی گھڑیاں وُہ میدان بھی مار چلیں
ہر حیلہ ناکام رہا بیمار کی جان بچانے کو
چلنے کو تو رُک رُک جاتی سانسیں سو سو بار چلیں
جی داری کے فیض سے زندہ ہیں ورنہ ہر آنگن سے
طعن کی کیا کیا کنکریاں ہم پر بھی ماجدؔ یار چلیں
ماجد صدیقی

کہ دم بہ دم ہے بہاروں کا انتظار ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
چمن پہ ہے تو بس اِتنا سا اختیار ہمیں
کہ دم بہ دم ہے بہاروں کا انتظار ہمیں
مچلتی لُو کا فلک سے برستے ژالوں کا
نہ جانے کون سا موسم ہو ساز گار ہمیں
ہر اِک قدم پہ وہی تجربہ سکندر سا
کسی بھی خضر پہ کیا آئے اعتبار ہمیں
ذرا سا سر جو اٹھا بھی تو سیل آلے گا
یہی خبر ہے سُنائے جو، اِنکسار ہمیں
مہک تلک نہ ہماری کسی پہ کھُلنے دے
کِیا سیاستِ درباں نے یوں شکار ہمیں
جو نقش چھوڑ چلے ہم اُنہی کے ناطے سے
عزیز، جان سے جانیں گے تاجدار ہمیں
بپا جو ہو بھی تو ہو بعدِ زندگی ماجد
یہ حشر کیا ہے جلائے جو، بار بار ہمیں
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑