تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

باد

حکمراں میرے وطن کے! احمدی نژاد بن

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
آج کے اِس عہد شیریں کا نیا فرہاد بن
حکمراں میرے وطن کے! احمدی نژاد بن
فکر کر امروز کی اور فکرِ فردا چھوڑ دے
چھوڑ سارے وسوسے تو بندۂ آزاد بن
نقش کر کے آ گزرتی ساعتوں پر اپنا دل
ہاتھ سے نکلے زمانوں کی سہانی یاد بن
عظمت انسان کے یا ناتواں کے کرب کے
کر وظیفے رات دن اور حافظ اوراد بن
فتح کر لے خوبیوں سے جو نگر والوں کے دل
خوشبوؤں سے لیس ہو کر آئے جو، وہ باد بن
خدمت خلقت کا جس کو ہو فراہم مرتبہ
باعثِ آسودگی ٹھہرے جو، وہ ایجاد بن
گھرترا، تیرا سخن ’ماجد نشاں، ہے اور تو
جانِ ماجد فکر تازہ سے سخن آباد بن
ماجد صدیقی

جس کے کندھوں پر ابھی تک بوجھ ہے اجداد کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
کیا ادا کر پائے گا وہ شخص حق اولاد کا
جس کے کندھوں پر ابھی تک بوجھ ہے اجداد کا
جاں سے جانے میں تو کچھ ایسی کسر باقی نہ تھی
اتفاقاً وار ہی اوچھا پڑا صّیاد کا
لٹ چکی شاخوں کے زیور اُن کو لوٹائے گا کون
لاکھ اب مونس سہی موسم یہ ابر و باد کا
رتبۂ پیغمبری سے ہو تو ہو اِس کا علاج
ورنہ مشکل ہے سِدھانا پیٹ سے شدّاد کا
آج کی اِک پل بھی کر لو گے جو پابندِ قلم
مرتبہ پاؤ گے ماجدؔ مانی و بہزادؔ کا
ماجد صدیقی

دکھاتا ہے چلن صّیاد کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 98
ستم کرنے لگا ایجاد کیا کیا
دکھاتا ہے چلن صّیاد کیا کیا
فلک کی بے کراں پہنائیوں میں
بھٹکتی ہے مری فریاد کیا کیا
زمانہ باپ ہے شیریں کا جس نے
ہٹائے راہ سے فرہاد کیا کیا
کہا جب کچھ خلافِ طبع اُس کے
کِیا اُس نے بھی پھر ارشاد کیا کیا
مجھے تشنہ سمجھ کر، خستّوں پر
اُتر آئے ہیں ابر و باد کیا کیا
جھلکتے ہیں تِرے شعروں میں ماجدؔ
نجانے مانی و بہزاد کیا کیا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑